حلقے کی مجلسِ شوریٰ، افتتاحی اجلاس، امیر حلقہ اور اس کی مجلس ِ شوریٰ کا باہمی تعلق

۳۔ حلقے کی مجلسِ شوریٰ

(Divisional Council)

دفعہ ۵۸: (۱) ہر حلقے کی مجلس ِ شوریٰ ارکانِ حلقہ کی براہ راست منتخب کردہ ہوگی۔

(۲)ارکانِ مجلس کی تعداد امیر حلقہ مقرر کرے گا۔

(۳)ارکان مجلس کا انتخاب دو سال کے لیے ہوگا۔

(۴)امیر حلقہ اپنے حلقے کی مجلسِ شوریٰ کا صدر اور قیّم ِ حلقہ بربنائے عہدہ اس کا رکن اور معتمد ہوگا۔ ۱؎

افتتاحی اجلاس:

دفعہ ۵۹: حلقے کی مجلس ِ شوریٰ کا انتخاب مکمل ہو جانے کے بعد امیر حلقہ ایک مہینے کے اندر اندر مجلس کا افتتاحی اجلاس بلائے گا جس میں تمام ارکانِ شوریٰ فرداً فرداً امیر ِ حلقہ کے روبرو رکنیتِ شوریٰ کا حلف اٹھائیں گے جو اس دستور کے ضمیمہ نمبر۲ میں درج ہے۔ اس کے بعد امیر حلقہ انھیں ان کے فرائض اور ذمہ داریوں سے اور حلقے میں جماعت کے موجودالوقت حالات سے آگاہ کرے گا۔

امیر حلقہ اور اس کی مجلس ِ شوریٰ کا باہمی تعلق:

دفعہ ۶۰: ( ۱) امیر حلقہ روز مرہ کے معاملات کے سوا تمام اہم معاملات حلقے کی مجلس ِ شوریٰ کے مشورے سے طے کرے گا۔

(۲)امیر حلقہ اور اس کی مجلسِ شوریٰ میں نزاع پیدا ہو جانے کی صورت میں امرائے بالا کی طرف رجوع کیا جائے گا۔

دفعہ ۶۱:حلقے کی مجلسِ شوریٰ کے معمولی اجلاس سال میں دو مرتبہ ہوا کریں گے۔

اجلاس:

دفعہ ۶۲: حلقے کی مجلسِ شوریٰ کا غیر معمولی اجلاس حسب ذیل صورتوں میں ہر وقت بلایا جاسکے گا:

(ا) امیر حلقہ اس کی ضرورت محسوس کرے۔

(ب) حلقہ کی مجلس شوریٰ کے کم ازکم ایک چوتھائی ارکان

اس کاتحریری مطالبہ کریں تو مجلس شوریٰ کااجلاس 20روز کے اندر منعقد ہونالازمی ہوگا۔

(ج) امیر حلقہ کے موجود نہ ہونے کی صورت میں حلقے کا شعبہ تنظیم اس کی ضرورت محسوس کرے۔

(د) امرائے بالا اسے منعقد کرنے کا حکم دیں۔

فرائض واختیارات:

دفعہ۶۳: حلقے کی مجلسِ شوریٰ کے فرائض وہ ہوںگے جو رکنیت شوریٰ کے حلف میں مذکور ہیں اور اس مجلس کے اختیارات حسب ذیل ہوں گے:

(۱) جماعت کے نصبُ العین اور مقاصد سے متعلق اور ان پر اثر انداز ہونے والے مسائل پر قراردادوں یا بیانات کی شکل میں اظہار رائے بشرطیکہ وہ بالائی نظام کی عام یا خاص پالیسی کے خلاف نہ ہو۔

(۲)اپنے حلقے اور ماتحت جماعتوں کے کام کا محاسبہ۔

(۳)حلقے کے بجٹ کی منظوری۔

(۴)امیر حلقہ پر اعتماد اور عدم اعتماد کی قرار داد منظور کرنا۔