۲جماعت نے پاکستان کی سامراجی بلاکوں یا دولت مشترکہ سے وابستگی کی مخالف کی۔ اسلامی باک کے قیام کی تجویز پیش کی۔ سرمایہ داری اورجاگیرداری کی مخالفت کی۔ اسلامی معیشت کے نفاذ کا مطالبہ کیا۔
۳کل پاکستان اجتماع لاہور میں منعقد ہوا۔
۴مولانا سعد الدین، مولانا غلام نبی قاسمی، سید علی گیلانی کشمیر میں قائدین ٹھہرے۔
۱علماء نے 22 نکاتی دستوری خاکہ بالاتفاق حکومت کو پیش کیا۔
۲جماعت نے اینگلو امریکی بلاک اور اشتراکی بلاک کو فاسد و مفسد قرار دیا۔
۳ککری گرائونڈ کراچی میں دوسرا کل پاکستان اجتماع منعقد ہوا۔
۴جماعت اسلامی نے انتخابات پنجاب میں حصہ لیا۔ حکومت نے جماعت کا اخبار بند کر دیا۔ پریس نے جماعت کا عملاً بائیکاٹ کیا۔ حکومتی ایماء پر جھوٹے پراپیگنڈے کی مہم چلائی۔ ایک نمائندہ منتخب ہوا۔
۵اس وقت کل کارکن 3,500تھے۔ 1700نئے کارکن بنے۔ سوا دو لاکھ ووٹ ملے۔ ایک لاکھ ستائیس ہزار روپے خرچ آئے۔
۱مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ نے قرآن پاک میں مذکورہ مقامات کا سفر کیا۔ اس دوران مختلف ممالک میں دروس دیے۔ نومبر 1959 سے فروری 1960 تک چار ماہ پر محیط سفر رہا۔
۲مولانا عاصم الحداد اس سفر میں ہمراہ تھے انھوں نے اس سفر کی روداد ’’سفرنامہ ارض القرآن‘‘ میں بیان کی۔
۳مشرق وسطیٰ میں بہت سی دینی اور سیاسی شخصیات سے بھی تعارف و تعلق پیدا ہوا۔
۱پابندی کے دنوں میں جماعت اسلامی کے تمام دفاتر بند رہتے اور کام معطل رہتا تھا۔ کیوںکہ مولاناؒ غیر قانونی اور زیر رمین کارروائیوں کے حق میں نہ تھے اور جماعت کا دستور بھی ان کی اجازت نہ دیتا تھا۔ دینی تعلیم کے ادارے اور طلبہ کے حلقے بنے تربیتی قسم کے پروگرام مختلف ناموں سے یا بغیر نام کے جاری رہے۔
۱جماعت کو خلاف قانون قرار دے دیا گیا۔ تمام ارکان شوریٰ جیل میں دفاتر سر بہ مہر
۲سرکاری ذرائع ابلاغ نے جھوٹے پراپیگنڈے کی مہم چلائی۔
۳سپریم کورٹ نے جماعت بحال کر دی۔
۴صدر ایوب مرحوم کو بنیادی حقوق کے ترمیمی بل پر دستخط کرنے پڑے۔
۵متحدہ حزبِ اختلاف بنی، جماعت شامل ہوئی۔ محترمہ فاطمہ جناح کوامیدوار نامزد کیا۔
۶جماعت کو مشرقی ا ور مغربی پاکستان کی صوبائی اسمبلیوں میں صرف ایک ایک نشست مل سکی۔
۷جماعت نے ایوب خان کے دھن، دھونس، دھاندلی کی بنیاد پر صدر منتخب ہونے کے خلاف اسمبلیوں کےانتخاب کے بائیکاٹ کی تجویز دی جو متحدہ حزب اختلاف کی ہائی کمان نے منظور نہیں کی۔
۱6ستمبر پاک بھارت جنگ میں جماعت نے حکمت کو بھرپور تعاون پیش کیا۔
۲متاثرین علاقے میں طبی کیمپ قائم کیے۔ ایک لاکھ 14ہزار 747مریضوں کو طبی امداد دی۔
۳مجاہدین کشمیر کے لیے جماعت کا کام تمام اداروں کے مجموعی کام سے بھی زیادہ تھا۔
۴’’مسئلہ کشمیر‘‘ پانچ زبانوں میں شائع کرا کر دنیا کے ملکوں میں تقسیم کیا گیا۔ ایک لاکھ تین ہزار کشمیریوں کو طبی امداد دی گئی۔ تین لاکھ 94ہزار602روپے جمع کیے گئے۔
۱31جنوری بوجہ علالت مولاناؒ مجلس عاملہ نے جناب میاں طفیل محمدؒ کو قائم مقام امیر منتخب کیا۔
۲عمان کانفرنس اور موتم عالم اسلام میں چودھری غلام محمد مرحوم نے مولانا مودودیؒ کی نمائندگی کی۔
۳ایوبی آمریت کے خلاف تحریک جمہوریت میں جماعت بھی پیش پیش تھی۔
۴شوال کا چاند دیکھے بغیر سکاری عید کے اعلان کی مخالفت کے جرم میں مولانا کو گرفتار کر لیا گیا۔
۵عرب اسرائیل جنگ میں بے گھر ہونے والے فلسطینی اورعرب بھائیوں کی امداد کے لیے ساڑھے تین لاکھ روپے کا سامان جمع کیا گیا،مگر حکومت نے پہنچانے نہ دیا بالآخر سرکاری فنڈ میں جمع کرا دیا گیا۔
۶پروفیسر خورشید احمد کی ادارت میں ماہنامہ چراغ راہ کراچی نے سوشلزم نمبرشائع کیا۔
۷کسان بورڈ بنا محمد اشرف باجوہ پہلے صدر نامزد ہوئے۔
۲سٹوڈنٹس یونین بحال ہوئیں۔ حافظ ادریس، تسنیم عالم منظر شہید، اعجاز شفیع گیلانی اپنی جامعات کے صدر منتخب ہوئے۔
۳ڈھاکہ یونیورسٹی کے ناظم جمعیت عبدالمالک کو شہید کر دیا گیا۔
۴گوجرانوالہ جماعت کے کارکن محمد اسماعیل شہید ہوئے۔ پلٹن میدان ڈھاکہ میں جماعت کے جلسہ پر مسلح عوامی لیگی حملہ 3کارکن شہید، ایک ہزار زخمی ہوئے۔ انتخابات میں جماعت نے حصہ لیا۔
۵مغربی پاکستان میں قومی اسمبلی کی 79نشستوں پر امیدوار کھڑے کیے گئے۔ 20لاکھ ووٹ ملے، 4حضرات منتخب ہوئے۔
۶صوبائی نظام قائم ہوا۔ سید اسعد گیلانی پہلے امیر صوبہ خان سردار علی خاں، امیر صوبہ سرحد، مولانا جان محمد بھٹو امیر صوبہ سندھ، مولانا عبدالعزیز امیر صوبہ بلوچستان مقرر کیے گئے۔
۲بھارت میں نوے ہزار پاکستانی قیدیوں کی رہائی کے لیے 250سربراہان مملکت اور مقتدر شخصیتوں کو مولانا کا مراسلہ بھیجا گیا۔
۳7جون کو تفہیم القرآن مکمل ہوئی۔
۴میاں طفیل محمد پہلی مرتبہ امیر جماعت منتخب ہوئے۔
۵ڈاکٹر نذیر احمد ایم این اے کو شہید کر دیا گیا۔
۶سندھی اور اردو بولنے والوں کے درمیان پہلا فساد ہوا۔ 55آدمی ہلاک ہوئے۔ پروفیسر غفور احمد نے سمجھوتہ کرانے میں اہم کردار کیا۔ میاں طفیل محمد نے دو مرتبہ سندھ کا تفصیلی دورہ کیا۔
۱جماعت پاکستان قومی اتحاد میں شامل ہوئی۔ پروفیسر غفور احمد سیکرٹری جنرل رہے۔
۲انتخابات میں 31 قومی اسمبلی کی نشستوں پر نمائندے کھڑے کیے گئے۔ انتخابات میں دھاندلی کے خلاف تحریک چلائی گئی۔ 9 سیٹیں جیتیں۔ کل سوا بارہ لاکھ ووٹ ملے۔ ہل کا انتخابی نشان میاں طفیل محمد کا تجویز کردہ تھا۔
۳دیر کے قبائل اور پاک فوج میں صلح کرانے میں جماعت نے اہم رول ادا کیا۔
۲انسٹیٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز پروفیسر خورشید احمد کی قیادت میں قائم کیا گیا تھا، جس سے 40 محققین وابستہ تھے۔
۳دارالعلوم، مرکز العلوم اسلامیہ، منصورہ میں قائم کیا گیا تھا۔
۴سوویت افواج افغانستان میں داخل ہوئیں۔ جماعت نے پہلے دن سے ہی افغان جہاد کی حمایت کی۔ پناہ گزین کیمپ قائم کیے گئے۔
۵PREM نے ریلوے ریفرنڈم جیت لیا۔
۶علم اور روحانی بصیرت کا سورج جو مشرق میں طلوع ہوا تھا مغرب میں غروب ہوگیا۔ مولانا مودودی امریکہ کے شہر بافیلو میں انتقال کر گئے۔ ان کی نماز جنازہ تین براعظموں میں دس بار ادا کی گئی۔ قذافی اسٹیڈیم میں نماز جنازہ کی امامت قطری عالم ڈاکٹر شیخ یوسف عبداللہ القرضاوی نے کی۔ 5-A زیلدار پارک میں دفن کیا گیا۔
۱غیر جماعتی انتخابات میں جماعت کے نمائندوں کو 10قومی اور 17صوبائی نشستوں پر کامیابی ہوئی۔ ایک خاتون ممبر ہوئیں۔ سینیٹ میں تین لوگوں کو نمائندگی ملی۔ کل 10,91,188ووٹ ملے۔
۲بلوچستان میں قومی اسمبلی کی ایک نشست پر مولانا عبدالحق بلوچ کامیاب ہوئے۔
۳حافظ محمد ادریس نائب قیم جماعت اسلامی پاکستان مقرر ہوئے۔
۱مجاہدین کشمیر کی آمد پر ان کے قیام، طعام اور تربیت کا بندوبست کرنے کا بیڑہ اٹھایا۔ کشمیر میں تحریک جہاد کا نقشہ تیار کرنے میں تعاون کیا گیا۔
۲ملک بھر میں پانچ فروری کو پہلی بار یوم یکجہتی کشمیر منایاگیا، جہاد کشمیر ریلیاں ،کشمیر کانفرنسز۔بین الاقوامی کشمیر کانفرنس کا انعقاد ۔علماء کا متفقہ فتویٰ کہ جہاد کشمیر تمام مسلمانوں پر فرض ہے ۔
۳عبدالرشید ترابی امیرجماعت اسلامی جموں و کشمیر منتخب ہوئے۔
۴کشمیر کی جماعت نے اتنخابات میں حصہ نہ لیا اور جہاد کی تحریک جاری رکھنے کا فیصلہ کیا۔
۵لاہور میں کسان ریلی کسان بورڈ کے تحت ہوئی۔ 25ہزار کسان شریک ہوئے۔
۶آئی جے آئی کے پلیٹ فارم سے انتخاب لڑا گیا۔ قومی اسمبلی کی 8اور صوبائی اسمبلی کی 19نشستوں پر جماعت کے نمائندے کامیاب ہوئے۔ جماعت نے وزارتیں نہ لینے کا فیصلہ کیا۔
۷ملک بھر میں 11تا18 جولائی ہفتہ انسداد منکرات منایا گیا ۔
۸قصاص و دیت کے قانون کی منسوخی کے خلاف ملک گیر احتجاجی تحریک
۹حکومت کو چارٹر آف ڈیمانڈ پیش کیا گیا جس میں اسلامی جمہوری اتحاد کو منظم ،متحرک اور فعال بنانے شریعت بل کو بلاتاخیر پارلیمنٹ سے منظور کرانے اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات کو جلد ازجلد روبعمل لانے فیڈرل شریعت کورٹ کو موثر بنانے کیلئے دستور میں ترمیم کرنے پر زور دیا گیا ۔
حکومت اور فوج کے درمیان مفاہمت کے لیے سوڈان کا دورہ
۱عراق پر امریکی حملے پر عالم اسلام کی طرف سے مشترکہ موقف دینے کیلئے جماعت اسلامی پاکستان کی دعوت پر منصورہ مرکز میں عالمی اسلامی تحریکوں کے قائدین کا نمائندہ اجتماع
۲جماعت اسلامی کے قیام کی یاد میں یوم تاسیس پر موچی دروازہ لاہور میں عظیم الشان جلسہ کا انعقاد جس میں ایک لاکھ سے زائد کارکنوں نے شرکت کی ۔
۳وزیر اعظم پاکستان نواز شریف منصورہ آئے اور امیر جماعت اسلامی قاضی حسین احمد ؒکے ساتھ چارگھنٹے طویل مذاکرات کئے۔بعدازاں مشترکہ پریس کانفرنس میں وزیر اعظم نے جماعت اسلامی کے تمام مطالبات تسلیم کرنے کا اقرار کیا۔
۴یکم فروری کوصوبہ سرحدکے شمالی علاقوںمیں آنے والے تباہ کن زلزلہ کے متاثرین کیلئے بڑے پیمانے پر ریلیف اور بحالی کی سرگرمیاں
۵جماعت اسلامی پنجاب کا تین روزہ اجتماع عام منصورہ میں منعقد ہوا جس سے جماعت اسلامی سمیت ملک کی اہم شخصیات نے خطاب کیا۔
۶فتح خوست پر قاضی حسین احمد کادورہ خوست و کابل
۷سوڈان حکومت اور فوج میں جاری کشمکش کے خاتمہ کیلئے امیر جماعت اسلامی کا مصالحتی مشن پر دورہ ٔسوڈان
۸جماعت اسلامی نے قومی اسمبلی کے پاس کردہ شریعت ایکٹ کی حمایت کردی اور اس پر عمل درآمد کا مطالبہ کیا۔
۱جماعت اسلامی نے حکومت کی طرف سے منشور پر عمل نہ کرنے کی وجہ سے 2مئی کو آئی جے آئی سے لاتعلقی کا اعلان کردیا
۲26اپریل 1992کو فتح افغانستان پر ملک گیر یوم تشکر منایا گیا۔
۳7فروری کو جماعت اسلامی پاکستان کی پچاس سالہ تقریبات کے حوالے سے الحمراء ہال میں اسلام کی نشاۃ ثانیہ میں جماعت اسلامی اور سید مودودیؒ کا کردار کے موضوع پر تین روزہ سیمینار سے قومی اور عالمی اسلامی تحریکوں کے سربراہان کا خطاب۔چار براعظموں کے 28ممالک کی 40تنظیموں کے 75مندوبین نے سیمینار میں شرکت کی ۔
۴جماعت اسلامی کی اپیل پر پورے ملک میں یوم القدس منایا گیا ۔
۵ستمبر میں تحریک محنت کا کل پاکستان سہ روزہ اجتماع واہ کینٹ میں ہوا جس میں ملک بھر سے ہزاروں محنت کشوں اور مزدوروں نے شرکت کی ۔
۶جماعت اسلامی نے ملک گیر انسداد رشو ت ستانی مہم چلائی اور رشوت کے خاتمہ کیلئے 20نکاتی ایجنڈا پیش کیا۔
۷امیر جماعت کے انتخابات میںقاضی حسین احمد دوسری بار امیر جماعت اسلامی منتخب ہوئے۔
۱امیر جماعت اسلامی سینیٹر قاضی حسین احمد کا دورہ سوڈان و افریقی ممالک
۲بھارت میں انتہاپسند ہندوئوں کے ہاتھوں بابری مسجد کی شہادت کے خلاف ملک گیر احتجاج ۔مسجد کی دوبارہ تعمیر کا مطالبہ
۳24مئی کو پاکستان اسلامک فرنٹ کے نام سے انتخابی محاذ کا قیام عمل میں آیا ۔جماعت اسلامی نے ملک بھر سے آئے ہوئے پانچ سو جید علماء کے کنونشن کی تجاویز کی روشنی میں اسلامک فرنٹ قائم کیا۔
۴15تا28فروری امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر قاضی حسین احمد نے کابل کا دورہ کیا۔امیر جماعت نے برہان الدین ربانی،احمد شاہ مسعود ،گلبدین حکمتیار اور عبدالرب رسول سیاف سمیت افغان قیادت سے ملاقات کی ۔
۵امیر جماعت قاضی حسین احمد نے سوڈان ،ابوظہبی ،برطانیہ ،بوسنیا ،سعودی عرب سمیت مختلف ملکوں کے دورے کئے ۔
۶ستمبر میں امیرجماعت کی اپیل پر ملک بھر میں مہنگائی کے خلاف یوم احتجاج منایا گیا۔
۷امریکہ ،برطانیہ ،فرانس، ایران کے سفیروں اور سیکریٹریز خارجہ نے منصورہ کا دورہ کیا۔
۱جماعت اسلامی پنجاب کے زیر اہتمام مینار پاکستان گرائونڈ میں شہدائے کشمیر کانفرنس منعقد کی گئی۔کانفرنس میں شہداء کے خاندانوں ،والدین نے بڑی تعداد میں شرکت کی ۔
۲جمعیت اتحاد العلماء کے تحت منصورہ میں اتحاد امت کانفرنس ہوئی جس میں اندرون اور بیرون ملک سے زعمائے امت نے کثیر تعداد میں شرکت کی ۔
۳اکتوبر 93کے انتخابات میں منفی نتائج پر شدید تنقید کے بعد امیر جماعت نے 19جنوری کو استعفیٰ دے دیا
۴22جنوری کو ہونے والے شوریٰ کے اجلاس میں استعفیٰ قبول کرکے چوہدری رحمت الہٰی کو عارضی امیر منتخب کرلیا گیا
۵27فروری کو امیر جماعت کے انتخاب میں قاضی حسین احمد صاحب دوبارہ بھاری اکثریت سے امیر جماعت منتخب ہوئے
۶امیر جماعت نے 28مئی تا 2جون ترکی کا دورہ کیا اور رفاہ پارٹی کے زیر اہتمام جشن فتح استنبول میں شرکت کی اور خطاب کیا۔
۷امیر جماعت نے 18تا26جون برطانیہ کے شہروں لندن ،برمنگھم ،لیسٹر ،نیلسن ،بریڈ ہوم ،اولڈہم ،مانچسٹر اور گلاسگو میں بڑے بڑے اجتماعات اور کشمیر کانفرنسوں میں خطاب کیا۔
۱امیر جماعت سینیٹر قاضی حسین احمد کی کوششوں سے شیعہ سنی سمیت تمام مسالک کو متحد کرکے 24مارچ 1995 کو ملی یکجہتی کونسل کی بنیاد رکھی گئی۔ ملی یکجہتی کونسل کی اپیل پر ملک گیر تحفظ ناموس رسالت ﷺ کادن منایا گیا۔
۲اس سال حکومت نےest Ban Treaty Coprehensive T(CTBT)پر دستخط کی ناپاک جسارت کی ۔جس کے خلاف ملک بھر میں احتجاجی مظاہرے کئے گئے اور لیاقت باغ راولپنڈی میں جلسہ عام ہوا ۔
۳ترجمان القرآن کی اشاعت اور ڈسٹری بیوشن بڑھانے کیلئے خصوصی مہم چلائی گئی
۴جمعیت اتحاد العلماء کے زیر اہتمام اتحاد امت کانفرنس منصورہ میں ہوئی۔دنیا بھر سے مندوبین نے شرکت کی
۵کراچی میں دہشت گردی کے خلاف اور کراچی کے شہریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے دن منائے گئے
۶نفاذ شریعت کے لئے ملک بھر میں مظاہرے کئے گئے اور مالاکنڈ کے عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا گیا
۷بزنس فورم کے زیر اہتمام انٹر نیشنل بزنس کانفرنس منعقد کی گئی جس میں دنیا بھر سے اہم شخصیات نے شرکت کی
۸8,9,10نومبر مینار پاکستان پر سہ روزہ اجتماع عام ہوا۔
۹الحمراء ہال میں انٹرنیشنل کشمیرکانفرنس ہوئی جس میں اسلامی تحریکوں کے نمائندہ وفود نے شرکت کی۔
۱سوڈان میں نئے پارلیمانی نظام حکومت پر تمام جماعتوں نے اتفاق کیا اور ایک شاندار تقریب کا انعقاد کیا جس میں امیر جماعت اسلامی پاکستان نے مہمان خصوصی کی حیثیت سے شرکت کی اور خطاب فرمایا۔
۲24جون کو بے نظیر حکومت کی کرپشن کے خلاف راولپنڈی میں دھرنا دیا گیا ۔پولیس کی اندھا دھند فائرنگ سے 3کارکن شہید ،70زخمی ہوگئے ۔شہداء کی یاد میں 25جون اور 3جولائی کو ملک گیر یوم احتجاج منایا گیا۔
۳4جولائی کو حلقہ خواتین کا تین روزہ اجتماع ارکان منعقد ہوا۔
۴6اگست کو امیر جماعت کی زیر صدارت کل جماعتی کانفرنس منعقد ہوئی ۔
۵24اگست کو امیر جماعت اسلامی سینیٹر قاضی حسین احمد نے سینیٹ سے استعفیٰ دے دیا۔
۶امیر جماعت نے 168دنوں میں ملک بھر کے چھوٹے بڑے شہرو ں کے 229دورے کئے اور جلسوں سے خطاب کیا جس سے پوری قوم کی زبان پر احتساب کا مطالبہ جاری ہوگیا۔
۷27,28اکتوبر کو بے نظیر حکومت کے خلاف دھرنا ،5نومبر کو صدر پاکستان فاروق لغاری نے اسمبلی توڑ دی
۸20دسمبر کو نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان خرم مراد صاحب لندن میں رحلت فرما گئے ۔
۹ترکی میں نجم الدین اربکان کی رفاہ پارٹی کی کامیابی پر امیر جماعت اسلامی مہمان خصوصی کی حیثیت سے ترکی گئے جہاں انہوں نے عالمی اسلامی تحریکوں کے زعماء کی کانفرنس سے خطاب کیا اور عالمی رہنمائوں سے ملاقاتیں کیں
بھارتی وزیر اعظم کی پاکستان آمد ملک بھر میں احتجاجی مظاہرے
۱15جنوری یوم القدس کے حوالے سے احتجاجی مظاہرے کئے گئے ۔
۲30جنوری تا5فروری ملک بھر میں ہفتہ جہاد کشمیر منایا گیا۔
۳20فروری کو بھارتی وزیر اعظم کی پاکستان آمد ملک بھر میں احتجاجی مظاہرے ہوئے،مال روڈ لاہور پر بہت بڑے مظاہرے کی قیادت امیر جماعت نے کی ۔حکومت نے واہگہ بارڈر سے مینار پاکستان تک ریڈ کارپٹ بچھا رکھا تھالیکن جماعت کے شدید احتجاج کی وجہ سے واجپائی کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے گورنر ہائوس تک لایا گیا
۴21فروری کو لاہور میں جلسہ کے دوران پولیس نے سینکڑوں کارکنوں اور قائدین کو گھیر ا ڈال کر گرفتار کرلیا اوربدترین تشدد کے بعد قیدیوں کی گاڑیوں میں بھر کر ملک کی مختلف جیلوں میں بند کردیا۔
۵26فروری کو اسیران کی رہائی کیلئے یوم احتجاج منایا گیا۔
۶4تا 6مارچ کو امیر جماعت نے لاہور تا راولپنڈی تک احتساب کاروان کی قیادت کی ۔
۷11تا 16اپریل احتساب کاروان ’’ٹرین مارچ‘‘ قائم مقام امیر سید منورحسن کی قیادت میں پشاور سے کراچی تک چلایا گیا۔ہر بڑے اسٹیشن پر بڑے بڑے جلسہ ہائے عام ہوئے ۔
۸23مارچ کو مینار پاکستان پر تحفظ نظریہ پاکستان ریلی نکالی گئی
۹8مارچ ۔محترم امیر جماعت خرابی صحت اور آپریشن کیلئے رخصت پر چلے گئے ۔
۱۰28مئی کو ایٹمی پروگرام کے تحفظ کیلئے پورے ملک میں جلسے اور احتجاجی پروگرام منعقد کئے گئے ۔
۱۱خواتین کا سہ روزہ کل پاکستان اجتماع عام ہوا،شباب ملی کا دوروزہ کنونشن ہوا
۱۲6جولائی کو کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی اور نواز کلنٹن اعلامیہ پر یوم احتجاج منایا گیا۔
۱۳راولپنڈی، پشاور، کوئٹہ ،لاہور میں کارگل ریلیاں اور بڑے بڑے جلسہ عام منعقد ہوئے ۔
۱۴22اگست کو جہاد کشمیر کی پشیبانی اسلام آباد خواتین کی فقید المثال ریلی منعقد ہوئی ۔
۱۵اسلامی جمعیت طالبات کا سہ روزہ اجتماع عام ہوا۔
۱۶پنجاب ،سندھ ،بلوچستان اور صوبہ سرحد کے تنظیمی اجتماعات اور ذمہ داران کے کنونشن منعقد ہوئے
۱۷ملک میں بدترین خشک سالی پر منصورہ میں نماز استسقاء ادا کی گئی اور امیر جماعت نے خطاب کیا۔
۱۸چیچنیا کے مظلوم مسلمانوں کے ساتھ اظہار یکجہتی پورے ملک میں احتجاجی مظاہرے کیئے گئے ۔
۱31 جنوری تا 5 فروری ملک بھر میں ہفتہ یکجہتی کشمیر منایا گیا ۔5فروری کو ملک بھر میں یوم احتجاج منایا گیا۔
۲14فروری کو چیچنیا کے سابق صدر ذیلم خان کے اعزاز میں استقبالیہ دیا گیا ۔
۳21فروری کو ملک بھر میں نواز حکومت کے مظالم کے خلاف یوم احتجاج منایا گیا۔
۴23مارچ کو ملک میں CTBT ریفرنڈم کروایا گیا۔
۵27مارچ کو امیر جماعت کی صدارت میں منصورہ میںدینی جماعتوں کے ذمہ داران کا اجلاس ہوا۔
۶19مئی کو دینی جماعتوں کی اپیل پر سی ٹی بی ٹی کے خلاف ملک بھر میں کامیاب ہڑتال کی گئی۔
۷13جون دینی جماعتوںکے سربراہان کا اجلاس منصورہ میں منعقد ہوا۔
۸محترم امیر جماعت نے سعودی عرب ،برطانیہ ،سوڈان ،امارات ،قطر ،ایران ،اٹلی ،سوئٹزر لینڈ اور ڈنمارک سمیت 18ممالک کا دورہ کیا۔ عالمی کانفرنسوں میں شرکت کی اور جماعت کے ذمہ داران اور کارکنان کے اجتماعات سے خطاب کیا۔
۹27.28.29اکتوبر سہ روزہ کل پاکستان اجتماع عام منعقدہ ہوا۔
۱۰بین الاقوامی کانفرنس کے شرکا ء کے اعزاز میں عشائیہ دیا گیا۔
۱۱17دسمبر پورے ملک میں حکومت اور نواز شریف ڈیل کے خلاف یوم احتجاج منایا گیا۔
۱28جنوری ۔محترم امیر جماعت کو پشاور سے لاہور منتقل کردیا گیا۔
۲3فروری ۔جامع مسجد منصورہ میں علماء کنونشن منعقد ہوا۔
۳28فروری محترم امیر جماعت کو ضمانت پر رہا کردیا گیا۔
۴8بھارت میں مسلمانوں پر ہندوئوں کے مظالم کے خلاف یوم احتجاج منایا گیا۔
۵لیاقت باغ راولپنڈی میں عظیم الشان جلسہ منعقد کیا گیا۔
۶29مارچ ۔پورے ملک مہنگائی کے خلاف یوم احتجاج منایا گیا۔
۷21اپریل ۔کاروان تحفظ پاکستان لاہور تا راولپنڈی چلایا گیا۔محترم امیر جماعت کو حراست میں لے لیا گیا ۔جگہ جگہ رکاوٹوں کے باوجود کاروان راولپنڈی پہنچنے میں کامیاب ہوا
۸30اپریل ۔جنرل مشرف نے صدارتی ریفرنڈم کروایا ۔جماعت اور متحدہ مجلس عمل نے بائیکاٹ کیا۔
۹مینار پاکستان پر عظیم الشان کشمیر کانفرنس منعقد ہوئی ۔
۱۰22جولائی ۔متحدہ مجلس عمل کے مرکزی سربراہان نے صدر پاکستان سے ملاقات کی ۔
۱۱28اگست ۔راولپنڈی تا لاہور ٹرین مارچ کیا گیا۔متحدہ مجلس عمل کے مرکزی قائدین نے جگہ جگہ خطاب فرمایا
۱۲7ستمبر ۔متحدہ مجلس عمل کے زیر اہتمام ٹرین مارچ شروع ہونے سے قبل ہی سینکڑوں کارکنوں اور قائدین کولاہور ریلوے اسٹیشن کے باہر سے گرفتار کرلیا گیا۔ملک محمد اشرف اور اظہر اقبال حسن ٹرین میں سوار ہونے میں کامیاب ہوگئے ۔انہوں نے ہر سٹیشن پر عوام سے خطاب کیا۔ملتان پہنچنے پر پولیس نے حراست میں لیکررات کی ٹرین سے لاہور واپس بھیج دیا۔
۱۳4۔اکتوبر ۔مینار پاکستان پر جلسہ عام منعقد ہوا۔
۱۴10۔اکتوبر ۔قومی و صوبائی انتخابات ہوئے ۔جس میں متحدہ مجلس عمل نے قومی کی 60اور صوبائی اسمبلیوں کی 100سیٹیں جیت لیں۔
۱3جنوری ۔امریکی جارحیت کے خلاف یوم احتجاج منایا گیا۔
۲5۔فروری ۔ملک بھر میں یوم یکجہتی کشمیر منایا گیا اور پورے ملک میں جلسے جلوس اور ریلیاں منعقد ہوئیں۔
۳کراچی ،راولپنڈی ،لاہور ،پشاور ،کوئٹہ ،ملتان ،حید رآباد ،مظفر آبا د میںملین مارچ کئے گئے ۔عوام نے لاکھوں کی تعداد میں شرکت کی۔
۴سندھ اور سرحد کے سہ روزہ اجتماع اراکین ہوئے ۔
۵28۔جون ۔ایم ایم اے ممبران قومی اسمبلی نے راولپنڈی میں احتجاجی مارچ کیا۔
۶2۔جولائی ۔ایم ایم اے کے زیر اہتمام آل پارٹیز کانفرنس ہوئی
۷14۔اگست ۔راولپنڈی لیاقت باغ میں عظیم الشان جلسہ عام منعقد ہوا۔
۸امیر جماعت محترم نے ایران ،مراکش،قطر،سوڈان ،لبنان ،بیروت ،ترکی ،ناروے ،برطانیہ ،سعودی عرب ،تشریف لے گئے اور مختلف عالمی کانفرنسوں میں شرکت کی ،خطاب فرمایا اور عالمی راہنمائوں سے ملاقاتیں کیں۔
۹بلجیم اور ہالینڈ سے بھی عوامی اجتماعات میں شرکت کی دعوت ملی مگر دونوں ممالک کی حکومتوں نے ویزے جاری کرنے سے انکار کردیا۔
۱۰12۔اکتوبر ۔مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی ؒ کی کتاب تفہیم الاحادیث کی تعارفی تقریب
۱۱31۔اکتوبر ۔ایم ایم اے اور اپوزیشن کا اسمبلی سیکرٹریٹ کے سامنے احتجاجی دھرنا ۔
۱۲4نومبر ۔سفراء ،سیاسی و حکومتی شخصیات کے اعزاز میں افطار ڈنر
۱۳6.7دسمبر ۔مولا نا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کی صد سالہ تقریبات کے حوالے سے دوروزہ بین الاقوامی کانفرنس
۱۴8۔بین الاقوامی کانفرنس کے شرکاء کے اعزاز میں محترم امیر جماعت کا عشائیہ ۔مختلف اسلامی ممالک کے مندوبین نے شرکت کی ۔
۱۵18تا 20دسمبر ۔متحدہ مجلس عمل کے زیر اہتمام مظفر گڑھ سے احتجاجی کاروان کا آغاز پنجاب کے مختلف اضلاع میں احتجاجی جلسے ۔
۱۶24.دسمبر۔حکومت اور ایم ایم اے کے درمیان ایل ایف او پر سمجھوتہ طے پاگیا۔
۱مشرف حکومت کی طرف سے پاس کردہ حقوق نسواں بل جس کے ذریعے ملک میں بے حیائی ،عریانی اور فحاشی کا ایک سیلاب لانے کی کوشش کی گئی ،اس بل کے خلاف ملک بھر میں مظاہرے ۔خواتین کے بڑے بڑے اجتماعات اور مظاہرے کئے گئے ۔
۲15جنوری ،3فروری ۔باجوڑ ایجنسی میں امریکی حملہ کے خلاف ملک بھر میں یوم احتجاج منایا گیا۔
۳5فروری ،کشمیر یوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کا دن منایا گیا ۔
۴11۔فروری ۔اسلام آباد میں تحفظ ناموس رسالتﷺ کنونشن
۵ملک بھر میں تحفظ ناموس رسالت ﷺ کیلئے بڑی بڑی ریلیاں اور جلسے منعقد ہوئے ۔
۶22مار چ ۔ملتان میں ایم ایم اے کی شان مصطفی ﷺ ریلی۔
۷24تا 26مارچ ۔پشاور میں جماعت اسلامی صوبہ سرحد کا سہ روزہ اجتماع عام ۔لاکھوں افراد کی شرکت
۸22۔اپریل ۔مینار پاکستان لاہور محفل حمد و نعت و قرآن
۹23مئی ۔بھارت کی جیلوں سے رہائی پانے والے سات مجاہدین کشمیر کے اعزاز میں استقبالیہ
۱۰24جون ۔کراچی میں آل پارٹیز امن کانفرنس کا انعقاد
۱۱29.30جولائی کو صوبہ بلوچستان کا اجتماع عام
۱۲14 اگست ۔منصورہ میں پرچم کشائی کی تقریب ۔صوبہ پنجاب کے دفاتر کی افتتاحی تقریب ۔مینار پاکستان پر ایم ایم اے کا جلسہ
۱۳27اگست ۔کراچی میں ایم ایم اے کا جلسہ عام
۱۴6ستمبر ۔راولپنڈی میں ایم ایم اے کا جلسہ عام
۱۵یکم اکتوبر ۔اسلام آباد میں سفیر وں ،سیاست دانوں اور دانشوروں کے اعزاز میں افطار ڈنر
۱۶پورے ملک میں باجوڑ ایجنسی میں امریکی حملہ کیخلاف یوم احتجاج منایا گیا۔احتجاجی مظاہرے کئے گئے ۔
۱۷نومبر میں حقوق نسواں بل کے خلاف ملک کے بڑے بڑے شہروں میں جلسے اور روڈ کاروان کئے گئے
۱مشرف کی غیر آئینی حکومت کے خلاف متحدہ مجلس عمل کے پلیٹ فارم سے جدوجہد
۲فوجی آمریت کے خاتمے ، ملک کی آزادی ، خودمختاری اور اسلامی تشخص کے تحفظ ، پاکستان کو امریکی استعمار کے استبدادی پنجے سے نجات دلانے کے لئے متحدہ اپوزیشن تشکیل دینے کی کوششیں
۳آئین کی مکمل بحالی ،شفاف اور غیر جانبدارانہ انتخابات کے انعقاد کے لئے قومی اتفاق رائے کی عبوری حکومت اور بااختیار الیکشن کمیشن کے قیام کے لئے عملی جدوجہد اور تحریک پر اتفاق رائے پیدا کیاگیا ۔
۴سٹیل ملز ،ریلوے ،پی آئی اے سمیت دیگر قومی اداروں کی نجکاری روکنے کیلئے ملک بھر میں عوامی تحریک
۵طلبا یونینز اور ٹریڈ یونینز کی بحالی کی جدوجہد
۶۔باجوڑ میں ضمنی انتخاب کے حوالے سے یوم سیاہ منایا گیا۔
۷معطل چیف جسٹس افتخارمحمد چوہدری سے اظہار یکجہتی کیلئے یوم احتجاج ۔مظاہرے کئے گئے ۔
۸7۔مارچ کو اسلام آباد میں کل جماعتی کانفرنس ۔
۹25مئی۔قومی مجلس مشاورت کا اجلاس
۱۰27.29مئی ۔کاروان تحفظ پاکستان ۔(راولپنڈی ،گوجرانوالا ،فیصل آباد اور لاہور )
۱۱30مئی ۔امام کعبہ کے اعزاز میں استقبالیہ
۱۲22جون کو ملک بھر میں برطانوی حکومت کی طرف سے گستاخ رسول سلمان رشدی کو سر کا خطاب دینے پر احتجاجی مظاہرے کئے گئے۔
۱۳21جولائی ۔محترم امیر جماعت کی اپیل پر چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کو بحال کئے جانے پر یوم تشکر منایا گیا
۱۴14اگست ۔جلسہ عام لیاقت باغ راولپنڈی
۱۵30اگست ۔معیشت کے حوالے سے قومی سیمینار
۱۶2تا 4نومبر سہ روزہ کل پاکستان اجتماع ارکان و امیدواران منعقد ہوا۔
۱۷پرویز مشرف کی ایمرجنسی کے خلاف ملک بھر میں احتجاجی مظاہرے اور بڑی بڑی ریلیاں نکالی گئیں۔
۱۸اسلام آباد سمیت ملک بھر میں اے پی ڈی ایم کے زیر اہتمام جلسے کئے گئے۔
سید منور حسن جماعت اسلامی پاکستان کے چوتھے امیر منتخب۔
۱25جنوری کو میاں طفیل محمد رحلت فرما گئے ۔انا للہ و انا الیہ راجعون
۲سید منور حسن جماعت اسلامی پاکستان کے چوتھے امیر منتخب۔
۳حکومت کی پیش کردہ تعلیمی پالیسی کے خلاف جدوجہد ۔مرکزی مجلس شوریٰ کی طرف سے مطالبات پیش کئے گئے۔
۴قومی تعلیمی پالیسی 2009ء کو پارلیمنٹ میں بحث کے لئے پیش کیا جائے اور اسے ملک کے ممتاز ماہرین تعلیم کی نگرانی میں انتہائی جامع اور مستحکم بنیادوں پر تیار کیا جائے ۔
۵اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین کے آرٹیکل نمبر31کے مطابق پاکستان کے نظام تعلیم کی اسلامی تشکیل کے لیے اقدامات کئے جائیں۔
۶ایجوکیشن ایکٹ 1976ء کو تعلیمی پالیسی کا حصہ بنایا جائے جس کی روسے نصابات و درسی کتب میں اسلام کے
۷خلاف کوئی مواد شامل نہیں کیاجاسکتا ۔
۸صاب تعلیم اور پورے عمل تعلیم کے ذریعے پاکستان کے اساسی نظریے ، قومی تشخص ،قومی سوچ اور اسلامی تہذیب وتمدن کو پروان چڑھایا جائے ۔
۹اردو زبان کو ذریعہ تعلیم بنایا جائے اور ساتھ ہی انگریزی اورعربی زبان کی معیاری تعلیم کا اہتمام کیا جائے ۔
۱۰عربی زبان کی بطور لازمی مضمون حیثیت جاری رکھی جائے اور جنسی تعلیم کے مضمون کو ختم کیا جائے ۔
۱۱قومی آمدنی کا کم ازکم 5فیصد تعلیم کے لیے مختص کیا جائے ۔
۱۲کالجز اور یونیورسٹیوں میں پڑھنے والے نوجوانوں کی قائدانہ صلاحیتوں کی نشوونما کے لیے طلباء کو اجتماعی سرگرمیوں کے لیے پلیٹ فارم مہیا کیا جائے اور طلباء کے جمہوری حقوق بحال کئے جائیں ۔
۲9جنوری ۔کراچی میں تمام دینی جماعتوں کی تحفظ ناموس رسالت ﷺ ریلی ۔ملک بھر میں ریلیاں ،جلسے ،جلوس
۳21۔جنوری ۔تحفظ ناموس رسالت ﷺ ۔یوم احتجاج
۴23جنوری ۔امریکی مداخلت کے خلاف پشاور میں دھرنا
۵28جنوری ۔امریکی قاتل ریمنڈ ڈیوس کے حوالے سے یوم احتجاج
۶29جنوری ۔تحریک ناموس رسالت ﷺ کے حوالے سے دینی جماعتوں کا منصورہ میں سربراہی اجلاس
۷30جنوری.۔لاہور میں تحریک ناموس رسالت ﷺ کا عظیم الشان جلسہ عام ۔ریلی
۸13فروری۔منصورہ میں ۔ناموس رسالت ﷺ کے تحفظ اور امریکی مداخلت کے خلاف قبائلی جرگہ
۹15فروری ۔ریمنڈ ڈیمنڈ کی قتل و غارت گری کے خلاف احتجاجی مظاہرہ
۱۰23فروری ۔چین کی حکمران کیمونسٹ پارٹی کے وفد کا منصورہ کا دورہ
۱۱امریکی مداخلت اور ڈارون حملوں کے خلاف ملک گیر احتجاج
۱۲بلوچستان کے عوام کے ساتھ ملک گیر یوم یکجہتی ۔کوئٹہ میں دھرنا
۱۳26اگست ۔کراچی کے عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی ،مظاہرے ،دھرنے ۔
۱۴11ستمبر ۔امریکی مداخلت ،جارحیت کے خلاف ملک بھر میں احتجاجی مظاہرے ۔
۱۵16ستمبر ۔ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے ساتھ اظہار یکجہتی ،رہائی کیلئے امریکہ کے خلاف مظاہرے ۔
۱۶7اکتوبر۔امیر جماعت اسلامی اور تحفظ ناموس رسالت ﷺ کی قیادت کی اپیل پر ممتاز قادری کی سزا کے خلاف ملک گیر یوم احتجاج ۔مظاہرے ۔
۱۷15.16.17اکتوبر ۔اسلامی جمعیت طلبہ کا اجتماع عام
۱۸18نومبر ۔بھارت کو پسندیدہ ملک قرار دیئے جانے کے خلاف ملک بھر میں یوم احتجاج ۔احتجاجی مظاہرے ۔
۱۹2دسمبر ۔نیٹو حملے کے خلاف یوم احتجاج
۲۰دفاع پاکستان کونسل کے زیر اہتمام راولپنڈی ،پشاور ،لاہور ،کراچی ،کوئٹہ کو دیگر بڑے شہروں میں جلسے کئے گئے اور بھارت کو پسندیدہ ملک قراردیئے جانے کے خلاف تحریک چلائی گئی۔
۱جنوری میں قاضی حسین احمد ؒ اور پروفیسر غفور احمد ؒ کی یادیں منصورہ ۔ لاہور،کراچی ،حیدر آباداور دیگر شہروں میں تعزیتی ریفرنسز
۲4فروری ۔کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی اور بھارتی مظالم کے خلاف اسلام آباد میں دھرنا
۳5۔فروری ۔ملک بھر میں کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کا دن منایا گیا۔
۴13۔فروری ۔محسن پاکستان ڈاکٹر عبد القدیر خان کے اعزاز میںمنصورہ میں استقبالیہ ۔
۵4تا6مارچ ۔ووٹر لسٹوں اور حلقہ بندیوں کے خلاف کراچی تا راولپنڈی ٹرین مارچ
۶22مارچ ۔ملک گیر یوم استغفار ۔
۷29مارچ ۔بنگلا دیش میں جماعت اسلامی کے رہنمائوں کارکنوں پر مظالم کے خلاف لاہور میں احتجاجی جلسہ
۸11مئی ۔ملک میں عام انتخابات
۹17مئی ۔قومی و صوبائی انتخابات میں بدترین دھاندلی کے خلاف کراچی میں احتجاجی دھرنا
۱۰14جون ۔برما میں مسلمانوں کے قتل عام اور مسلمانوں پر مظالم کے خلاف یوم احتجاج
۱۱5جولائی ۔مصر کی صورتحال کے حوالے سے منصورہ میں سیمینار
۱۲6جولائی۔مصر میں فوجی بغاوت کے خلاف یوم احتجاج ۔کراچی میں احتجاجی جلسہ
۱۳21جولائی ۔مصر میں فوجی بغاوت کے خلاف لاہور میںاحتجاجی دھرنا
۱۴اگست میں مصر میں فوجی بغاوت اور منتخب حکومت کا تختہ الٹنے کے خلا ف کراچی ،لاہور اور دیگر شہروں میں احتجاجی جلسے ،جلوس اور دھرنے
۱۵25/26ستمبر ۔لاہور میں عالمی اسلامی تحریکوں کی مصرکی صورتحال پر کانفرنس ۔عالمی راہنمائوں کے اعزاز میں امیر جماعت کی طرف سے منصورہ میں استقبالیہ /عشائیہ
۱۶27ستمبر ۔قومی کانفرنس بیاد بانی جماعت اسلامی مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی ؒ ۔
۱۷12نومبر۔منصورہ میں حرمت سود سیمینار کا انعقاد
۱۸22نومبر ۔نیٹو سپلائی اور ڈارون حملوں کے خلاف ملک گیر احتجاج
۱۹11دسمبر۔اینٹی نجکاری کانفرنس
۲۰12دسمبر ۔جماعت اسلامی بنگلا دیش کے راہنما ملا عبدالقادر کی شہادت پر ملک گیر یوم احتجاج ۔لاہور کراچی ،اسلام آباد سمیت ملک کے بڑے بڑے احتجاجی جلسے ۔تعزیتی سیمیارز
۲۱ڈاکٹر عبد القدیر خان ،عمران خان حافظ سعید ،طلال اکبر بگٹی ،گورنر پنجاب سید محمود احمد،نجم سیٹھی نگران وزیر اعلیٰ پنجاب،چوہدری عبد المجید وزیر اعظم آزاد کشمیر ،چوہدری محمد سرور،صاحبزادہ ابوالخیر ڈاکٹر محمد زبیر ،نثار علی خان ،حافظ عاکف سعید ،برطانوی و ترک سفیروں سمیت ملکی و غیر ملکی اہم شخصیات کی منصورہ میں امیر جماعت سید منور حسن سے ملاقات
۲کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کیلئے ملک گیر یوم یکجہتی کشمیر ،کشمیر کانفرنسز ،ریلیاں ،جلسے ،جلوس
۳9اپریل ۔نومنتخب امیر جماعت کی تقریب حلف برداری
۴تعزیتی ریفرنس ۔بیاد ڈاکٹر وسیم اختر
۵لاہور میں عوامی مارچ
۶ڈاکٹر مرسی کی شہادت پر ملک بھر میں غائبانہ نماز جنازہ ۔احتجاجی مظاہرے
۷19جون ۔اسلام آباد میں امیر جماعت کی صدارت میں بجٹ سیمینار
۸جے آئی کسان کنونشن ۔راولپنڈی
۹5اگست ۔بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی نے کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمہ کا اعلان کردیا اور 337اور 15Aدفعات کا خاتمہ کردیا
۱۰بھارت کے 5اگست کے اقدام کے خلاف ملک بھر میں کشمیر بچائو ریلیاں
۱۱کرونا وباء سے بچائو کیلئے ملک بھر میں الخدمت فائونڈیشن کے زیر اہتمام ۔ریلیف کیمپس ۔مساجد ،مدارس ،گورودواروں ،چرچز،مندروں میں سینی ٹائزر سپرے ۔ماسک اور ڈاکٹروں و پیرامیڈیکل سٹاف کو حفاظتی لباس کی بڑے پیمانے پر فراہمی
۱۲مرکزی ،صوبائی و ضلعی اجتماعات آن لائن ہوتے رہے ۔قائدین کا آن لائن خطاب
۱۳منصورہ میں الخدمت دستر خوان کا افتتاح ۔مزدوروں ،تنگ دست اور مستحق لوگوں کیلئے سستے کھانا کی فراہمی
۱۴منصورہ میںمیاں طفیل محمد ؒ اور سید منورحسن ؒ کی یاد میں تعزیتی ریفرنسز ۔
۱۵اسلام آباد میں قومی کشمیر کانفرنس
۱۶آئی ایل ایم کے زیر اہتمام وکلاء اور بزنس فورم کے زیر اہتمام تاجروں و صنعتکاروں کے کنونشنز
۱جماعت اسلامی کراچی نے شہری حقوق اور بااختیار بلدیاتی حکومت کے لیے اپنی مہم تیز کر دی، اور قائد آباد سے گورنر ہاؤس تک ریلی اورکئی بڑے مظاہروں کا انعقاد کیا۔
۲امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے بڑھتی ہوئی مہنگائی، غربت اور بے روزگاری پر پی ٹی آئی حکومت کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔
۳عید کے موقع پر، الخدمت نے پشاور میں یتیموں، سڑکوں پر رہنے والے بچوں اور تھیلیسیمیا کے مریضوں کے لیے ایک فلاحی پروگرام کا انعقاد کیا، جس میں سراج الحق نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی۔
۴مئی میں، جماعت اسلامی نے غزہ پر اسرائیلی بمباری اور مسجد اقصیٰ کی بے حرمتی کے خلاف کراچی میں ایک عظیم الشان یکجہتی فلسطین مارچ کا انعقاد کیا۔
۵"گوادر کو حق دو تحریک" نے غیر قانونی ٹرالنگ، سرحدی تجارت پر پابندیوں اور غیر ضروری چیک پوسٹوں کے خلاف قومی سطح پر مقبولیت حاصل کی۔ وزیر اعظم نے عوامی سطح پر اس تحریک کے مطالبات پر کارروائی کی یقین دہانی کرائی۔ حکومت بلوچستان نے مظاہرین کے مطالبات تحریری طور پر تسلیم کر لیے۔
۶خیبر پختونخوا کے بلدیاتی انتخابات کے پہلے مرحلے میں، جماعت اسلامی نے ڈیرہ اسماعیل خان میں تحصیل درابن کی چیئرمین شپ جیت لی۔
۱یکم جنوری کو جماعت اسلامی کے کارکنان نے سندھ اسمبلی کی جانب مارچ کیا اور بلدیاتی قانون کے خلاف 28 روزہ دھرنا دیا۔
۲فروری میں دوبارہ پولنگ کے بعد، خیبر پختونخوا کے بلدیاتی انتخابات کے پہلے مرحلے میں جماعت اسلامی کی کل نشستوں کی تعداد دو تک پہنچ گئی۔
۳اپریل میں، وفاقی شرعی عدالت نے سودی بینکاری کو اسلام کے منافی قرار دیا اور ریاست کو معیشت سے سود ختم کرنے کی ہدایت کی۔ جماعت اسلامی نے کئی سالوں تک اس مقدمے کی پیروی کی۔
۴سراج الحق نے سیاسی جماعتوں پرانتخابی اصلاحات پر متفق ہونے کے لیے زوردیا۔ جماعت اسلامی نے تحریک عدم اعتماد اور رجیم چینج کے دوران پی ٹی آئی یا پی ڈی ایم دونوں میں سے کسی بھی کیمپ کا حصہ بننے سے انکار کر دیا۔
۵تباہ کن سیلاب کے دوران، جماعت اسلامی اور الخدمت نے پورے پاکستان میں وسیع پیمانے پر ریسکیو، ریلیف اور بحالی کا کام انجام دیا۔
۶جماعت اسلامی کراچی نے انفارمیشن ٹیکنالوجی کی مفت ٹرینگ کے لیے "بنو قابل" پروگرام کا آغاز کیا۔ اکتوبر اور دسمبر میں بڑے داخلہ ٹیسٹ منعقد کیے گئے۔
۷حکومت کی جانب سے سابقہ معاہدے پر عمل درآمد میں ناکامی کے بعد "گوادر کو حق دو تحریک" نے اپنا دھرنا دوبارہ شروع کر دیا۔
۱مارچ میں، سپریم کورٹ نے وفاقی شرعی عدالت کے انسدادِ سود کے فیصلے کے خلاف اسٹیٹ بینک اور نیشنل بینک کی اپیلوں کے خلاف فیصلہ دیا۔
۲اپریل میں، سراج الحق نے ایک ہی دن وزیر اعظم شہباز شریف اور پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان سے الگ الگ ملاقاتیں کیں اور انتخابات پر مذاکرات شروع کرنے کے لیے جماعت اسلامی کی معاونت کی پیشکش کی۔ دونوں کے درمیان بالواسطہ رابطے قائم ہوئے مگر دیرپا نہ رہے۔
۳کراچی کے تاخیر شدہ بلدیاتی انتخابات میں، جماعت اسلامی شدید دھاندلی کے باوجود اپنی 86 نشستوں کو بچانے میں کامیاب رہی۔ البته مجموعی طور پر سب سے زیادہ ووٹ حاصل کیے۔
۴پی ٹی آئی نے میئر کے انتخاب میں حافظ نعیم الرحمن کی حمایت کا اعلان کیا، تاہم 32 پی ٹی آئی ارکان کو ڈرا دھمکا اور لالچ دے کر حافظ نعیم الرحمن کے 192 ووٹوں کے مقابلے میں 173 ووٹوں کے ساتھ مرتضیٰ وہاب کو میئر بنا دیا گیا۔
۵مہنگائی، کرنسی کی قدر میں کمی، معاشی پالیسیوں اور بجلی کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف سراج الحق نے ملک گیر ہڑتال کا اعلان کیا۔
۶اکتوبر میں غزہ پر نئے اسرائیلی حملے کے بعد، جماعت اسلامی نے اسلام آباد، کراچی اور دیگر شہروں میں مارچ اور مظاہرے کیے۔ فلسطین فنڈ قائم کیا گیا، جبکہ الخدمت نے صرف 3 ماہ میں مصر کے العریش ایئرپورٹ کے ذریعے تقریباً 1.35 ارب روپے کی فوری امداد بھیجی۔
۷اسرائیل کی حمایت کرنے والی مصنوعات اور کمپنیوں کے خلاف ملک گیر بائیکاٹ مہم شروع ہوئی،
۸"بنو قابل 2.0" نے مفت آئی ٹی کورسز کے لیے نوجوانوں کی بڑی تعداد کو اپنی جانب متوجہ کیا۔
حافظ نعیم الرحمن جماعت اسلامی پاکستان کے چھٹے امیر منتخب
۱جماعت اسلامی نے اسلام آباد اور صوبائی دارالحکومتوں میں فلسطین کے لیے بڑے پیمانے پر مظاہرے کیے۔
۲8 فروری کو ہونے والے عام انتخابات میں، سندھ اور بلوچستان کی صوبائی اسمبلی میں جماعت اسلامی کے 3 امیدواروں کو کامیاب قرار دیا گیا، جماعت کے متعدد قومی و صوبائی اسمبلی کے امیدواروں کو دھاندلی کے ذریعے فتح سے محروم کیا گیا ہے۔
۳جماعت اسلامی نے اس بات پر زور دیا کہ متنازعہ نتائج کو اصلی فارم 45 کے ریکارڈ کی بنیاد پر درست کیا جانا چاہیے۔
۴حافظ نعیم الرحمن نے انہیں دی گئی سندھ اسمبلی کی نشست یہ کہتے ہوئے چھوڑ دی کہ یہ نشست فارم 45 کے مطابق دوسرے امیدوار نے جیتی ہے۔
۵اپریل میں، حافظ نعیم الرحمن پانچ سال کی مدت کے لیے جماعت اسلامی پاکستان کے چھٹے امیر منتخب ہوئے۔
۶جماعت اسلامی نے راولپنڈی میں بجلی کے بھاری بلوں، غیر منصفانہ ٹیکسز اور آئی پی پیز کے استحصالی معاہدوں کے خلاف 14 روزہ عظیم الشان دھرنا دیا۔
۷حکومت آئی پی پیز معاہدوں کا جائزہ لینے، بجلی کے چارجز کم کرنے اور تنخواہ دار شہریوں کو ٹیکس ریلیف فراہم کرنے کے لیے ایک ٹاسک فورس کے قیام پر رضامند ہوگئی۔ آئی پی پیز معاہدوں کی بعد میں ہونے والی تشکیل نو کے نتیجے میں قومی خزانے کے لیے 3 کھرب روپے سے زائد کی بچت ہوئی۔
۸ستمبر میں، ہزاروں طلباء نے مفت آئی ٹی ٹریننگ کے لیے کراچی میں "بنو قابل" انٹری ٹیسٹ میں حصہ لیا۔
۹7 اکتوبر کو سرکاری طورپر یوم یکجہتی فلسطین کو منایا گیا۔ امیر جماعت کی کوششوں سے وزیر اعظم کی سربراہی میں آل پارٹیز کانفرنس کا انعفاد ہوا۔
۱۰اکتوبر میں، حافظ نعیم الرحمن کی قیادت میں جماعت اسلامی کے ایک وفد نے ملائیشیا کے وزیر اعظم انور ابراہیم سے ان کے اسلام آباد کے سرکاری دورے کے دوران ملاقات کی۔
۱جماعت اسلامی نے 17 اور 31 جنوری کو ملک گیر احتجاج کے ذریعے بجلی کے نرخوں اور آئی پی پیز معاہدوں کے خلاف اپنی مہم جاری رکھی۔
۲15 اور 16 فروری کو، جماعت اسلامی نے اسلام آباد میں ایک بین الاقوامی کانفرنس بعنوان "اے وائس آف دی وائس لیس: ایکو آف فلسطین" کی میزبانی کی۔
۳26 فروری کو ڈاکٹر ذاکر نائیک نے منصورہ کا دورہ کیا، حافظ نعیم الرحمن سے ملاقات کی اور جماعت اسلامی کی مذہبی، تعلیمی اور فلاحی سرگرمیوں پر بریفنگ حاصل کی۔
۴جماعت اسلامی نے ملک گیر مظاہروں، بائیکاٹ اپیل اور اسلام آباد میں ایک عظیم الشان یکجہتی فلسطین مارچ کے ذریعے اپنی فلسطین مہم کو آگے بڑھایا۔ غزہ کے ساتھ یکجہتی کے لیے 26 اپریل کو ملک گیر شٹر ڈاؤن ہڑتال کی گئی۔
۵چھ ہفتے کی جنگ بندی کے دوران، الخدمت نے غزہ کی پٹی کے اندر اپنی انسانی امدادی کارروائیوں کو وسعت دی۔
۶"بنو قابل" پروگرام پورے ملک میں پھیل گیا، اور مہمند، گجرات، لاہور، اسلام آباد، پشاور اور دیگر شہروں میں انٹری ٹیسٹ اور شروع کیےکلاسز شروع کیں گئ۔
۷مئی میں بھارتی حملہ اور پاکستان کے جوابی اقدام کے بعد، حافظ نعیم الرحمن نے ملکی دفاع میں اداروں کے کردار کی تعریف کی۔ انہوں نے لائن آف کنٹرول کے فارورڈ علاقوں کا بھی دورہ کیا۔
۸جون میں جناح کنونشن سینٹر، اسلام آباد میں یوتھ ڈیجیٹل سمٹ کا انعقاد کیا گیا، جس میں نمایاں پروفیشنلز اور انفلوئینزرز نے شرکت کی۔
۹جماعت اسلامی نے ممبرشپ مہم کا آغاز کیا۔
۱۰اگست میں، حافظ نعیم الرحمن نے ایران کا دورہ کیا اور ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی اور ایران کے سابق وزیر خارجہ کمال خرازی سمیت اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں کیں۔
۱۱ستمبر میں، حافظ نعیم الرحمن نے پین ملائیشین اسلامک پارٹی (PAS) کی 71ویں سالانہ جنرل اسمبلی میں بطور مہمان خصوصی شرکت کی۔ انہوں نے غزہ پر اسرائیلی حملے اور مسلم امہ کو درپیش وسیع تر چیلنجز پر خطاب کیا۔
۱۲محدود فنڈنگ اور محدود اختیارات کے باوجود، کراچی میں جماعت اسلامی کی زیر قیادت ٹاؤن انتظامیہ نے مقامی ترقیاتی کاموں کو وسعت دی۔ ان منصوبوں میں سڑکیں، اسکول، ڈسپنسریاں، پارکس، اسپورٹس کمپلیکسز، اوپن ایئر جمز اور محلوں کے عوامی مقامات کی تعمیر و بحالی شامل تھی۔
۱۳جماعت اسلامی نے اقبال پارک اور مینار پاکستان میں "بدل دو نظام" کے موضوع کے تحت تین روزہ اجتماعِ عام کا انعقاد کیا۔ اس میں لاکھوں کارکنان اور حامیوں کے ساتھ ساتھ 45 ممالک سے 150 سے زائد مندوبین نے شرکت کی۔
۱۴دسمبر میں، حافظ نعیم الرحمن نے پنجاب لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2025 کو غیر آئینی، غیر جمہوری اور ناکافی اختیارات کی منتقلی کے باعث مسترد کر دیا۔
۱کراچی کے حقوق اور منتخب مقامی حکومتوں کو اختیارات کی منتقلی کے لیے جماعت اسلامی کے سندھ اسمبلی کے قریب ایک احتجاج کو شدید لاٹھی چارج اور پولیس کی غنڈہ گردی کا سامنا کرنا پڑا۔
۲مارچ کے اوائل میں، وزیر اعظم شہباز شریف نے حافظ نعیم الرحمن کی قیادت میں جماعت اسلامی کے ایک وفد سے ملاقات کی اور ایران امریکہ تنازعے سے پیدا ہونے والی علاقائی صورتحال پر اِن کیمرہ بریفنگ دی۔
۳جماعت اسلامی نے ایندھن کی قیمتوں میں کمی، پیٹرولیم لیوی کے خاتمے، حکومت کے شاہانہ اخراجات میں کٹوتی اور آئی پی پیز کے استحصالی معاہدوں کی منسوخی یا تشکیل نو کا مطالبہ کرتے ہوئے اپنی معاشی مہم تیز کر دی۔
۴جماعت اسلامی پنجاب کے سابق امیر میاں مقصود احمد انتقال کر گئے۔
۵"بنو قابل" پروگرام 70 سے زائد شہروں تک پھیل گیا، لاکھوں نوجوانوں نے شرکت رہی۔ اس پروگرام کو قومی سطح پر ہنر کے فروغ کے ایک بڑے اقدام کے طور پر تسلیم کیا گیا۔
۶جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی جانب سے رابطہ کیے جانے کے بعد، جماعت اسلامی پاکستان نے آزاد کشمیر کے بحران کو حل کرنے میں مدد کے لیے حکومت اور عوامی نمائندوں کے درمیان ثالثی کی پیشکش کی۔