حکومت سنجیدہ نہ ہوئی تو آزاد کشمیر کے مسئلہ پر عوامی جرگہ تشکیل دیں گے، حافظ نعیم الرحمن
2دن پہلے
حکومت سنجیدہ نہ ہوئی تو آزاد کشمیر کے مسئلہ پر عوامی جرگہ تشکیل دیں گے، حافظ نعیم الرحمن
حکمرانوں نے تین روز میں پیش رفت نہ کی تو جرگہ کشمیریوں سے براہ راست بات چیت کرے گا،
جماعت اسلامی نے کشمیر پر خون بہایا، خاموش نہیں بیٹھ سکتے، امیر جماعت اسلامی پاکستان کا آزاد کشمیر پر قومی مشاورتی سیمینار سے خطاب
امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ حکومت نے آئندہ تین روز تک آزاد کشمیر صورتحال کے پرامن حل کے لیے مثبت پیش رفت نہ کی تو جماعت اسلامی عوامی جرگہ تشکیل دے کر کشمیری عوام اور ان کے نمائندوں سے براہ راست مذاکرات کا آغاز کردے گی۔ جماعت اسلامی نے کشمیر کے لیے خون بہایا ، خاموش نہیں بیٹھ سکتے، کشمیر کاز پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا، ریاست ماں کا کرداد ادا کرے ، ناراض لوگوں کو گلے لگائے، بلوچستان ، کے پی کی صورتحال سب کے سامنے ہے، پاکستان اپنے گھر میں ہی مزید دشمنیوں کا متحمل نہیں ہوسکتا۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد کے مقامی ہوٹل میں آزاد کشمیر کی صورتحال پر قومی مشاورتی سییمنار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ جماعت اسلامی کے زیراہتمام سیمینار کے اہم مقررین اور شرکاء میں سابق صدر آزاد کشمیر سردار مسعود، سابق چیف جسٹس سپریم کورٹ آزاد کشمیر جسٹس منظور گیلانی، امیر جماعت اسلامی آزاد کشمیر ڈاکٹر مشتاق ، سابق امراء آزاد کشمیر ڈاکٹر خالد ، عبدالرشید ترابی، صدر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن راجہ آفتاب احمد، نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان میاں محمد اسلم ، امیر جماعت اسلامی اسلام آباد انجنیئر نصراللہ رندھاوا، سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی اسلام آباد زبیر صفدر ،معروف اینکر و صحافی سلیم صافی ، صدر پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس افضل بٹ، صدر چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری آزاد کشمیر مرزا عمر شہزاد جرال، وائس چیئرمین اسلام آباد بار کونسل چوہدری آصف الطاف، سابق وائس چانسلر آزاد کشمیر یونیورسٹی کلیم عباسی، سابق وائس چانسلر گومل یونیورسٹی عبدالحلیم، سابق وزیر آزادکشمیر فرزانہ یعقوب، نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی کے شعبہ بین الاقوامی امور کے پروفیسر ڈاکٹر سردار عمیرخان ، سابق ایڈیشنل آئی جی آزاد کشمیر پولیس فہیم عباسی ،معروف دانشور بریگیڈیئر الطاف اور سابق بیوروکریٹ خواجہ سلیم بسمل بھی شریک تھے۔
امیرجماعت اسلامی پاکستان نے مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے کے لیے جماعت اسلامی کی جانب سے پہلے سے تشکیل شدہ کمیٹی کو مزید وسعت دینے کا عندیہ دیا اور شرکاء سے شمولیت کے لیے نام طلب کیے۔
حافظ نعیم الرحمن نے واضح کیا کہ اگرچہ بارہ سیٹوں کے مسئلہ پر مظاہرین کے چند اعتراضات کافی حد تک جائز ہیں تاہم یہ ہرگز نہیں ہوسکتا کہ آزاد کشمیر اسمبلی میں مقبوضہ کشمیر اور مہاجرین کی نمائندگی ہی نہ ہو، جماعت اسلامی اگرچہ مسئلہ پر ثالث کا کردار ادا کررہی ہے تاہم نمائندگی کے معاملہ پر کسی سمجھوتہ کی قائل نہیں۔ انہوں نے مزید واضح کیا کہ بارہ سیٹوں کے مسئلہ پر بات چیت ضرور ہوگی اور اس کا کوئی قابل عمل حل بھی نکل آئے گا، سابق امیر آزاد کشمیر ڈاکٹر خالد محمود کی سربراہی میں جماعت اسلامی کی کمیٹی کے ممبران نے اس بنیادی مسئلہ اور دیگر تمام مسائل پر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی سے شق وار ابتدائی مذاکرات کیے ہیں، ہم مکمل طور پر پرامید ہیں کہ معاملہ حل ہوجائے گا ، تاہم اب حکومت کو چاہیے کہ وہ سنجیدگی دکھائے ، حکمران جان لیں کہ کوئی بڑا چھوٹا نہیں ہوتا، ضد اور انا کو ایک طرف کیجیے، جماعت اسلامی کا اس مسئلہ میں کوئی سیاسی سٹیک (Political stake) نہیں ہے، ہم کشمیر کاز کے لیے سب کچھ کررہے ہیں، مزید خون خرابہ نہیں ہونا چاہیے اگرچہ اس اصول پر جوائنٹ ایکشن کمیٹی سے ابتدائی مذاکرات میں ہی اتفاق ہوچکاہے ۔ ہم چاہتے ہیں حکومت مقبوضہ کشمیر پر توجہ دے اور جتنی جلدی ممکن ہو حکومت گھر کی آگ بھجائے۔
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ عوام میں غصہ تب پیدا ہوتا ہے جب انہیں سسٹم کا حصہ نہ بنایا جائے اور ملک پر مسلط حکمران مرضی کے فیصلے کریں، پاکستان اور آزاد کشمیر کے عوام جنہیں ووٹ دیتے ہیں ان لوگوں کی بجائے شکست خوردہ عناصر کو کامیاب کراد دیا جاتا ہے، اصل مسئلہ عوامی مینڈیٹ کے احترام کا نہ ہونا ہے، عوام کی رائے کا احترام ہوتو بحران پیدا ہی نہیں ہوتے، بدقسمتی سے نہ ہی پاکستان اور نہ ہی آزاد کشمیر میں گزشتہ اٹھہتر برسوں سے ایسا ہو رہاہے۔ عوام کو صحت ، تعلیم سمیت بنیادی سہولیات تک رسائی نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی سیاسی پارٹیوں کے اندر نہ ہی جمہوریت ہے اور نہ وہ منظم ہیں ، اس خلا کی میں ہجوم اپنا راستہ بناتے ہیں اور جب معاملات ہجوم کے ہاتھوں میں چلے جاتے ہیں تو کنٹرول سے باہر ہوجاتے ہیں، لہذا حکمران ہوش کے ناخن لیں ، ایسا نہ ہو حالات ہاتھ سے نکل جائیں۔ حکومت اگر جماعت اسلامی کی ثالثی پر معترض ہے تو دیگر سیاسی پارٹیوں کو مذاکرات میں شامل کرلے ، ہمیں کوئی اعتراض نہیں، بلکہ جماعت اسلامی نے تو خود ہی تمام سیاسی پارٹیوں سے اس عمل پر مشاورت کی ہے، جماعت اسلامی بغیر کسی سیاسی مفاد کے خلوص نیت سے مسئلہ آزاد کشمیر کا حل چاہتی ہے۔
امیرجماعت اسلامی نے جوائنٹ ایکشن کمیٹی پر بھی واضح کیا کہ اگر ان میں کوئی فرد پاکستان کے خلاف بات کرتا ہے تو اسے اپنی صفوں سے نکالیں ، آپ کو کسی فرد ، ادارے ، حکومت پر اعتراض ہوسکتا ہے ، اپنے جائز مطالبات پر فوکس رکھیں تاہم پاکستان مخالفت کی طرف ہرگز نہ جائیں، اہل پاکستان کے دل کشمیر اور کشمیریوں کے لیے دھڑکتے ہیں، کشمیر پاکستان ہے اور ہر کشمیری کے لیے پورے پاکستان کے دروازے کھلے ہیں، کشمیر اور پاکستان ایک دوسرے سے لازم و ملزوم ہیں۔ انہوں نے حکمرانوں کو مشورہ دیا کہ کہ کشمیری نوجوانوں کے مسائل حل کریں صرف کشمیر نہیں بلکہ پورے پاکستان کے نوجوانوں کے مسائل ہیں ، انہیں تعلیم اور رورزگار دستیاب نہیں، ملک میں طبقاتی نظام تعلیم ہے، پونے تین کروڑ بچے سکولوں سے باہر ہیں، نوجوان غصہ میں ہیں۔ جماعت اسلامی اپنے تئیں کوشش کررہی ہے اور لاکھوں نوجوانوں کو بنوقابل کے ذریعے مفت آئی ٹی کورسز کرائے جارہے ہیں، یہ سلسلہ کراچی سے شروع ہوا جو بلوچستان اور مظفرآباد تک پہنچ گیا ہے، اگر جماعت اسلامی اور الخدمت فاؤنڈیشن یہ کام کررہے ہیں تو ریاست اپنی ذمہ داری پوری کیوں نہیں کررہی ، بیوروکریسی اپنے آپ کو حاکم سمجھنا بند کرے، ملک میں جاگیرداروں ، وڈیروں اور سرمایہ داروں کا گٹھ جوڑ ہے ، آزاد کشمیر اور پاکستان میں کرپشن ہورہی ہے ، ان مسائل کو حل کرنا ہوگا۔



