فرسودہ سیاسی نظام بے روزگاری، مہنگائی، صنعتی تباہی کی بنیاد ہے، حافظ نعیم الرحمن
7دن پہلے
فرسودہ سیاسی نظام بے روزگاری، مہنگائی، صنعتی تباہی کی بنیاد ہے، حافظ نعیم الرحمن
عوام شدید مشکلات کا شکار، آئی پی پیز مافیا کو پالا جارہا ہے
عید کے بعد ملک گیر احتجاجی تحریک چلے گی، کامیاب ہڑتال کرائیں گے
تاجر برادری عوامی حقوق کی تحریک میں ہمارا ساتھ دے، امیر جماعت اسلامی پاکستان کا پاک انٹرنیشل بزنس فورم کی تقریب سے بطور مہمان خصوصی خطاب
امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ ملک میں موجودہ معاشی بحران، مہنگائی، بے روزگاری اور صنعتوں کی تباہی کی بنیادی وجہ فرسودہ سیاسی و معاشی نظام ہے، جب تک سیاست اور سسٹم کو درست نہیں کیا جاتا، معیشت مستحکم نہیں ہوسکتی۔ انہوں نے صنعتکاروں اور تاجروں پر زور دیا کہ وہ جماعت اسلامی کی حکومت مخالف تحریک کا حصہ بنیں کیونکہ حکمران اشرافیہ عوام، صنعت اور کاروبار دشمن پالیسیوں پر عمل پیرا ہے۔
پاک انٹرنیشنل بزنس فورم (پی آئی بی ایف) کے نومنتخب عہدیداران کی تقریب حلف برداری سے بطور مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ پٹرول پر 120 روپے لیوی اور دیگر ٹیکسز کے ذریعے عوام کا استحصال کیا جارہا ہے، جبکہ آئی پی پیز، آر ایل این جی اور اشرافیہ کو نوازنے کے لیے قومی خزانہ لٹایا جا رہا ہے۔ عید کے بعد ملک گیر احتجاجی تحریک کا آغاز ہوگا اور کامیاب ہڑتال کرائیں گے۔ تقریب سے امیر جماعت اسلامی لاہور ضیا الدین انصاری ایڈووکیٹ، صدر بزنس فورم مشتاق مانگٹ ، سیکریٹری اعجاز تنویر اور دیگر تاجر رہنماؤں نے بھی خطاب کیا۔ معاون خصوصی امیر جماعت عمیر ادریس اور سیکرٹری اطلاعات جماعت اسلامی پاکستان شکیل احمد ترابی اور دیگر رہنما بھی اس موقع پر موجود تھے۔
حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ جماعت اسلامی نے ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ اجتماع عام میں صنعتکاروں کو باقاعدہ موقع دیا کہ وہ اپنے مسائل قوم کے سامنے رکھ سکیں۔ جماعت اسلامی مزدوروں، کسانوں، طلبہ اور غریب طبقات کی نمائندہ جماعت ہے اور جب تک صنعت کا پہیہ نہیں چلے گا غربت کا خاتمہ ممکن نہیں۔ انہوں نے حکومت کی معاشی پالیسیوں کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام جیسے منصوبے سیاسی بنیادوں پر بنائے جاتے ہیں جہاں عوام کو حق دینے کے بجائے خیرات دی جاتی ہے۔ پنجاب میں ترقی کے اشتہارات تو چل رہے ہیں لیکن ایک کروڑ سے زائد بچے آج بھی سکولوں سے باہر ہیں۔ پہلے 11 ہزار اور اب مزید 25 ہزار اسکول آؤٹ سورس (Outsource ) کیے جا رہے ہیں ،؟کالجز بند اور جامعات کو گرانٹس نہیں دی جا رہیں۔ حکومت کبھی لیپ ٹاپ اور کبھی ٹریکٹر اسکیموں کے ذریعے عوام کو بہلانے کی کوشش کرتی ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ کسی شعبے میں پیش رفت نظر نہیں آ رہی۔ پاکستان کے نوجوانوں میں بے پناہ صلاحیت موجود ہے مگر موجودہ نظام انہیں آگے بڑھنے کے مواقع نہیں دے رہا۔
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ ملک میں “کنسورشیم (Consortium) سیاست” قائم ہے جس میں بیوروکریٹس، سرمایہ دار اور وڈیرے شامل ہیں۔ سرمایہ دارانہ اور جاگیردارانہ ذہنیت غریب طبقات کا استحصال کرتی ہے جبکہ افسر شاہی خود کو حاکم اور عوام کو محکوم سمجھتی ہے۔ آج بھی اسٹیبلشمنٹ کی سرپرستی میں آگے بڑھنے والوں کو ہی مواقع ملتے ہیں۔
حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ پاکستان کے حالات جاہلوں نے نہیں بلکہ پڑھے لکھے طبقہ نے خراب کیے ہیں جو قوم کو مسلسل پیچھے دھکیل رہا ہے۔ سب سے بڑی ضرورت اس نظام کو چیلنج کرنے کی ہے کیونکہ اختیارات نچلی سطح تک منتقل نہیں کیے گئے۔ انہوں نے لاہور میں مجوزہ بلدیاتی نظام پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ شہر میں نو میئرز لانے کی بات کی جا رہی ہے تاکہ اقتدار پر اجارہ داری برقرار رکھی جا سکے۔
حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کے جیل جانے کے بعد پارٹی بکھر گئی جبکہ جماعت اسلامی ملک کی واحد حقیقی جمہوری اور منظم جماعت ہے۔ جماعت اسلامی کو جب بھی موقع ملا اس نے کارکردگی دکھائی، کراچی اس کی مثال ہے۔ انہوں نے “بنو قابل” پروگرام کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جماعت اسلامی حکومت کے بغیر نوجوانوں کو مفت تعلیم دے رہی ہے۔ لاہور میں بدھ کو بنو قابل پروگرام کے طلبہ کو ڈگریاں دی گئیں ، یہ منصوبہ کراچی سے شروع ہو کر چترال تک پہنچ چکا ہے۔ بیشتر اضلاع میں بنو قابل پروگرام منعقد ہوئے اور کہیں بدنظمی دیکھنے میں نہیں آئی۔
انہوں نے شرح سود میں اضافے کو معیشت کے لیے تباہ کن قرار دیتے ہوئے کہا کہ پالیسی ریٹ میں صرف ایک فیصد اضافے سے قرضوں میں 540 ارب روپے کا اضافہ ہوگیا۔ سودی نظام معیشت کو تباہ کررہا ہے اور جماعت اسلامی اس کے خلاف جدوجہد کر رہی ہے۔
حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں اور لیوی کے باعث عوام شدید پریشان ہیں اور لوگ احتجاج کے لیے تیار بیٹھے ہیں۔ انہوں نے صنعتکاروں اور تاجروں سے اپیل کی کہ وہ جماعت اسلامی کی تحریک کا حصہ بنیں کیونکہ جماعت اسلامی عوام کی جنگ لڑ رہی ہے اور کسی سے فنڈز یا مالی معاونت نہیں مانگتی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت آئی ایم ایف کے دباؤ کا بہانہ بناتی ہے، اگر واقعی دباؤ ہے تو ایف بی آر کو درست کیا جائے جہاں 25 ہزار ملازمین عوام اور صنعتکاروں کو ہراساں کرتے ہیں۔ اگر لیوی اور اضافی ٹیکس ختم کیے جائیں تو صنعت کا پہیہ دوبارہ چل سکتا ہے۔
حافظ نعیم الرحمن نے آئی پی پیز اور آر ایل این جی منصوبوں پر بھی شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ 1994 سے عوام ان معاہدوں کا ظلم برداشت کر رہے ہیں۔ ملک میں 49 ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت موجود ہے مگر اس کے باوجود لوڈشیڈنگ جاری ہے۔ عوام سولر (شمسی توانائی) پر منتقل ہوئے تو اس پر بھی ٹیکس لگا دیا گیا۔ آئی پی پیز کو 1800 ارب روپے کیپسٹی پیمنٹ (Capacity Payment ) کی مد میں دیے جا چکے ہیں جبکہ گنے کی بھوسے سے چلنے والے پاور پلانٹس (Power Plants) کو بھی 500 ارب روپے دیے گئے جن میں شریف خاندان کے پلانٹس بھی شامل ہیں۔ آر ایل این جی پلانٹس کو روزانہ 5 لاکھ 38 ہزار ڈالر کیپسٹی پیمنٹ دی جا رہی ہے، حتیٰ کہ ایل این جی نہ آنے کے باوجود بھی ادائیگیاں جاری رہیں۔ جنگی حالات میں معاہدے معطل کیے جاتے ہیں مگر حکومت نے آر ایل این جی اور آئی پی پیز معاہدے ختم نہیں کیے۔ ایک طرف عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں جبکہ دوسری طرف مریم نواز نے 11 ارب روپے کا جہاز خریدا اور چیئرمین سینیٹ کے لیے 9 کروڑ روپے کی گاڑی منگوائی گئی۔
حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ ملک میں آئی پی پیز اور ایل این جی مافیاز کو پالا جا رہا ہے، حکمران اشرافیہ کو عوامی دباؤ سے پیچھے دھکیلنا ہوگا، ورنہ ظلم کا یہ سلسلہ جاری رہے گا۔ انہوں نے اعلان کیا کہ عید کے بعد جماعت اسلامی بڑی تحریک اور کامیاب ہڑتال کرے گی۔
انہوں نے صنعتکاروں اور تاجروں کو جماعت اسلامی کے ساتھ چلنے کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ حکومتیں انہیں کچھ نہیں دیں گی، جماعت اسلامی کے ساتھ ہوں گے تو عزت ملے گی۔ تقریب کے اختتام پر امیر جماعت نے پاک انٹرنیشنل بزنس فورم کے نومنتخب عہدیداران سے حلف لیا۔



