News Detail Banner

ادارے خود اعلیٰ تقرریوں کا طریقہ کار وضح کریں اور پارلیمنٹ اس کی منظوری دے،امیرالعظیم

6دن پہلے


لاہور14 مئی 2022ء

سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی امیرالعظیم نے ججز اور آرمی چیف کی تقرری کے معاملات میں سیاسی عمل دخل اور سیاسی قیادت کی صوابدید کو یکسر ختم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے  میرٹ اور سینیارٹی کے اصولوں کو اپنانے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ 

ہفتہ کو منصورہ میں جاری مرکزی تربیت گاہ کے شرکاء سے خطاب اور ایک الگ بیان کے ذریعے انہوں نے کہا کہ ادارے خود اعلیٰ تقرریوں کا طریقہ کار وضح کریں اور پارلیمنٹ اس کی منظوری دے۔ اصولوں اور قوانین کی تشکیل سے مستقبل میں سیاسی قیادت کی پسند و ناپسند پر تقرریوں کی بحث مکمل طور پر ختم ہوجائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس صورت حال میں جب ملک پر حکمرانی کرنے والی سیاسی جماعتیں خود جمہوریت کے اصولوں سے ناآشنا اور جماعتی الیکشن کراوئے بغیر یا نام نہاد انتخابی عمل کے ذریعے شخصی آمریت اور خاندانی اجارہ داری کو قائم رکھے ہوئے ہیں کیسے شفاف طریقے سے ملک کے اہم ترین اداروں میں اعلیٰ ترین عہدوں پر تقرریاں کرسکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ججز اور جرنیلوں کی تقرریوں کو متنازعہ بنا دیا گیا ہے اور سوشل میڈیا کے بڑھتے ہوئے رجحان سے یہ معاملات انتہائی نازک صورتحال اختیار کرچکے ہیں لہٰذا ایسا طریقہ کار وضح کرنے کی ضرورت ہے جس پر کوئی انگلی نہ اٹھا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ امر واضح ہوچکا ہے کہ بڑے بڑے سیاستدان محض جمہوریت کا راگ الاپتے ہیں، مگر اپنی پارٹیوں کو آمرانہ انداز میں چلا رہے ہیں۔ ملک میں جاری لڑائی صرف مفادات کے لیے ہے قوم کی کسی کو فکرنہیں۔ 

امیرالعظیم نے افسوس کا اظہارکیاکہ نام نہاد بڑی سیاسی جماعتیں، فوج، عدلیہ اور دیگر ادارے قومی تقدس کا نام لے کر عوام سے اندھا اعتماد چاہتے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ ادارے بیانیہ کی تشکیل پر زور دینے کی بجائے کارکردگی کو بہتر بنائیں تاکہ عوام کے دلوں میں ان کے لیے حقیقی عزت پیدا ہو۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی ملک میں آئین و قانون کی بالادستی اور عوام کے حقوق کے لیے جدوجہد کررہی ہے۔ سود سے پاک معیشت، کرپشن فری اسلامی پاکستان کے لیے عوام جماعت اسلامی کا ساتھ دے۔ آزمائے ہوئے وڈیروں، جاگیرداروں اور کرپٹ سرمایہ داروں کو باربار موقع دینے سے ملک کے مسائل حل نہیں ہوں گے۔ جماعت اسلامی الیکشن اصلاحات کے بعد فوری انتخابات چاہتی ہے۔