تعلیمی اصلاحات

  • آٹا ،گھی ، چاول ، چینی ،دالیں وغیرہ سمیت اشیائے صرف کی قیمتوں میں ہرممکنہ کمی ۔
  • انٹرمیڈیٹ تک دینی و دنیاوی تعلیم کے امتزاج سے یکساں نصاب تعلیم کی تشکیل کے ذریعے ہر طالب علم کے لیے قرآن و حدیث کی تعلیم لازمی اور دینی مدارس کے طلبہ کے لیے عصری تعلیم لازمی ۔
  • نظام تعلیم کو ملک کی نظریاتی اساس سے ہم آہنگ کرکے طبقاتی نظام تعلیم کا خاتمہ ۔ہر سطح تک اسلامی نظام تعلیم کا نفاذ ،فنی تعلیم کو ترجیح ۔
  • شرح خواندگی 5سال میں 100فیصدتک کرنے کامؤثر نظام، میٹرک تک تعلیم مفت اور لازمی ۔
  • ابتدائی طبی امداد ،خودحفاظتی اور ابتدائی زرعی وصنعتی مہارت نصاب کا حصہ ۔
  • طلبہ کے لیے جمہوری اقدار کافروغ ، طلبہ یونینز کی بحالی۔
  • ایسی پالیسی کی تشکیل کہ ہر استادکے لیے ریٹائرمنٹ کے بعد ذاتی مکان کا حصول ممکن ہو۔
  • اُردو کو حقیقی معنوں میں قومی ، سرکاری ، تدریسی ،زبان کی حیثیت دلانا نیز علاقائی زبانوں کے تحفظ کی ضمانت۔
  • مقابلے کے امتحانات اردو میں دینے کی سہولت۔
  • تعلیم پر کم ازکم اخراجات جی ڈی پی کے 5فیصد کے برابر اورہر صوبائی بجٹ میں تعلیم کے لیے کم ازکم 25فیصد مختص ہوگا۔
  • ہر طالب علم کے لیے اعلیٰ تعلیم کا حصول آسان کیاجائے گا۔
  • تعلیمی اداروں میں بنیادی سہولیات کی فراہمی ۔
  • بچیوں کے لیے لازمی تعلیم کا اہتمام اور اُن کے لیے ہر سطح پر علیحدہ تعلیمی ادارے ۔
  • نجی تعلیمی اداروں کے نصاب تعلیم ،فیسوں اور معیار تعلیم کے لیے ٹھوس پالیسی ۔