News Detail Banner

پاکستانی مصنوعات کسی لحاظ سے پیچھے نہیں، پالیسی درست اور صنعتوں کو سہولیات دینا ہوں گی، حافظ نعیم الرحمٰن

2گھنٹے پہلے

پاکستانی مصنوعات کسی لحاظ سے پیچھے نہیں، پالیسی درست اور صنعتوں کو سہولیات دینا ہوں گی، حافظ نعیم الرحمٰن
میرا برانڈ پاکستان کو مسلم ممالک تک لے کر جائیں گے
نومبر میں اسلام آباد میں نمائش ہوگی،امیر جماعت کا ترکی اور بنگلہ دیش سمیت دیگر ممالک میں بھی انعقاد کا اعلان
امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا ہے کہ میرا برانڈ پاکستان محض ایک نمائش نہیں بلکہ ایک نظریہ ہے، پاکستانی مصنوعات کسی بھی لحاظ سے دنیا کی مصنوعات سے پیچھے نہیں، ضرورت صرف پالیسیوں کو درست کرنے، صنعتوں کو سہولیات فراہم کرنے، پیداواری لاگت کم کرنے اور برآمدات بڑھانے کی ہے۔لاہور ایکسپو سینٹر میں میرا برانڈ پاکستان کی نمائش کا افتتاح کرنے کے بعدمیڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا کہ میرا برانڈ پاکستان کی نسبت اب پاکستان کے یومِ آزادی سے بن چکی ہے۔ گزشتہ سال ایک ہال میں اس نمائش کا انعقاد کیا گیا تھا، جبکہ اس مرتبہ ایکسپو سینٹر میں ہر طرف میرا برانڈ پاکستان کے اسٹالز سجائے گئے ہیں۔ تقریب سے مشتاق احمد مانگٹ صدر پاک انٹرنیشنل بزنس فورم، فہیم الرحمان سہگل صدر لاہور چیمبر، سینئر نائب صدر لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز خالد عثمان، سہیل عزیز،عاصم سنجرانی،شیخ تنویر احمد اور پاک بزنس فورم کے سیکریٹری اعجاز تنویر نے بھی خطاب کیا۔
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ جب اسرائیل فلسطینیوں پر ظلم و ستم ڈھا رہا تھا تو دنیا بھر میں لوگ اسرائیلی مصنوعات کے بائیکاٹ کی مہم چلا رہے تھے۔ اسی تناظر میں پاکستان میں بائیکاٹ کے متبادل کے طور پر پہلی مرتبہ ایسی نمائش کا انعقاد کیا گیا، تاہم مسئلہ صرف بائیکاٹ کا نہیں بلکہ معیاری اور بہترین متبادل تیار کرنا بھی ضروری ہے۔حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ پاکستانی مصنوعات معیار کے اعتبار سے کسی سے کم نہیں، تاہم صنعتوں کو حکومتی سطح پر سہولیات فراہم کرنا ہوں گی۔ صنعتوں کو درپیش حکومتی نظام اور پالیسیوں کے نتیجے میں پیدا ہونے والے مسائل ختم کرنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ یوٹیلیٹی اور توانائی کی لاگت میں اضافہ ہوگا تو لازمی طور پر مصنوعات کی پیداواری لاگت بھی بڑھے گی، جس سے پاکستانی مصنوعات عالمی منڈی میں مسابقت کے قابل نہیں رہیں گی۔ حکومت کو بجلی اور پٹرول کی قیمتوں سمیت صنعتوں کے بنیادی مسائل پر توجہ دینا ہوگی۔امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ میرا برانڈ پاکستان مکمل طور پر پاکستان کا برانڈ ہے اور اس کا مقصد پاکستانی مصنوعات کو ملک کے ساتھ ساتھ دنیا بھر میں متعارف کرانا اور برآمدات میں اضافہ کرنا ہے۔ ہمیں مصنوعات کا معیار بہتر بنانے کے ساتھ قیمتیں بھی مناسب رکھنا ہوں گی تاکہ عالمی منڈی میں پاکستانی مصنوعات کی طلب میں اضافہ ہو۔انہوں نے اعلان کیا کہ میرا برانڈ پاکستان کی نمائش نومبر میں اسلام آباد میں بھی منعقد کی جائے گی، جبکہ اسے ترکی، بنگلہ دیش اور دیگر مسلم ممالک تک لے جانے کا منصوبہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مسلم ممالک کے درمیان اتحاد اور معاشی تعاون کو فروغ دینا ہوگا تاکہ بیرونی قوتوں اور دشمن ممالک پر انحصار کم کیا جاسکے۔حافظ نعیم الرحمان نے نوجوانوں کو پاکستان کی اصل طاقت قرار دیتے ہوئے کہا کہ نوجوانوں کو مایوس کرنے کے بجائے انہیں تعلیم، ہنر اور روزگار کے مواقع فراہم کرنا ہوں گے۔ نوجوانوں کو چھوٹے کاروبار کی طرف متوجہ ہونے اور مثبت سرگرمیوں میں حصہ لینے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان انٹرنیشنل بزنس فورم ویمن اور یوتھ انٹرپرینیورشپ کے حوالے سے اہم کام کررہا ہے۔ ڈاکٹر مشتاق احمد مانگٹ کی قیادت میں ایک بہترین منصوبہ شروع کیا جارہا ہے جس کے تحت نوجوانوں کو مائیکرو فنانسنگ کے ساتھ ضروری سہولیات بھی فراہم کی جائیں گی۔امیر جماعت اسلامی نے بتایا کہ جماعت اسلامی پہلے ہی بنو قابل کے نام سے منصوبے پر کام کررہی ہے اور اس میں 17 لاکھ نوجوان رجسٹرڈ ہوچکے ہیں۔ بنو قابل آئی ٹی کے شعبے میں گیم چینجر بن چکا ہے، جبکہ اب نوجوانوں کو مختلف ہنر سکھانے پر بھی توجہ دی جارہی ہے۔انہوں نے کہا کہ ٹیکنیکل ایجوکیشن زی کنیکٹ پروگرام کا بھی حصہ ہے۔ جنریشن زی میں پڑھے لکھے، مزدور اور اعلی تعلیم یافتہ نوجوان سب شامل ہیں اور کروڑوں کی تعداد میں موجود یہ نوجوان نسل پاکستان کی سب سے بڑی طاقت ہے۔ ان کے مسائل کے لیے موثر آواز اٹھانا ہوگی۔حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ نوجوانوں کے لیے کام کرنا بنیادی طور پر حکومت کی ذمہ داری ہے، کیونکہ حکومت کے پاس وسائل اور اختیارات موجود ہیں۔ اگر بجلی اور پٹرول انتہائی مہنگا ہوجائے گا تو پاکستانی مصنوعات عالمی منڈی میں کس طرح آگے بڑھ سکیں گی۔انہوں نے حکومت کی توانائی پالیسی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے آئی پی پیز کے ساتھ ایسے معاہدے کیے ہیں جن کا بوجھ عوام اور صنعتوں پر پڑ رہا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے ایک سال میں 1900 ارب روپے صرف لیوی کی مد میں وصول کیے ہیں۔حافظ نعیم الرحمان نے مطالبہ کیا کہ حکومت پٹرولیم لیوی کی مد میں وصول کیا جانے والا یہ اضافی بوجھ ختم کرے تاکہ عوام کو ریلیف ملے، پیداواری لاگت کم ہو اور ملکی صنعت و تجارت کو ترقی کے بہتر مواقع میسر آسکیں۔