News Detail Banner

حکومت کی جانب سے عوام پر بمباری جاری ہے، بجٹ کے نتیجے میں روٹی مہنگی اور موت سستی ہو گئی سراج الحق

8دن پہلے

لاہور16 جون2022ء

امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہا ہے کہ حکومت کی جانب سے عوام پر بمباری جاری ہے، بجٹ کے نتیجے میں روٹی مہنگی اور موت سستی ہو گئی۔ وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے جو بجٹ پیش کیا وہ جھوٹ پر مبنی ڈاکومنٹ اور غلامی کا مسودہ ہے۔ 9502ارب کے بجٹ میں لگ بھگ چارہزار سودی قرضوں کی ادائیگی کے لیے اور چارہزار این ایف سی کی مد میں صوبوں کو جائے گا، جب کہ 1500 ارب دفاع پر خرچ ہوں گے۔حکومت بتائے ترقیاتی کاموں اور تنخواہوں کے لیے پیسہ کہاں سے لائے گی۔ عوام کو نچوڑ کر جو رقم اکٹھی کی جائے گی وہ عالمی مالیاتی اداروں کی قسطیں چکانے میں صرف ہو گی۔ یہ کہاں کا انصاف ہے کہ مراعات یافتہ طبقہ کی عیاشیوں کی قیمت غریب عوام ادا کریں۔ مہنگائی کی وجہ سے لوگوں کے لیے سانس لینا دشوار، حکمران اشرافیہ 2600ارب کی سبسڈی لے رہا ہے۔ پی ڈی ایم، پی پی کی حکومت پی ٹی آئی کا تسلسل ہے، دونوں نے قوم کا حال اور مستقبل آئی ایم ایف کے ہاتھوں بیچ دیا۔ بدھ کی رات گیارہ بجے حکومت نے عوام پر ایک اور ڈرون حملہ کر کے پٹرول کی فی لٹر قیمت 234روپے کر دی، لوگوں کے لیے اپنے بچوں کو موٹرسائیکل پر بٹھا کر سکول چھوڑنا دشوار ہو گیا ہے۔ گیس کی قیمت میں 45فیصد اضافہ ہوا، 135گرام کی روٹی کی قیمت 20روپے تک پہنچ گئی، غریب کو ایک نوالہ دو روپے میں پڑرہا ہے۔ حکومت 37ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کے دعوے کرتی ہے، مگر ملک کے طول و عرض میں 12سے 14گھنٹے لوڈشیڈنگ جاری ہے، صرف اسلام آباد میں وزیروں اور مشیروں کے دفاتر میں ائیرکنڈیشنر چل رہے ہیں۔ قوم کو کہتا ہوں کہ سینہ کوبی اور رونے دھونے سے مسائل حل نہیں ہوں گے۔ موجودہ نظام تباہی کا نظام ہے اور تینوں بڑی جماعتیں اس نظام کی رکھوالی میں مصروف ہیں۔ کل جو بیانیہ پی ٹی آئی کا تھا وہ آج پی ڈی ایم اور پی پی کا ہے۔ ملک کو اسلامی نظام ہی بچا سکتا ہے اور صرف جماعت اسلامی ہی پاکستان میں اللہ اور اس کا قانون نافذ کر کے ملک کو مسائل کی دلدل سے نکالنے کی اہلیت رکھتی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انھوں نے المرکز الاسلامی پشاور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔ امیر صوبہ خیبرپختونخوا پروفیسر محمد ابراہیم ان کے ہمراہ تھے۔

سراج الحق نے کہا کہ ایک طرف غریب نان شبینہ کا محتاج ہے تو دوسری جانب حکمرانوں کے اثاثوں میں اضافہ ہورہا ہے، لیکن ڈھٹائی کا عالم یہ ہے کہ حکمران اب بھی قوم کو یہی رٹ سناتے ہیں کہ وہی ملک کے مسائل حل کر سکتے ہیں۔ ان حکمرانوں کی وجہ سے ملک میں ستر لاکھ نوجوان منشیات کے عادی، 85فیصد لوگ مضرصحت پانی پینے پر مجبور ہیں۔ گزشتہ تین برسوں میں مزید ایک کروڑ لوگ بے روزگاری کا شکار ہوئے اور خط غربت سے نیچے چلے گئے۔ اس وقت مجموعی طور پر ملک میں آٹھ کروڑ لوگ غربت کی لکیر کے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ خیبرپختونخوا کے کم و بیش تین سو جنگلات میں آگ لگی ہوئی ہے، گرین گولڈ جل رہا ہے اور حکومتیں تماشا دیکھ رہی ہیں۔ پنجاب میں شرم ناک کھیل جاری، گزشتہ روز اسمبلی کے دو اجلاس ہوئے، ایک سپیکر نے بلایا اور دوسرا گورنر کے آرڈیننس کے تحت ہوا۔ سابقہ حکومت نے کراچی کو 1100ارب روپے دینے کا اعلان کیا جس میں سے تاحال ایک ارب بھی ملک کے سب سے بڑے شہر کو نہیں ملا جہاں آدھی سے زیادہ آبادی کو پینے کا صاف تک میسر نہیں۔ بلوچستان کے ساتھ کیے گئے وعدے وفا نہیں ہوئے جس کی وجہ سے وہاں کا نوجوان باغی ہو رہا ہے۔ قبائلی علاقوں کی ترقی کے اعلانات جھوٹ کا پلندہ ثابت ہوئے۔ تین پارٹیوں نے عدالتی نظام کو تباہ کر دیا ہے۔ آج عدالتوں کے دروازے سونے کی چابی سے کھلتے ہیں، بیس لاکھ سے زائد مقدمات زیرالتوا ہیں۔

امیر جماعت نے کہا کہ معاشی بحران کی وجہ وسائل کی کمی نہیں بلکہ وہ لوگ ہیں جو 75برسوں سے قوم کی گردنوں پر سوار ہیں۔ ہمارے پاس زرخیز زمین، خوب صورت وادیاں، زیرزمین ذخائر، پانچ دریا اور ہزاروں میل لمبے ساحل ہیں۔ ملک میں کروڑوں نوجوان باصلاحیت ہیں لیکن کرپشن، سودی نظام اور کرپٹ حکمرانوں کی وجہ سے ملک تباہی کا شکار ہے۔ اس قوم کو آئی ایم ایف کے قرضوں کی ضرورت نہیں۔ عالمی مالیاتی اداروں سے جو قرضے لیے جاتے ہیں وہ حکمرانوں کے اکاؤنٹ میں جمع ہو کر دوبارہ بیرون ملک چلے جاتے ہیں، پاناما لیکس اور پنڈوراپیپرز اس کی مثال ہیں۔انھوں نے کہا کہ جماعت اسلامی ہی اس ملک میں حقیقی احتساب اور پائیدار نظام کی بنیاد رکھ سکتی ہے۔ ہم اس ملک میں زکوٰۃ، عُشر کا نظام نافذ کریں گے۔ اسلامی بنک کاری اور مضاربہ، مشارکہ، سکوک اور اجارہ کا نظام متعارف کروا کر ترقی اور خوشحالی کی بنیاد رکھی جائے گی۔جماعت اسلامی ملک کے نظام قرآن و سنت کی تعلیمات کے مطابق درست کرے گی۔قوم اب آزمائے ہوئے لوگوں کو مسترد کرے ا ور جماعت اسلامی کا ساتھ دے۔