News Detail Banner

قادیانی اورسیکولرلابیز توہین رسالت کے قانون میں ترامیم چاہتی ہیں،لیکن جماعت اسلامی ایسا نہیں ہونے دے گی،سراج الحق

14دن پہلے

لاہور/07ستمبر2021

امیرجماعت اسلامی سراج الحق نے کہا ہے کہ نبی مہربان صلی اللہ علیہ وسلم کی ختم نبوت امت پر اللہ عزوجل کا احسان عظیم ہے۔ ختم نبوت کے عقیدے نے پونے دوارب کے قریب مسلمانوں کو وحدت کی لڑی میں پرو دیا ہے۔ سازشی عناصر حضور  ﷺکے زمانے سے لے کر اب تک مسلمانوں کے دلوں سے محمد عربی ﷺکی محبت کم کرنے اور عقیدہ ختم نبوت کے خلاف تانے بانے بن رہے ہیں۔ پاکستان ان سازشیوں کی آماجگاہ رہاہے۔ دنیا کاواحد ایٹمی اسلامی ملک اور اس میں بسنے والے حضور ﷺکے کروڑوں غلام ان کو ایک آنکھ نہیں بھاتے۔ مجاہدختم نبوت اور بانی جماعت اسلامی سید مودودیؒ نے اپنے دلکشں اور آسان تحریری انداز میں عقیدہ ختم نبوت اسلامیان پاکستان کے دلوں میں اتار دیا۔ اسلامی جمعیت طلبہ نے اپنے خون سے تحریک ختم نبوت ﷺمیں رنگ بھرا۔ ملک کے اسلامی قوانین دشمنان دین کو پسند نہیں، قادیانی اورسیکولرلابیز توہین رسالت کے قانون میں ترامیم چاہتی ہیں۔اہم حکومتی عہدوں پرقادیانیوں کی تعیناتی کی رپورٹس ہر پاکستانی کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔ ایسے عناصر ملکی سلامتی اوروحدت کے لیے نقصان دہ ہیں۔ ہمارے خاندانی نظام پر حملے ہورہے ہیں، علماء اورمدارس، دین بیزار طبقہ کی ہٹ لسٹ پر ہیں۔ وزیراعظم نے ملک کو مدینہ کی ریاست بنانے کا وعدہ کیا مگر ان کی حکومت کے کام اس کے برعکس ہیں۔ قوم ملک کی نظریاتی اساس کی حفاظت کے لیے متحدہو۔ وعدہ کرتا ہوں جماعت اسلامی عقیدہ ختم نبوتﷺ اور پاکستان کے اسلامی تشخص کی حفاظت کے لیے ہر میدان میں ہراول دستے کاکردار ادا کرتی رہے گی۔ ہماری جانیں دین کی سربلندی اور حفاظت کے لیے قربان۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے منصورہ میں کارکنان  جماعت اسلامی کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

سراج الحق نے پاکستان میں تحریک ختم نبوتﷺ کے تاریخی پس منظر پر بات کرتے ہوئے شرکاء کو بتایا کہ سید مودودیؒ نے فتنہ قادیانیت کی حقیقت کو شروع دن سے ہی پہچان لیا تھا اور قیام پاکستان سے قبل ہی اسلامیان برصغیر کو اس کے بارے میں آگاہ کرنا شروع کردیا تھا۔ پاکستان میں ہجرت کرنے کے بعد انہوں نے ملک میں اسلامی نظام کے نفاذ کا بھرپور مطالبہ شروع کردیا جس پر بانی پاکستان قائداعظم محمدعلی جناحؒنے واضح کردیا تھا کہ پاکستان کا نظام قرآن وسنت پر مبنی ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں ختم نبوتﷺ کی پہلی باقاعدہ تحریک کا آغاز 1953ء میں ہوا جس میں تمام اکابرعلما ء نے مجاہدانہ کردار ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ مئی 1974 کو ربوہ اسٹیشن پر قادیانی غنڈوں کی جانب سے اسلامی جمعیت طلبہ کے نوجوانوں پر تشدد کی خبر کا پورے ملک میں پھیل جانے پر قوم کا رد عمل قادیانیت اور حکمرانوں کے لیے درد سر بن گیا۔ اس پر جاندار تحریک کا آغاز ہوا تو تمام دینی جماعتیں، علماء اس میں شامل ہوگئے اورمعاملہ قومی اسمبلی میں پہنچ گیا، اور پھر سب نے دیکھا قادیانیت پسپا ہوگئی۔انہوں نے کہاکہ سید ابوا اعلیٰ مودودیؒ اور دیگراکارین امت کی علمی کوششوں سے آئین میں مسلم اور غیر مسلم کی تعریف کی شکل میں فتنہ قادیانیت کی آئینی اور قانونی محاذ پر بیخ کنی ہوگئی۔

امیرجماعت نے زور دیا کہ آج پاکستانیوں کو ستر کی دہائی جیسا جذبہ دکھانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ قوم نیک، صالح اور دین دار قیادت کو آگے لائے۔ قرآن وسنت کا نظام ہی ملک کے مسائل کا واحد حل ہے۔ اگر قوم نے جماعت اسلامی پراعتماد کیا تو ہم ملک میں عدل وانصاف پر مبنی اسلامی معاشرہ کی تشکیل کرکے پاکستان کو عظیم سلطنت بنائیں گے۔