News Detail Banner

جماعت اسلامی کے امیدواران پروفیسر طاہر اور ملک محمد خان بھی اس موقع پر موجود تھے۔سراج الحق

1ماہ پہلے

لاہور 09جنوری 2024ء

امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہا ہے کہ مزید باریوں کے طلبگارسابقہ کارکردگی کا حساب دیں، خاندانی بادشاہتوں کا دور ختم ہو گیا، اب آقا غلام، برہمن شودر کی تقسیم نہیں چلے گی، ایک پاکستان میں دو نظام نہیں ہو سکتے۔ قوم 8فروری کو ظالم جاگیرداروں، وڈیروں اور کرپٹ سرمایہ داروں کا یوم احتساب بنا دے۔ اقتدار میں آ کر جماعت اسلامی ملک میں قرآن و سنت کا نظام نافذ کرے گی، سودی نظام اور کرپشن کے خاتمے کے لیے عوام ترازو پر مہر لگائیں۔ ان خیالات کا اظہار انھوں نے تلہ گنگ میں انتخابی جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ جماعت اسلامی کے امیدواران پروفیسر طاہر اور ملک محمد خان بھی اس موقع پر موجود تھے۔

سراج الحق نے کہا کہ اس وقت ملک میں انگریز کا نظام ہے، مافیا بڑی پارٹیوں پر سرمایہ لگا کر ان کے اقتدار میں آنے کے بعد کئی گنا وصول کرتے ہیں۔ ملک کی عدالتوں میں انصاف نہیں، غریب مظلوم کے لیے انصاف کے تمام دروازے بند ہیں، طاقتور افراد کا کوئی بھی ادارہ احتساب نہیں کر سکتا، سودی نظام نے ملک کی معیشت کو کھوکھلا کر دیا ہے۔ پیپلزپارٹی، ن لیگ، پی ٹی آئی کی سابقہ حکومتوں نے سودی نظام جاری رکھا، یہ معیشت ٹھیک نہیں کر سکے، ان سے تعلیم اور صحت کا نظام بہتر نہ ہو سکا، انھیں کرپشن کے علاوہ اور کوئی کام نہیں آتا، ملک کو 80ہزار ارب کا مقروض کر دیا گیا، قرضہ خود ہڑپ کر گئے، ادائیگی کے لیے عوام کا خون نچوڑا جا رہا ہے۔ جماعت اسلامی اقتدار میں آ کر حقیقی احتساب کا نظام لائے گی، قرضہ ہڑپ کرنے والوں اور کرپٹ افراد کی جائدادیں نیلام کر کے قومی خزانہ میں جمع کرائیں گے۔ 

امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ ملک کے بزدل حکمرانوں کی وجہ سے مودی مقبوضہ کشمیر کی ریاستی حیثیت ختم کرنے کے بعد اب مظفرآباد پر بھی قبضہ کرنے کی بڑھکیں مار رہا ہے۔ حکمران بھارتی پائلٹ ابھی نندن کو 48گھنٹے بھی نہ رکھ سکے، مودی نے دعویٰ کیا کہ یہ اس کے خوف کی وجہ سے ممکن ہوا۔ حکمرانوں نے پاکستانیوں کے قاتل ریمنڈڈیوس کو رہا کیا، انھوں نے قوم کی بیٹی ڈاکٹر عافیہ کو امریکا کے حوالے کیا، یہ وعدوں کے باوجود امریکا سے ڈاکٹر عافیہ کی رہائی کی بات تک نہیں کر سکے، جماعت اسلامی اقتدار میں آ کر کشمیر کو آزاد کرائے اور ڈاکٹر عافیہ کو واپس لائے گی۔ ہم سودی نظام کا خاتمہ کریں گے، نوجوانوں کو سرکاری زرعی زمینیں دیں گے، خواتین کو وراثت میں حق دلائیں گے، بچیوں کی تعلیم لازمی ہو گی، خواتین کے لیے الگ یونیورسٹیاں بنائیں گے اور بزرگوں کو بڑھاپا الاؤنس دیا جائے گا۔ جماعت اسلامی مساوات اور عدل پر مبنی نظام قائم کرے گی۔ 

سراج الحق نے کہا کہ فلسطین جل رہا ہے، 85دن ہو گئے غزہ پر بمباری جاری ہے، 25ہزار سے زاید معصوم بچے، خواتین اور شہریوں کو شہید کر دیا گیا، صہیونی افواج کے ٹینک غزہ کے سکولوں اور ہسپتالوں میں گھس گئے، ہمارے بزدل حکمرانوں نے اہل فلسطین کی مدد کے لیے ایک قدم نہیں اٹھایا، بڑی پارٹیوں کے سربراہان نے خاموشی اختیار کر رکھی ہے، یہ امریکا کی خوشنودی چاہتے ہیں اس لیے اسرائیل کے خلاف ایک لفظ نہیں بولتے۔ جماعت اسلامی نے اہل فلسطین کے حق میں ملین مارچز کیے۔ انھوں نے کہا کہ انھوں نے ایران، قطر اور ترکی کے دوروں کے دوران مسلمان حکمرانوں سے اپیل کی کہ اہل غزہ کی عملی مدد کریں یا ہمیں راستہ دیں۔ جماعت اسلامی نے فلسطینیوں کے لیے ایک ارب چالیس کروڑ روپیہ اکٹھا کیا۔ اللہ تعالیٰ کی مددونصرت اور عوام کی تائید سے اقتدار میں آکر مسجد اقصیٰ کو آزاد کرائیں گے۔