News Detail Banner

پی آئی اے قومی فخر و قیمتی اسٹریٹیجک اثاثہ ہے،قومی اثاثوں کی لوٹ سیل کسی صورت قبول نہیں، حافظ نعیم الرحمن

6دن پہلے

پی آئی اے قومی فخر و قیمتی اسٹریٹیجک اثاثہ ہے،قومی اثاثوں کی لوٹ سیل کسی صورت قبول نہیں، حافظ نعیم الرحمن
اگر حکمران طبقہ بھی نااہل ہے اور گڈ گورننس کے قابل نہیں تو کیا ان کی بھی نجکاری کردی جائے۔ پریس کانفرنس سے خطاب
38 میں سے 18 جہاز چل رہے ہیں،80 ارب سے زائد ایک جہاز کی قیمت، 335 ارب روپے میں بھی فروخت نہیں کرنا چاہیے تھا
فیلڈ مارشل اپنا موقف قوم کے سامنے واضح کریں کہ کیاہماری فوج غزہ جاکر حماس کو ختم اور اسرائیل کو طاقت فراہم کرنا چاہتی ہے
وزیر اعظم بتائیں کہ امریکی صدر کی کشمیر پر ثالثی کا کیا ہوا؟صوبہ سندھ بد امنی اور کرپشن کی لپیٹ میں ہے، کوئی پوچھنے والا نہیں
امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے ادارہ نور حق پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ پی آئی اے قومی فخر و قیمتی اسٹریٹیجک اثاثہ ہے، قومی اثاثوں کی لوٹ سیل کسی صورت قبول نہیں یہ ملک و قوم اور قومی اداروں کے ساتھ ظلم ہے۔ پی آئی اے نے گزشتہ 6 ماہ میں 10 ارب روپے کا منافع حاصل کیا تو پھر اسے کیوں فروخت کیا گیا۔ کل 38 جہاز میں سے 18 جہاز چل رہے ہیں۔ 80 سے 90 ارب روپے ایک جہاز کی قیمت ہوتی ہے لیکن پی آئی اے کو 135 ارب روپے میں کوڑیوں کے مول فروخت کردیا۔ اگر 135 ارب روپے کی جگہ 335 ارب روپے کی بولی بھی لگائی جاتی تو اسے فروخت نہیں کرنا چاہیے تھا۔ قومی اداروں کو اس بنیاد پر فروخت کرنا کہ حکومت انہیں چلا نہیں پارہی حکومتی نااہلی و ناکامی ہے۔حکمران نیلامی کے عمل کو بھی درست طریقے سے کرنے کے قابل نہیں ہیں۔ اگر حکمران طبقہ بھی نااہل ہے اور گڈ گورننس کے قابل نہیں تو کیا ان کی بھی نجکاری کردی جائے۔ حال یہ ہے کہ اگر حکمرانوں کی نجکاری کی گئی تو کوئی انہیں خریدنے کے لیے تیار نہیں ہوگا۔ پی آئی اے کی تباہی کے ذمہ داران کا تعین کیے بغیر اس قومی ادارے کی نجکاری نہیں ہونی چاہیے تھی۔مسلم لیگ ن، پیپلز پارٹی سے کوئی پوچھنے والا نہیں ہے کہ انہوں نے پی آئی اے میں جعلی بھرتیاں کیں ان کی نا اہلی و کرپشن نے پی آئی اے کو تباہ کیا۔ ہم ایٹمی قوت ہیں ہمیں فلسطینیوں کے لیے طاقت فراہم کرنا چاہیے۔ آرمی چیف اور فیلڈ مارشل کو اپنا موقف قوم کے سامنے واضح کرنا چاہیے کہ کیاہماری فوج غزہ جاکر حماس کو ختم اور اسرائیل کو طاقت فراہم کرنا چاہتی ہے۔جو رویہ اسرائیل کا ہے وہی رویہ بھارت کا بھی ہے۔ بھارت نے مسیحوں کے تہوار کرسمس کے موقع پر حملے کروائے اور فلسطین میں بھی اسرائیل نے بمباری کی۔وزیر اعظم بتائیں کہ امریکی صدر نے کشمیر کے معاملے پر ثالثی کی بات کی تھی وہ کہاں گئی؟صوبہ سندھ بد امنی اور کرپشن کی لپیٹ میں ہے اور کوئی پوچھنے والا نہیں،نوشہرو فیروز میں تاجر کو قتل کیا گیا۔آرمی چیف نے جس سسٹم کو جڑ سے اکھاڑنے کی بات کی تھی اسی سسٹم کو سب سے اوپر اسلام آباد میں لے جاکر بٹھادیا گیا۔ رواں سال کراچی میں ہیوی ٹریفک و اسٹریٹ کرائمز سے جاں بحق ہونے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ کراچی کی تباہی میں ایم کیو ایم ہمیشہ سے پیپلز پارٹی کے ساتھ برابر کی شریک رہی ہے۔ کراچی کے عوام نے عام انتخابات میں پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم سے لاتعلقی اختیار کی لیکن اسٹبلشمنٹ نے 22 قومی اسمبلی نشستیں ان کے درمیان بانٹ دیں۔ جن لوگوں نے قبضہ مئیر کو آنے دیا ان لوگوں سے سوال ہے کہ انہوں نے ڈاکوؤں اور چوروں کو کیوں مسلط کیا۔ حافظ نعیم الرحمن نے مزیدکہاکہ فوجی فاؤنڈیشن کا اسٹیٹس کیا ہے، یہ پرائیویٹ ادارہ ہے یا سرکاری؟اگر فوجی فاؤنڈیشن بھی ریاستی ادارے سے منسلک ہے تو پھر سوال یہ ہے کہ ایک سرکاری ادارہ دوسرے سرکاری ادارے کے حوالے کرنا کس طرح نجکاری کہلائے گی؟انہوں نے کہاکہ گزشتہ دنوں آباد کے عہدیداران اور ممبران نے پریس کانفرنس کی اور 5 کروڑ روپے کے بھتوں کی پرچیوں کے حوالے سے بتایا، صنعتکار اور تاجر اپنا سرمایہ باہر منتقل کررہے ہیں انڈسٹری سے وابستہ لوگوں کو تحفظ فراہم کرنا حکومت و قانون نافذ کرنے والوں کی ذمہ داری ہے۔ حکمران طبقہ ایک جانب معیشت کی بہتری کی نوید سنارہا ہے لیکن حقیقت میں پاکستان کی معیشت تنزلی کی طرف جارہی ہے۔ جب پاکستانی قوم انتخابات میں نااہل حکمرانوں سے جان چھڑاتی ہے تو فارم 47 کے ذریعے ان کو مسلط کردیا جاتا ہے۔ جب انتخابی نظام متناسب نمائندگی کی بنیاد پر ہوگا تو ہر فرد کے ووٹ کی اہمیت ہوگی اور جمہوریت پروان چڑھے گی۔ انہوں نے کہاکہ اسرائیل نے جنگ بندی کے معاہدے کے بعد 72 دنوں میں 62 دفعہ معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنے اتحادی تیار کررہا ہے۔ ہمیں کسی بیرونی ایجنڈے کا حصہ نہیں بننا چاہیے جس سے حماس کو نقصان ہو اور اسرائیل کو طاقت فراہم ہو۔ پوری پاکستانی قوم کا واضح مؤقف ہے کہ ہم فلسطین کے ساتھ ہیں اور اسرائیل کی ناجائز ریاست کو قبول نہیں کرتے۔ڈونلڈ ٹرمپ نے خود اقرار کیا کہ نیتن یاہو نے ہم سے اسلحہ لیا اور اس کا بہترین استعمال کیا۔ حکمرانوں کو ہوش کے ناخن کہنا چاہیئے امریکہ ڈھلان کی جانب جارہا ہے۔ ہمیں ڈپلومیٹک محاذ پر بھارت کوآئیسولیٹ کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہاکہ کراچی منی پاکستان جو ملک کی 54فیصد ایکسپورٹ اور 67 فیصد ریونیو جنریٹ کرتا ہے لیکن شہریوں و تاجروں کو بنیادی سہولیات و تحفظ حاصل نہیں ہے،شہر میں سیف سٹی پروجیکٹ کے کیمرے لگنے تھے ان کا کچھ نہیں ہوا لیکن بھاری چالان کے لیے کیمرے لگادیے گئے۔ پیپلز پارٹی کی بدترین پرفامنس کو دیکھتے ہوئے پنجاب حکومت نے بھی اسی طریقے پر عمل کرنا شروع کردیا ہے۔ سندھ میں کرپشن کا ریشو 80 فیصد سے زیادہ ہے اور پیپلز پارٹی اسٹبلشمنٹ کی اے پلس ٹیم بنی ہوئی ہے۔ حکمرانو ں کے خلاف جماعت اسلامی کی جدوجہد اور مزاحمت جاری رہے گی۔ پریس کانفرنس میں مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جماعت اسلامی پاکستان ممتاز حسین سہتو، امیر کراچی منعم ظفر خان، نائب امرائ کراچی سیف الدین ایڈوکیٹ، مسلم پرویز، سکریٹری کراچی توفیق الدین صدیقی، سکریٹری اطلاعات زاہد عسکری، سینئر ڈپٹی سکریٹری اطلاعات صہیب احمد بھی موجود تھے۔