News Detail Banner

ملی یکجہتی کونسل پاکستان کے زیراہتمام آل پارٹیز کانفرنس کا مشترکہ اعلامیہ

19دن پہلے

لاہور27 مئی 2024ء

ملی یکجہتی کونسل پاکستان کے صدر ڈاکٹر صاحبزادہ ابوالخیر زبیر کی صدارت میں آل پارٹیز کانفرنس اسلام آباد اجلاس نے غزہ فلسطین کی صورتحال، سپریم کورٹ میں مبارک ثانی قادیانی مقدمہ پر نظر ثانی کیس، حکومت کی جانب سے وفاقی شرعی عدالت کے سود خاتمہ فیصلہ پر عمل درآمد نہ ہونے سے اقتصادی بحران میں مسلسل اضافہ اورملک میں من و امان کی تباہی دہشت گردی کے بڑھتے واقعات اور سیاسی محاذ پر حکومت، اسٹیبلشمنٹ، سیاست اور عدلیہ کے درمیان خوفناک کشیدگی کی صورت حال پر بحث اور نقطہ نظر کے اظہار کے بعد اتفاق رائے سے اعلامیہ جاری کیا ہے۔

مبارک ثانی قادیانی مقدمہ میں سپریم کورٹ کا متنازع فیصلہ:

چیف جسٹس آف پاکستان کی سربراہی میں تحریف قرآن اور قادیانیت قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے قادیانیت کی غیر قانونی تبلیغ کے مقدمہ میں سپریم کورٹ بنچ کا فیصلہ آئین، قرآن وسنت سے صریح متصادم ہے جس سے پاکستانیوں کے دینی جذبات مجروح ہوئے۔ اس وقت سپریم کورٹ میں نظر ثانی کیس زیر سماعت ہے۔ متنازع فیصلہ کے بعد چیف جسٹس آف پاکستان قاضی فائزعیسیٰ نے درست فیصلہ کرتے ہوئے نظر ثانی اپیل میں تمام اسٹیک ہولڈرز کو بھی مذمت پیش کرنے کاموقع دیا ہے۔ آل پارٹیز کانفرنس نے مطالبہ کیا ہے کہ قرآن و سنت اور آئین سے متصادم فیصلہ واپس لیا جائے۔ تمام مسالک اورتمام مکتب فکر کی متفقہ رائے ہے کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ صریحاً شریعت سے متصادم ہے۔ اسلامی قوانین اور قادیانیت کو غیر مسلم قراردیے جانے والے فیصلوں کو متاثر، غیر موثر کرنے کا گہرا تاثر پیدا ہورہا ہے۔ پوری قوم کادو ٹوک اعلان ہے کہ اسلامی قوانین کی حفاظت کی جائے گی۔ قادیانی غیر مسلم میں آئین پاکستان کے باغی ہیں۔ آئین سے انحراف کرتے ہوئے اسلامی قوانین کو غیر موثر بنانے کا کوئی فیصلہ اورکوئی اقدام قبول نہیں۔ سپریم کورٹ نظر ثانی کیس میں متنازع فیصلہ کو واپس لیا جائے اور اسے قرآن و سنت اور آئین کی روح کے مطابق بنایا جائے۔

غزہ، رفح ویسٹ بنک فلسطین کی صورت حال:

غزہ میں اسرائیلی صہیونی قتل عام، نسل کشی اور بلڈنگز، ہسپتال، سکول، پناہ گزین کی تباہیتاریخ کا المناک باب ہے۔ غزہ پر اسرائیل کی وحشیانہ بمابری کو 230 دن گزر گئے 40ہزارشہادتیں ہوئی اور ان میں بچے 27ہزار ہیں اور ایک لاکھ انسان زخمی ہیں۔ جنوبی افریقہ کی انسانی حقوق کے تحفظ اور فلسطینیوں کی نسل کشی کے اسرائیل کی جارحیت ختم کرانے کے لیے عالمی عدالت انصاف میں پٹیشن ہر عدالت کا فیصلہ تاریخ ساز ہے۔ آل پارٹیز کا مشترکہ موقف ہے کہ

* فلسطین فلسطینیوں کا ہے، فلسطین کی آزادی فلسطینیوں کا حق ہے۔ اسرائیل ناجائز ریاست ہے۔ امریکہ اور یورپ کی اسرائیل کی سرپرستی ناجائز اور عالمی امن کے لیے بڑی خطرناک ہے۔ ناجائز ریاست کا خاتمہ سے ہی عالمی امن پائیدار ہوگا۔

* فلسطینیوں نے غزہ میں 36 ہزار انسانوں کی قربانی دے کر جرائت و استقامت سے نئی تاریخ رقم کی ہے اور پوری دنیا میں ظلم و جبر کے خلاف بیداری کی نئی لہر اور کلچر پیدا کیا ہے۔ فلسطینیوں کے عزم آزادی اور استقامت لائق تحسین ہے۔ فلسطینیوں نے اسرائیلی غرور تکبر اور جبر کو توڑ دیا ہے آج اسرائیل کمزور ترین پوزیشن پر ہے اور اسرائیل کے سرپرست امریکہ بائیڈن اور برطانوی اپنی عوام کی نفرتوں کا نشانہ پر ہیں۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی اور سیکرٹری کونسل غزہ میں انسانوں کو حق سے محرومی کے عمل کونہیں روک سکے۔ یہ بھی اقوام متحدہ کا فرض ہے کہ عالمی عدالت انصاف کے فیصلہ پر عملدرآمد کرایا جائے۔ اسرائیل کو جنگی جرائم کی سزا دی جائے۔ اسرائیل عالمی عدالت انصاف کے فیصلہ سے انکار کرے تو اس کی اقوام متحدہ کی رکنیت ختم کی جائے اور اقتصادی پابندیاں عائد کی جائیں۔ اور اسرائیلی وزیراعظم جو 40 ہزارانسانوں کا قاتل ہے اسے دنیا کا ناپسندیدہ ترین فردقرار دیا جائے۔

* عالم اسلام کی قیادت نے غفلت، بے حسی اور مجرمانہ غفلت کی انتہا کردی۔ غیر مسلم ملک و جنوبی افریقہ کی جانب سے انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے عالمی عدالت انصاف سے رجوع کیا اور وہاں سے بھی تاریخ ساز فیصلہ آگیا ہے اب توعالم اسلام اتحاد امت کا جذبہ پیدا کرے اور بے گناہ غزہ کے مظلوم مرد و خواتین، نوجوانوں اور بچوں کو اسرائیلی ظلم سے بچانے کے لیے کردار ادا کرے۔ پوری امت عالم اسلام کے قیادت سے اس مرحلہ پر عملی اقدامات کا مطالبہ کررہی ہے۔

* آل پارٹیز کانفرنس آئر لینڈ، اسپین اور اٹلی کی طرف سے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے فیصلہ کا خیر مقدم کرتی ہے اور حکومت پاکستان کو تنبہ کرتی ہے کہ دنیا سے بھیک کی توقع سے اسرائیل کی ناجائز ریاست کو تسلیم کرنا عوام کو قابل قبول نہیں اور ایسا اقدام مسئلہ کشمیر کے لیے بڑی پسپائی کا ذریعہ بنے گا۔ فلسطین کی آزادی کے عالمی محاذ پر بنیادی مدد کی جائے۔

* امریکہ، یورپ اور دنیا کے دیگر ممالک کی یونیورسٹیز کے طلبہ و طالبات اور عوام کی جانب سے فلسطینیوں کے حق میں مظاہرے انسان دوستی کے عظیم الشان مظاہروں کا ہم خیر مقدم کرتے ہیں۔ غزہ فلسطین کے مظلوموں نے پوری نیا سے عوامی سطح، عالمی عدالت انصاف اور عالمی اداروں میں اپنا حق آزادی اور آزادی کے لیے حق مزاحمت تسلیم کرالیا ہے۔

* آل پارٹیز کانفرنس دنیا بھر کی اسلامی تحریکوں اور انسانی حقوق کی علمبردار تنظیموں سے اپیل کرتی ہے کہ عید الاضحیٰ کا دن فلسطینیوں سے یکجہتی کا دن بنا دیا جائے۔ علماء خطیب قربانی اور سزمین انبیاء فلسطین میں لازوال قربانیوں کو خطاب کا موضوع بنایا جائے۔

* اسلام آباد میں فلسطینیوں کی حمایت میں مظاہرین پر تشدد، ناجائز مقدمات اور دونوجوانوں کا بے دردی سے قتل کی مذمت کرتے ہیں اور مظاہرین کو شدید زخمی کرنے والے مجرم کو قرار واقعی سزا دی جائے۔

وفاقی شرعی عدالت کے فیصلہ سے فرار نہیں عمل درآمد کیا جائے:

ملکی معاشی حالات انتہائی ابتر ہیں، مہنگائی، بے روزگاری، لاقانونیت کرپشن اور بدامنی ملک اور عوام کے لیے عذاب کی شکل بن گیا ہیکشکول پھیلا کر مدد حاصل کرنے سے قومی معیشت بحال کرنا ممکن نہیں ہوا۔ خود انحصاری اپنے قدرتی وسائل پر اعتماد ہی بحرانوں سے نکلنے کا واحد راستہ۔ مغربی سرمایہ دارانہ نظام کی پیروی نے قومی حیثیت کو کینسر زدہ کردیا ہے۔ یہ امر اب واضح ہے کہ ملک پر مسلط معاشی نظام ناکام ہے اس وقت وفاقی شرعی عدالت کے سود خاتمہ اور اسلامی معاشی نظام کے نفاذ کے لیے فیصلہ دیا۔ اس پر عمل کرنے کی بجائے حکومت اور بنک کے نظام اور سود کی حفاظت کے نئے سپریم اسپیشلسٹ بنچ سے اپیل کرے فیصلہ پر عمل کو رکوا لیا ہے۔ حکومت اللہ اور اس کے رسولؐ سے جنگ بند کرے اور وفاقی شرعی عدالت کے فیصلہ پر عمل درآمد کیا جائے۔ قومی بجٹ کے موقع پر حکومت FSC کے فیصلہ پر عملدرآمد کا روڈ میپ ہے۔ آل پارٹیز کانفرنس کا اعلان ہے کہ سودی نظام کے خاتمہ، اسلامی معاشی نظام کے نفاذ کے لیے وفاقی شرعی عدالت کے فیصلہ پر عمل درآمد کرانے کے لیے تمام اسٹیک ہولڈرز کی گرینڈ نیشنل کانفرنس منعقد کی جائے۔

آل پارٹیز کانفرنس کے قائدین اسلامی جمہوری ایران کے صدر آیت اللہ سید ابراہیم رئیسی، وزیر خارجہ امیر عبداللہ ہیجان اور ان کے دیگر رفقاء کار کی شہادتوں پر گہرے دکھ و غم کا اظہار کرتے ہیں۔ ایران کی قیادت اور بہادر عوام کے ساتھ کا مل یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں۔ سید رئیسی نے اپنے دور صدارت میں علم، تدبر، حکمت اور اتحاد امت کے جذبوں کا شاندار عملی مظاہرہ کیا جو مدتوں یاد رکھا جائے گا۔ حکومت پاکستان صدر سید رئیسی کے دورہ پاکستان میں کیے گئے معاہدوں پر عمل درآمد کرے خصوصاً ایران سے تیل گیس پائپ لائن معاہدہ پر عملدرآمد کرے۔

ملک میں دہشت گردی کا بڑھتا رجحان اندرونی سلامتی اورقومی سلامتی کے لیے بڑا خطرناک ہے۔ سیکورٹی فورسز کے افسران، جوانوں کی شہادتیں پوری قوم کے لیے بڑا المیہ ہیں۔ پاکستان دشمن قوتوں کیعزائم کو خاک میں ملانے کے لیے سیکورٹی فورسز اپنی کمزوریوں پر قابو پائیں اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے نیا قومی لائحہ عمل بنایا جائے۔ ملک بھر کی دینی، سیاسی، سماجی اور سول سوسائٹی کی تنظیمیں  ان کی بحالی اور دہشت گردی کے خاتمہ کے لیے قومی جذبہ سے تعاون کریں گی۔

آل پارٹیز کانفرنس ملک میں سیاسی انتشار، سیاسی جمہوری محاذ کی کمزور ترین صورت حال، انسانی حقوق کی پامالی، آئین قانون سے انحراف، آزادی صحافت پر بڑھتی ریاستی قدغنوں پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہیں اور پختہ یقین کا اظہار کرتے ہیں کہ ملک میں ہر بے یقینی عدم استحکام اور انارکی کی وجہ اسلام کیاصولوں اور قرآن و سنت کے احکامات سے انحراف اور آئین پاکستان کی حدود کو توڑنے کی وجہ سے ہے۔ سیاسی استحکام ملکی استحکام کے لیے شاہ کلیہ ہے۔ حکومت، سیاسی ادارے، اپوزیشن اور سول ملٹری اسٹیبلشمنٹ اپنی غلطیوں کا احساس کریں اورسب آئینی حدود کی پابندی کریں۔ آل پارٹیز کانفرنس عہد کرتی ہے کہ آئین کی بالادستی اور عوام کے جمہوری حقوق کی حفاظت کی جدوجہد کریں گے۔