News Detail Banner

تبدیلی مذہب اور گھریلو تشدد کے نام پر بنائے جانے والے قوانین ملک کی نظریاتی اساس پر حملہ ہیں،سراج الحق

6دن پہلے


لاہور15 ستمبر2021ء

امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہا ہے کہ الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کی تنصیب حکومت کا آئندہ الیکشن میں ڈیجیٹل دھاندلی کا منصوبہ ہے۔ انتخابی اصلاحات کے بغیر پائیدار جمہوریت کاقیام ممکن نہیں تاہم اس کے لیے تمام سیاسی جماعتوں کا مل بیٹھ کر متفق ہونا بے حد ضروری ہے۔ حکومتی اقدامات مزید تصادم کی راہ ہموار کر رہے ہیں۔ پی ٹی آئی نے الیکشن کمیشن پر چڑھائی کی، عدلیہ پر حملے کیے اور اب میڈیا کو بھی مکمل کنٹرول میں کرنا چاہتی ہے۔ جماعت اسلامی میڈیا کی آزادی کے لیے صحافیوں کی جدوجہد کا مکمل ساتھ دے گی۔ حکومت نے تین برسوں میں معیشت کو مکمل تباہ کر دیا۔ وزیراعظم آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک کے مرید نہ بنتے تو ملک کا اتنا برا حال نہ ہوتا۔ ادویات کی قیمتوں میں ایک دفعہ پھر اضافہ ہو گیا۔ آٹا، چینی، دال، گھی پہلے ہی عام آدمی کی پہنچ سے دور ہے۔ حکمران غریب کو خوراک اور ادویات دونوں سے مکمل محروم کرنا چاہتی ہے، پی ٹی آئی خدا کا خوف کرے۔ ان خیالات کا اظہار انھوں نے منصورہ میں مرکزی مجلس عاملہ کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ 

امیرجماعت اسلامی نے اعلان کیا کہ جماعت اسلامی خواتین کے حقوق کے تحفظ کے لیے مہم چلائے گی۔ نوجوانوں کو روزگار کی فراہمی اور ان کے بہتر مستقبل کے لیے بھی ملک بھر میں بیداری مہم کا آغاز ہو گا۔ جماعت اسلامی کی مجلس شوریٰ نے ملک میں حال ہی میں پاس ہونے والے اور زیر غور تمام غیر اسلامی اور غیر شرعی قوانین کو مسترد کرتے ہوئے حکومت سے ان قوانین کو فی الفور واپس لینے کا مطالبہ کیا۔ امیر جماعت نے کہا کہ تبدیلی مذہب اور گھریلو تشدد کے نام پر بنائے جانے والے قوانین ملک کی نظریاتی اساس پر حملہ اور کروڑوں مسلمانوں کو کرب اور تکلیف میں مبتلا کرنے کے حکومتی اقدامات ہیں۔

انھوں نے کہا کہ موجودہ حکومت نے ریاست مدینہ کا نام لے کر قوم کو دھوکا دیا۔ تمام حکومتی اقدامات وزیراعظم کے دعوؤں، وعدوں کی مکمل نفی کرتے ہیں۔ ناموس رسالتؐ پر حملے، علما و مدارس اور مساجد حکومت کی ہٹ لسٹ پر ہیں۔جماعت اسلامی ان اقدامات کی شدید الفاظ میں مذمت کرتی ہے، اگر حکومت نے اپنی سمت درست نہ کی اورملک کے اسلامی تشخص کو نقصان پہنچانے کی کوششیں جاری رکھیں، تو شدید ردعمل دیں گے۔

سراج الحق نے کہا کہ موجودہ حکمرانوں اور سابقہ ادوار کی پالیسیوں میں رتی برابر فرق نہیں۔ تبدیلی سے مراد صرف وزرا اور بیوروکریسی کے تبادلے ہیں۔ پرائیویٹائزیشن پالیسی سے لے کر، آئی ایم ایف کی غلامی تک حکومت معاشی میدان میں اپنے سابقین کے اصولوں کی ہی پیروی کر رہی ہے۔ اداروں پر حملے اور انھیں کنٹرول کرنے اور کمزور کرنے کے ماضی میں بھی واقعات ہوئے اور اب بھی تواترسے ایسا ہو رہا ہے۔ مہنگائی، بے روزگاری نے لوگوں کا برا حال کر دیا ہے، بچے سکولوں سے باہر ہیں، صحت کے شعبہ میں بہتری پر کوئی توجہ نہیں دی گئی۔ چھوٹا کسان، مزدور، چھوٹا تاجر کسی کا کوئی پرسان حال نہیں۔ مافیاز نے حکومت کو کنٹرول کر رکھا ہے جو غریبوں کا خون چوس کر اپنی جیبیں بھر رہے ہیں۔ وزیراعظم تین سال گزرنے کے باوجود بھی سبھی خرابیوں کا ذمہ دار ماضی کے حکمرانوں کو ٹھہراتے ہیں، وہ قوم کو دھوکا دینا بند کریں۔ الیکشن میں حکمرانی کا مزا لینے والی اور عوام کو محروم رکھنے والی سبھی جماعتوں کا احتساب ہو گا۔ عوام کے پاس جماعت اسلامی کے سوا کوئی دوسرا آپشن نہیں۔ ہم قوم سے وعدہ کرتے ہیں کہ اقتدار میں آ کر ملک کو حقیقی معنوں میں اسلامی فلاحی ریاست بنائیں گے۔

مجلس عاملہ کے اجلاس میں جماعت اسلامی کی کنٹونمنٹ الیکشن میں کارکردگی اور آئندہ الیکشن سے متعلق تیاری کے امور زیر بحث آئے، افغانستان کی صورت حال پر بھی گفتگو ہوئی۔ مجلس عاملہ نے کشمیری اور فلسطینی مسلمانوں پرہونے والے مظالم پر حکومت اورعالمی برادری کی خاموشی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایااور کشمیراور فلسطین پر بھرپور آواز اٹھائے رکھنے کے عہد کا اعادہ کیا۔