News Detail Banner

ملک میں قومی خزانہ، توشہ خانہ اور اب سیلاب متاثرین کی امداد بھی محفوظ نہیں ہے۔سراج الحق

2مہا پہلے

لاہور03 اکتوبر2022ء

امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہا ہے کہ ملک میں قومی خزانہ، توشہ خانہ اور اب سیلاب متاثرین کی امداد بھی محفوظ نہیں ہے۔ حکمرانوں نے سیلاب متاثرین کے لیے شفاف ریلیف پروگرام تشکیل نہ دیا تو نیا انسانی بحران جنم لے سکتا ہے۔ 22کروڑ عوام معاشی، سیاسی اور سماجی دہشت گردی کا شکار ہے۔ مرکز اور صوبائی حکومتوں کا بحالی اور ریلیف کے کاموں میں کردار دوربین سے بھی نظر نہیں آتا۔ ملک میں مہنگائی کا 47سالہ ریکارڈ ٹوٹ چکا، لوگ آٹے کے حصول کے لیے دربدر ہو گئے۔ سندھ میں سیلاب و بارش متا ثرین کی حالت زار حکومتی دعوؤں کی نفی ہے،بیماریوں کی صورت میں نیا انسانی المیہ جنم لینے جارہا ہے، لیکن اقتدار کی جنگ میں مصروف حکمرانوں کو خیال نہیں ہے۔ کرپشن اور نااہلی کی وجہ سے ملکی و غیر ملکی امداد سے متاثرین مستفید نہیں ہو سکے۔ حکمرانوں کو صرف بھیک مانگنا آتا، عوام کو ریلیف دینا نہیں۔ غیر ملکی امداد کہاں جارہی کچھ پتا نہیں ہے۔سندھ میں ریلیف اور بحالی کا جو کام نظر آرہا اس میں الخدمت اور دیگر این جی اوز کا بڑا کردار ہے۔ ملک میں دو طرح کا نظام چل رہا ہے، غریبوں کا کوئی پرسان حال نہیں اور دوسری جانب اشرافیہ کے لیے چھٹی کے دن بھی عدالتیں کھل جاتی ہیں۔ وہ جا م شورو میں کراچی نہر کے کنارے واقعہ الخدمت کے تحت قائم خیمہ بستی کے دورے اور وہاں امداد کی تقسیم کے دوران متاثرین سے خطاب اور میڈیا سے بات چیت کررہے تھے۔اس موقع پر نائب امیر پاکستان اسد اللہ بھٹو، امیر صوبہ سندھ محمد حسین محنتی اور دیگر صوبائی و مقامی رہنما بھی موجود تھے۔

سراج الحق نے کہاکہ برسات کی تباہی کے بعد میں تیسری مرتبہ اندرونِ سندھ آیا ہوں، مجھے متاثرین کی بحالی اور ریلیف کے کاموں میں کوئی بہتری نظر نہیں آئی ہے۔ لوگ خیمہ بستیوں میں رہ رہے ہیں جہاں انسانی ضرورت کی تمام سہولیات موجود نہیں ہیں۔ حکومت کو اب تک ملکی و غیر ملکی امداد کے بعد متاثرین کو مکانات بنا کر دینا شروع کرنا تھا، پانی نکل جانا چاہیے تھا،لیکن حکومت ِ سندھ نے نکاسی آب کا نظام بہتر بنایا اور نہ آب پاشی کا نظام درست کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔ انھوں نے کہاکہ کرپشن نے ملک کو تباہ کردیا ہے۔پیپلزپارٹی کے رہنماؤں کے گھروں سے امدادی سامان برآمد ہو رہا ہے،لیکن حکومت نام کی کوئی چیز نظر نہیں آرہی ہے۔ انھوں نے کہاکہ اب ایک نیا انسانی المیہ جنم لینے جارہا ہے خیمہ بستیوں میں ملیریا، ڈائریا،ڈینگی بخار اور دیگر امراض جنم لے رہے ہیں۔ خواتین وبچے بے حد متاثر ہیں حکومت ِ سندھ نے کوئی موبائل و فیلڈ اسپتال نہیں بنائے، نہ مچھر مار اسپرے کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ ایسا کب تک چلتا رہے گا۔ میں سمجھتا ہوں کہ اگر الخدمت اور دیگر رفاعی وفلاحی تنظیمیں اور اہلِ خیر نہ ہو تے تو حکومت مکمل ناکام ہو جاتی اور اب بھی یہی لگ رہا ہے۔

امیر جماعت نے اس امر پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکمران اقتدار کی جنگ میں لگے ہو ئے ہیں۔ پی ڈی ایم اور پی ٹی آئی کی حکومتوں نے عوام کو مایوس کیا ہے۔ تین کروڑ سے زائد لوگ سیلاب و بارشوں سے متاثر ہو ئے ہیں، لیکن کسی نے ریلیف کا ایسا کام نہیں کیا جس کو خوش آئند کہا جا سکے۔ یہ سائفر اور این آر او کا کھیل کھیل رہے ہیں، یہاں دو قسم کے نظام ہیں ایک غریب آدمی کے لیے ہے جب کہ دوسرا اشرفیہ کے لیے ہے، جس کے لیے چھٹی کے دن اور نصف شب کو بھی عدالتیں کھل جاتی ہیں اور غریب انصاف کے لیے عدالتوں کے چکر لگا لگا کر دنیا سے رخصت ہو جاتا ہے۔ انھوں نے کہاکہ ہمیں اس نظام کو بدلنا ہو گا روٹی، کپڑا، مکان اور انصاف کی ضمانت قرآن اور نبی ؐ کا اسوہئ حسنہ دیتا ہے،یہ مبارک مہینہ ہے ہمیں آپؐ کی تعلیمات کے مطابق خود جدوجہد کرنا ہو گی۔ ایسے لوگوں کا احتساب کرنا لازمی ہے جنہوں نے اختیارات اور اقتدار سے ناجائز فائدہ اٹھایا ہے۔ جماعت اسلامی کو اللہ تعالیٰ نے موقع فراہم کیا تو ملک میں حقیقی معنوں میں ایک نظام ہو گا اور اللہ تعالیٰ کے نظام سے بہتر کوئی نظام نہیں ہو سکتا۔