قیّم صوبہ، صوبائی مجلس عاملہ، صوبائی شعبوں کے ناظمین

۴۔ قیّم صوبہ

(Provincial Secretary General)

تقرر اور برطرفی: دفعہ ۵۰: قیّم صوبہ کا تقرر امیر صوبہ اپنی مجلس ِ شوریٰ کے مشورے سے کرے گا اور وہ اسی وقت تک اس منصب پر قائم رہ سکے گا جب تک امیر صوبہ اس کے کام سے مطمئن ہو۔

فرائض:

دفعہ۵۱: (۱)قیّم صوبہ اپنے صوبے کے جملہ معاملات میں امیرصوبہ کا مددگار اور نمائندہ ہوگا اور وہ فرائض انجام دے گا جو امیر صوبہ اس کے سپرد کرے اور اپنے کام کے لیے امیر صوبہ کے سامنے جوابدہ ہو گا۔

حلف:

(۲)قیّم صوبہ اپنے عہدے کی ذمہ داریاں سنبھالنے سے پہلے امیر صوبہ کے سامنے وہ حلف اٹھائے گا جو اس دستور کے ضمیمہ نمبر۳ میں درج ہے۔

۵۔ صوبائی مجلس عاملہ

(Provincial Working Committee)

تقرر، حیثیت اور اختیارات:

دفعہ ۵۱ ا :(۱)صوبائی جماعت کی ایک مجلس عاملہ ہوگی جو زیادہ سے زیادہ دس ارکان پر مشتمل ہوگی جن کا انتخاب صوبائی امیر‘ صوبائی مجلس ِ شوریٰ کے ارکان میں سے کرے گا۔ صوبائی امیر اس کا صدر ہوگا‘ قیّم صوبہ بربنائے عہدہ اس کارکن اور معتمد ہوگا اور نائب صوبائی امراء (اگر کوئی ہوں) بربنائے عہدہ اس کے رکن ہوں گے۔

(۲)کوئی شخص جس کی صوبائی مجلس ِ شوریٰ کی رکنیت ختم ہو جائے، صوبائی مجلس عاملہ کا رکن نہیں رہ سکے گا۔

(۳)صوبائی مجلس عاملہ کا اجلاس صوبائی امیر جب اور جتنی مرتبہ چاہے طلب کرسکتا ہے۔

(۴)صوبائی مجلس عاملہ کے اجلاس کے لیے حاضری کا نصاب اس مجلس کے ارکان کی کل تعداد کے نصف پر مشتمل ہوگا۔

(۵)صوبائی مجلس ِ شوریٰ کے ہر نئے انتخاب کے بعد صوبائی مجلس عاملہ از سر نو مرتب کی جائے گی۔

(۶)ایسے تمام حالات میں جب کہ صوبائی مجلسِ شوریٰ کا اجلاس نہ ہو رہا ہو‘ یا طلب کرنا مشکل ہو‘ صوبائی مجلس عاملہ صوبائی مجلسِ شوریٰ کے جملہ اختیارات استعمال کرسکے گی البتہ صوبائی مجلس ِ شوریٰ کو پورا اختیار ہوگا کہ اس کے کسی اقدام یا فیصلے کی توثیق کرے یا اس کو جزوی یا کلی طور پر نامنظور کر دے۔


۶۔ صوبائی شعبوں کے ناظمین

تقرر، حیثیت اور اختیارات:

دفعہ ۵۱ ب : (۱) ہر صوبائی شعبہ بالعموم ایک الگ ناظم کے ماتحت ہوگا جس کا تقرر امیر صوبہ اپنی صوابدید سے کرے گا۔

(۲)ایک ناظم شعبہ اسی وقت تک اپنے منصب پر قائم رہ سکے گا جب تک صوبائی امیر اس کے کام سے مطمئن رہے۔

(۳)ناظمین شعبہ جات کے فرائض و اختیارات کا تعین صوبائی امیر کرے گا۔

٭…٭…٭

حصہ پنجم:

تنظیمی حلقے

۱۔ حدود اور نظام

دفعہ ۵۲: (۱) جماعتی تنظیم کے لیے تنظیمی حلقوں کے حدود کا تعین اور ان میں تبدیلی متعلقہ صوبائی مجلس ِ شوریٰ کی تجویز پر امیرجماعت کرے گا۔

(۲)ان حلقوں کا نظام امیر حلقہ‘ حلقہ کی مجلس ِ شوریٰ اور قیّم حلقہ پر مشتمل ہوگا۔ الاّیہ کہ مقامی حالات عارضی طور پر کسی دوسرے انتظام کے متقاضی ہوں۔

(۳)ہر حلقے کے ارکانِ جماعت پر نظم حلقہ کی اطاعت لازم ہوگی۔


۲۔ امیر حلقہ

(Divisional Ameer)

حیثیت:

دفعہ ۵۳: ہر تنظیمی حلقے کا ذمہ دار ایک امیر ہوگا جو امیر حلقہ کہلائے گا، اس کی حیثیت اپنے حلقے میں امیر جماعت کے نمائندے کی ہوگی اور وہ اپنے امرائے بالا کے سامنے جوابدہ ہوگا۔

عزل و نصب:

دفعہ ۵۴:امیر حلقہ کا عزل و نصب امیر جماعت‘ امیر صوبہ کے مشورے سے کرے گا۔ اور وہ اس میں جماعتی مصالح کے ساتھ ارکان حلقہ کی رائے کو زیادہ سے زیادہ ملحوظ رکھے گا۔ امیر حلقہ کا تقرر تین سال کے لیے ہوگا۔

حلف: دفعہ ۵۵: امیر حلقہ اپنے منصب کی ذمہ داری سنبھالنے سے پہلے امیرجماعت یا اس کے مقرر کردہ شخص یا اشخاص کے روبرو حلفِ امارت اٹھائے گا جو اس دستور کے ضمیمہ نمبر۱ میں درج ہے۔

فرائض و اختیارات:

دفعہ ۵۶: امیر حلقہ کے فرائض حسب ذیل ہوں گے:

(۱)جماعت کی دعوت‘ نصب العین اور پروگرام کی اپنے حلقے میں اشاعت اور ان کو عملی جامہ پہنانے کے لیے ضروری اقدامات کرنا۔

(۲)حلقے میں نظم بالا کے احکام کی تعمیل اور ان کے واجبات کی بروقت ادائیگی کا انتظام کرنا۔

(۳) حلقے کے حالات اور جماعت کے کام سے نظم بالا کوباخبر رکھنا۔

(۴)حلقے میں ماتحت جماعتوں‘ شعبوں اور اداروں اور ان کے عملے اور کارکنوں کی نگرانی و رہنمائی اور محاسبہ کرنا۔

(۵)حلقے میں جماعت کے نصب العین اور مقاصد سے تعلق رکھنے یا ان پر اثر انداز ہونے والے مسائل کا بروقت نوٹس لینا اور ان کے بارے میں ضروری اقدام کرنا۔

(۶)مزید جو فرائض اور ذمہ داریاں نظم بالا کی طرف سے عائد کر دی جائیں۔

دفعہ ۵۷: امیر حلقہ کے اختیارات یہ ہوں گے:

(۱) حلقے کی مجلس ِ شوریٰ کے مشورے سے قیّم حلقہ کا تقرر اور برطرفی۔

(۲)حلقے کے شعبوں میں عملے کا تقرر اور برطرفی۔

(۳)حلقےکی مجلسِ شوریٰ اور اجتماعات طلب کرنا۔

(۴)حلقے کی مجلسِ شوریٰ کے طے کردہ بجٹ کے مطابق حلقے کے بیت المال میں تصرف اور اپنے فرائض کی ادائیگی کے سلسلے میں دستور کے مطابق مناسب اور ضروری اقدام کرنا۔

(۵)مزیدجو اختیارات امرائے بالا سپرد کریں۔