News Detail Banner

قوم دہائیوں سے کرپشن، مہنگائی،غربت کے اندھیروں میں رہ رہی ہے، سراج الحق

10مہا پہلے

لاہور21 جولائی 2023ئ

امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہا ہے کہ 12اگست کے بعد قائم ہونے والی نگران حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ غیرجانبدار رہے اور انتخابات کے انعقاد کے لیے الیکشن کمیشن سے مکمل تعاون کرے۔ الیکشن کمیشن انتخابات کو شفاف بنانے کے لیے تمام سیاسی سٹیک ہولڈرز سے مشاورت کرے، الیکشن کے بعد مضبوط حکومت کا قیام ملک کی ضرورت ہے، قوم دہائیوں سے کرپشن، مہنگائی، غربت اور بے روزگاری کے اندھیروں میں رہ رہی ہے، فرسودہ نظام اور سودی معیشت سے جان چھڑانے کے لیے آزمائے ہوئے مُہروں کو خیرباد کہنا ہو گا۔ پی ڈی ایم، پیپلزپارٹی اور پی ٹی آئی مسلط رہیں تو خوشحالی اور ترقی نہیں آئے گی، بہتری کا واحد آپشن جماعت اسلامی ہے۔ وہ ملتان میں حرمت سود سیمینار سے خطاب کر رہے تھے۔ امیر جماعت اسلامی پنجاب جنوبی راﺅ ظفر اور امیر جماعت اسلامی ملتان صفدر ہاشمی بھی اس موقع پر موجود تھے۔

سراج الحق نے کہا کہ جماعت اسلامی پوری قوم کی بہتری جب کہ حکمران جماعتوں کے سربرہان کو صرف اپنی اولادوں کی فکر ہے، کوئی اپنے بیٹے تو کوئی بیٹی وزیراعظم دیکھنا چاہتا ہے، حقیقی جمہوریت جمہوری جماعت ہی لا سکتی ہے۔ 75برسوں سے سٹیٹس کو قائم ہے، اسے توڑنا ہو گا، پارلیمنٹ میں کسان کی نمائندگی کسان اورمزدور کی مزدور کرے گا تو ہی ملک کے کروڑوں کسانوں اور مزدوروں کے حقوق محفوظ ہوں گے، ایوانوں میں ظالم جاگیردار اور کرپٹ سرمایہ دار بیٹھے ہیں جو سودی نظام کا تسلسل چاہتے ہیں، سود اللہ اور اس کے رسول سے جنگ ہے، آئین پاکستان اور اسلامی نظریاتی کونسل نے سودی معیشت کے خاتمے کی بات کی ہے، وفاقی شرعی عدالت کا ربا کے خلاف دوٹوک فیصلہ ہے۔ سود کی وجہ سے اسلام آباد میں نوجوان نے خودکشی کر لی، حکمران اس کی موت کے ذمہ دار ہیں، ان کے خلاف ایف آئی آر کا اندراج ہونا چاہیے۔ سود سے ملک کے کروڑوں باسی متاثر ہیں، غربت، مہنگائی اور بے روزگاری سود کی وجہ سے ہے۔ انھوں نے کہا کہ جماعت اسلامی نے سود کے خلاف قانونی جنگ جیتی، اس کے خاتمے کے لیے مظاہرے اور جلسے جلوس منعقد کیے، لاہور، کراچی، پشاور میں حرمت سود پر کانفرنسز کا انعقاد کیا مگر اسلامی ملک کے حکمران اسے جاری رکھنے پر بضد ہیں، سودخوروں سے توقع نہیں کہ وہ سود ختم کریں گے۔ قوم سے اپیل ہے کہ وہ اسلامی نظام معیشت کے نفاذ کے لیے جماعت اسلامی کو اقتدار میں لائے۔ انھوں نے کہا کہ انھوں نے بطور سابق وزیرخزانہ خیبرپختونخوا سودی بنکاری کا خاتمہ کیا، صوبہ کو سود اور قرض فری بنایا، آج کے پی ایک ہزار ارب سے زائد کا مقروض ہے۔ حکمران نے ملک پر قرضوں کا ہمالیہ لاد دیا، بچہ بچہ مقروض ہے، آئی ایم ایف سے قرض ملنے پر جشن منایا گیا۔ انھوں نے کہا کہ قرضوں سے کوئی ملک ترقی نہیں کر سکتا، قرضوں سے بہتر آتی تو پاکستان چین اور جاپان سے آگے نکل چکا ہوتا۔ قومی ادارے فروخت کیے جا رہے ہیں، ریلوے، پی آئی اے، سٹیل ملز اربوں کے خسارے میں ہیں، ائیرپورٹس کے سودے ہو رہے ہیں۔ یہ سلسلہ جاری رہا تو ایک دن ایٹمی ہتھیار فروخت کرنے کا بھی پریشر آ جائے گا۔

امیر جماعت نے کہا کہ قومی معیشت کے ساتھ ساتھ ملک کا تعلیمی نظام بھی استعمار کے قبضے میں ہے، انگریز چلے گئے، ان کا نظام اور اس کے چوکیدار مسلط ہیں۔ دوفیصد کرپٹ اشرافیہ وسائل پر قابض، غریب فاقوں مر رہے ہیں، قوم کو نظام بدلنے کے لیے جدوجہد کرنا ہو گی، عوام کے پاس ووٹ کی طاقت ہے جسے وہ حقیقی تبدیلی اور اسلامی نظام کے لیے استعمال کریں۔ سات دہائیوں کے ناکام تجربات کے بعد ثابت ہو گیا کہ اب صرف اسلامی نظام ہی ملک بچا سکتا ہے۔