News Detail Banner

قبائلی نمائندوں ، تاجروں کی تجاویز لے کر افغانستان سرحد کھولی جائے، حافظ نعیم الرحمن

1دن پہلے

قبائلی نمائندوں ، تاجروں کی تجاویز لے کر افغانستان سرحد کھولی جائے، حافظ نعیم الرحمن

پاکستان ایران گیس پائپ مکمل ، ایران سے پٹرول سمیت تجارت کو قانونی شکل دی جائے

بلوچستان کے عوام صرف صوبہ نہیں پورے پاکستان کے عوام کے حقوق کے لیے جدوجہد کریں

عید کے بعد پٹرول ،بجلی کی قیمتوں میں اضافہ کے خلاف ملک گیر ہڑتال ہوگی، امیر جماعت اسلامی پاکستان کا ژوب میں جلسہ عام سے خطاب

امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ افغانستان سے ملحقہ سرحد کھولی جائے ،سمگلنگ ختم کرکے ایران سے تجارت کو قانونی شکل دی جائے اور پاکستان ایران گیس پائپ لائن پر تعمیری کام مکمل کیا جائے۔
ژوب میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے اعلان کیا کہ جماعت اسلامی پٹرول اور بجلی کی قیمتوں میں ظالمانہ اضافہ کے خلاف عید کے بعد ملک گیر ہڑتال کرے گی، بلوچستان کے عوام اور تاجر اپنے حق کے لیے ہڑتال کی مکمل حمایت کریں۔ بلوچستان سمیت پورے ملک کے مسائل کا حل جماعت اسلامی ہے، عوام نظام کی تبدیلی کی جدوجہد میں جماعت اسلامی کا ساتھ دیں، مل کر جدوجہد ہوگی تو مسلط اشرافیہ طبقہ سے جان چھوٹے گی۔ بدل دو نظام کے عنوان کے تحت ہونے والے جلسہ سے امیر جماعت اسلامی بلوچستان مولانا ہدایت الرحمن بلوچ، جنرل سیکرٹری مرتضی خان کاکڑ، نائب امیر صوبہ مولانا عارف دمڑ، ڈپٹی جنرل سیکرٹریزنورالدین غلزئی قاری امداداللہ مولانا عبدالناصر شہاب زئی امیرضلع ژوب فہدخان مندوخیل،امیرضلع شیرانی عبداللہ شاکر حفظ الرحمان مندوخیل نے بھی خطاب کیا۔
حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ چمن کے مقام پر اور افغانستان سے ملحقہ دیگر مقامات پر ملحقہ سرحد کھولنے کے لیے دونوں اطراف کے قبائل اور تاجروں پر مشتمل کمیٹی تشکیل دی جائے اور سرحدی تجارت کے لیے زون تشکیل دیا جائے، امن عامہ اور راہداری کو محفوظ بنانے کی ذمہ داری قبائل کے سپرد کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ رات کے اندھیرے میں چند لوگوں کو فائدہ پہنچانے کے لیے سرحد کھول دی جاتی ہے، عمومی طور پر لاکھوں لوگوں کا روزگار متاثر ہے، یہ دورنگی کا نظام ختم ہونا چاہیے۔ ایران کے ساتھ پٹرولیم اور دیگر تجارت کو ریگولرائز (Regularise ) ہونا چاہیے۔ انہوں نے ہرنائی اور لورالائی کے مقامات پر کوئلے کے ٹرک جلائے جانے اور جانی و مالی نقصانات کی اطلاعات پر بھی افسوس کا اظہار کیا اور حکومت بلوچستان سے مطالبہ کیا کہ متاثرین کے نقصان کا ازالہ کرکے تجارت کو محفوظ بنایا جائے۔
حافظ نعیم الرحمن نےکہا کہ لورالائی میں بنو قابل کا آغاز کردیا جلد ہی ژوب میں بھی اس مفت تعلیمی پروگرام کا آغاز ہوگا۔ جماعت اسلامی نے بلوچستان کے نوجوانوں کا ہاتھ تھام لیا ہے انہیں پڑھائیں گے اور ظلم و ناانصافی کے خلاف جمہوری جدوجہد کرنے والے مجاہد بھی بنائیں گے، عوام پر مسلط وڈیرے ، سردار مسائل حل نہیں کریں گے ، یہ خاندانی سیاست کا نظام ناانصافی اور ظلم کو بڑھاوا دیتا ہے، جو لوگ اپنی پارٹیوں میں جمہوریت نہیں لاسکتے وہ ملک کو کیسے جمہوریت دے سکتے ہیں؟ بلوچستان کے عوام اپنے آپ کو صوبہ تک محدود نہ کریں ، آپ پورے پاکستان کے مالک ہیں ، صوبائی اور مسلکی تعصبات کی سیاست کرنے والے عوام کے خیر خواہ نہیں، جماعت اسلامی امت اور پاکستانیوں کے اتحاد کی بات کرتی ہے ، جماعت اسلامی اہل فلسطین کے لیے آواز بلند کرتی ہے، جماعت اسلامی نے وینزویلا پر بھی ٹرمپ کی جارحیت کے خلاف آواز اٹھائی۔ عوام ان لوگوں کو مسترد کریں جو سالہا سال سے ان پر مسلط ہیں اور اپنے حق کے لیے جماعت اسلامی کا ساتھ دیں۔
حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ بلوچستان کے عوام کے نام نہاد نمائندے فنڈر لے کر اپنے علاقہ میں ترقیاتی کام نہیں کراتے، پانی کی سکیموں میں بھی کرپشن ہوتی ہے، صوبہ میں سڑکیں اور دیگر انفراسٹرکچر (Infrastructure ) ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے، ژوب کا شمار ان اضلاع میں ہوتاہے جہاں شرح خواندگی سب سے کم ہے، بچوں کو تعلیم تک رسائی نہیں ، صحت کی سہولیات ناپید ہیں، ملک بھر میں عدالتی اور تھانہ کچہری کا نظام تباہ حال ہے، ملک کا یہ حال اناسی برس سے مسلط اشرافیہ نے کیا ہے، جماعت اسلامی نے عوامی خدمت کے کاموں کا چارٹر (Charter) تیار کیا ہے ، یہ جاری رہے گا ، تاہم سب سے اہم خدمت نظام کی تبدیلی کے لیے سیاسی جدوجہد ہے جو جاری رہے گی۔