کراچی کے مسئلے کا واحد حل، کراچی کو با اختیار شہری حکومت دی جائے،حافظ نعیم الرحمن
5گھنٹے پہلے
کراچی کے مسئلے کا واحد حل، کراچی کو با اختیار شہری حکومت دی جائے،حافظ نعیم الرحمن
ہم صرف کراچی میں نہیں پورے سندھ کے شہروں کی بلدیاتی حکومتوں کو با اختیار بنانے کا مطالبہ کرتے ہیں،اورنگی ٹاؤن میں جلسے سے خطاب
پیپلز پارٹی کراچی دشمن پارٹی ہے جو ایک خاندان اور چند وڈیروں پر مشتمل ہے اور یہ کراچی کو موہنجو داڑو بنانا چاہتی ہے
پاک افغان جنگ دونوں ملکوں کے مفاد میں نہیں ہے، مسئلے کو پر امن طریقے سے حل کیا جائے،امیر جماعت اسلامی پاکستان
منتخب بلدیاتی نمائندوں کو اختیارات دیئے جائیں، عوام کو بجلی، پانی اور دیگر سہولتیں دی جائیں،منعم ظفر خان
جماعت اسلامی کے ٹاؤنز میں کام ہورہے ہیں، اورنگی کے قبضہ ٹاؤن چیئرمین نے 3 سال میں کوئی کام نہیں کروایا، مدثر انصاری
جلسے سے خالد زمان، عبد الحنان نے بھی خطاب کیا۔حافظ نعیم الرحمن کی آمد پر ان کا شاندار استقبال، پھولوں کی پتیاں نچھاور کیں بچوں نے گلدستے پیش کیے
امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے اورنگی ٹاؤن ڈسکو موڑ پر جینے دوکراچی جلسہ عام ودعوت افطار سے خطاب کرتے ہوئے ایک بار پھر کہا ہے کہ کراچی کے مسئلے کا واحد حل یہ ہے کہ کراچی کو با اختیار شہری حکومت دی جائے، ایم کیو ایم نے پرویز مشرف کے دور میں جب سارے اختیارات ان کے پاس تھے کراچی کو صوبہ کیوں نہیں بنایا، ہم صرف کراچی میں نہیں پورے سندھ کے شہروں کی بلدیاتی حکومتوں کو با اختیار بنانے کا مطالبہ کرتے ہیں اور اسٹیبلشمنٹ سے بھی کہتے ہیں کہ چوروں، ڈاکوؤں، وڈیروں اور جاگیرداروں کی سرپرستی کرنے کے بجائے عوام کا مینڈیٹ عوام کو دیا جائے، پاک افغان جنگ دونوں ملکوں میں سے کسی کے مفاد میں بھی نہیں ہے، افغان حکومت بھارت کے کہنے پر جنگ نہ کرے، مسلمانوں کی آپس کی جنگ روکی جاے اور مسئلے کو پر امن طریقے سے حل کیا جائے، پیپلز پارٹی کراچی دشمن پارٹی ہے۔پیپلز پارٹی ایک خاندان اور چند وڈیروں پر مشتمل ہے اور یہ کراچی کو موہنجو داڑو بنانا چاہتے ہیں، پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم نے مل کر عوام کو پانی اور بجلی سے محروم کیا ہوا ہے۔ پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم دونوں نے مل کر کراچی کو تباہی و بربادی کی طرف دھکیلا ہے۔عمران خان کی حکومت میں ساڑھے تین سال اور اس سے قبل اور آج بھی ایم کیو ایم حکومت کا حصہ ہے۔ دو پٹی کی چپل پہننے والوں نے دبئی میں بڑے بڑے مال بنالیے لیکن اورنگی کے عوام کو کچھ نہیں دیا۔ کراچی 42 فیصد ٹیکس 54 فیصد ریونیو جرنیٹ کرتا ہے لیکن اسے اس کا حق نہیں دیا جاتا، صوبائی حکومت کراچی کو اختیارات دینے کے لیے تیار نہیں ہے۔ جماعت اسلامی کے 9 ٹاونز میں بھی صوبائی حکومت منتخب نمائندوں کو اختیارات دینے کے لیے تیار نہیں ہے۔ اورنگی ٹاؤن کے عوام نے بلدیاتی انتخابات میں جماعت اسلامی کو تاریخی مینڈیٹ دیا تھا اور آج بھی سپریم کورٹ میں 6 یوسیز پر قبضے کے خلاف مقدمہ موجود ہے۔ اگر اورنگی ٹاؤن میں جماعت اسلامی کا ٹاؤن چیئرمین ہوتا تو باقی ٹاؤن کی طرح اورنگی میں بھی کام ہورہے ہوتے،بلدیاتی اور عام انتخابات میں کراچی کے عوام نے جن لوگوں کو مسترد کیا انہیں عوام پر مسلط کردیا گیا،اب تو اورنگی کے لوگوں کو شناخت نہیں دی جارہی ہے۔ جماعت اسلامی نے ماضی میں اورنگی کے لوگوں کے مسائل حل کروائے تھے۔ جماعت اسلامی کے صاحبزازہ طارق اللہ جن کا تعلق کے پی کے سے تھا انہوں نے قومی اسمبلی میں اورنگی کامقدمہ لڑا تھاجبکہ ایم کیو ایم نے عوام کا مقدمہ نہیں لڑا۔منعم ظفر خان نے کہا کہ جماعت اسلامی کا مطالبہ ہے کہ کراچی کو بااختیار شہری حکومت دی جائے،منتخب بلدیاتی نمائندوں کو اختیارات دیئے جائیں، عوام کو بجلی، پانی اور دیگر سہولتیں دی جائیں، المیہ یہ ہے کہ شہر کے رہنے والے لوگوں کو جینے کے حق سے محروم کیا جارہا ہے۔ اورنگی ٹاؤن میں رہنے والے لوگوں نے دو دفعہ ہجرت کی۔ اہلیان اورنگی کو پانی،بجلی سمیت بنیادی سہولیات تک میسر نہیں ہے۔روزاسٹریٹ کرائم کی وارداتیں ہوتی ہیں اور یہاں کے لوگوں کو شناختی کارڈ کے حصول کے لیے نادرا آفس کے بار بار چکر لگانے پڑتے ہیں، اورنگی ٹاؤن، بلدیہ ٹاؤن، سائٹ غربی سمیت تمام دیگر علاقوں میں عوام پینے کے صاف پانی سے محروم ہیں۔ مدثر حسین انصاری نے کہا کہ ماہ مبارک جہاں ہمیں رب سے قریب کرتا ہے وہاں باطل نظام، نا اہل اور کرپٹ حکمرانوں کے سامنے ڈٹ جانے کا درس دیتا ہے۔ حق و باطل کا پہلا معرکہ ماہ رمضان میں ہی ہوا تھا۔ اورنگی ٹاؤن میں بہت بڑی تعداد جو مشرقی پاکستان سے آنے والوں کی ہے، آج جن کو ان کی شناخت نہیں دی جارہی۔ اورنگی ٹاؤن میں پانی میسر نہیں اور عوام کو ٹینکر مافیا کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے۔ جماعت اسلامی کے 9ٹاؤنز میں بہترین کام ہورہے ہیں لیکن اورنگی کے قبضہ ٹاؤن چیئرمین نے 3 سال کے عرصے میں کوئی کام نہیں کروایا۔ جلسے سے ضلع غربی کے نائب امیر خالد زمان، سیکریٹری ضلع عبد الحنان نے بھی خطاب کیا۔حافظ نعیم الرحمن کی اورنگی ٹاؤن آمد پر ان کا شاندار استقبال کیا گیا، پھولوں کی پتیاں نچھاور کیں گئیں جبکہ بچوں نے گلدستے بھی پیش کیے۔



