معاشی اصلاحات

  • ہر شہری کے لیے خوراک ، لباس ، مکان، علاج ، تعلیم اور روزگار کی ضمانت ۔
  • ہماری حکومت کوئی نیا غیر ملکی قرضہ نہیں لے گی ۔اس کی بجائے خود انحصاری، کرپشن پر کنٹرول،برآمدات میں اضافہ اور سمندر پار پاکستانیوں کے تعاون سے زر مبادلہ ذخائر میں اضافہ کرے گی۔
  • قرآن و سنت کے واضح احکامات اور آئین پاکستان کے آرٹیکل 48-Fکے مطابق سودی نظام کا مکمل اور کم سے کم مدت میں خاتمہ۔
  • دولت کمانے اور خرچ کرنے کے تمام حرام اور ممنوع طریقوں پر پابندی ۔
  • معاشی شرح نمو سالانہ آباد ی میں اضافہ سے کم ازکم دو گنا۔
  • قومی خزانے اور وسائل کے ناجائز استعمال کو روکنا۔ اسراف کا خاتمہ اور سادگی کو اپنانا۔
  • بجٹ کے غیر ترقیاتی اخراجات میں 30فیصد کمی۔
  • دولت کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بنانا اور ارتکاز دولت و مختلف طبقوں کے درمیان پائے جانے والے غیر معمولی فرق کو اعتدال پر لانا ۔
  • آبادی اور وسائل میں توازن کے لیے اقدامات، ماں بچے کی صحت اور بچوں کی تعلیم وتربیت کو خصوصی ترجیح۔
  • شہریوں بالخصوص بچوں میں غذائی قلت کے سدباب کے لیے حکومتی بجٹ میں کم ازکم عالمی معیار کے مطابق حصہ ۔
  • سمگلنگ کی موثر روک تھام
  • عوام ،ملازمین ، تاجر برادری اور صنعتکاروں پر عائد ناروا اور ظالمانہ ٹیکسوں کاخاتمہ … بالواسطہ ٹیکسوں کی بجائے براہ راست ٹیکسوں کی شرح کو بڑھانا۔
  • انصاف پر مبنی ٹیکس کلچر کا فروغ اور اسلامی نظام معیشت کانفاذ ۔
  • بجلی، گیس اور موبائل فون میں شامل غیر ضروری ٹیکسوں کے خاتمے کے بعد بلوں میں ہر ممکنہ کمی ۔
  • آٹا ،گھی ، چاول ، چینی ،دالیں وغیرہ سمیت اشیائے صرف کی قیمتوں میں ہرممکنہ کمی ۔