News Detail Banner

ملک میں وسائل کا نہیں ، حکمرانوں کی اہلیت ، صلاحیت اور وژن کا شارٹ فال ہے،امیر جماعت اسلامی سراج الحق

2مہا پہلے

لاہور4جولائی2021 ئ

    امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق نے کہاہے کہ ملک میں وسائل کا نہیں ، حکمرانوں کی اہلیت ، صلاحیت اور وژن کا شارٹ فال ہے۔ وزیراعظم نے بائیس کروڑ عوام کو ہمیشہ دائیں دکھا کر بائیں ماری ہے ۔ سینکڑوں دعوے ، وعدے او ر اعلانات کیے لیکن عمل کا خانہ خالی ہے ۔ اپوزیشن کا حکومت کے ساتھ فرینڈلی میچ عوام سے بے وفائی ہے ۔حکومت نے غریب عوام کو مہنگائی و بے روزگاری کی زنجیر میں باندھ کر لوڈشیڈنگ کے عذاب میں مبتلا کر دیا ۔ بجلی ، گیس ، پٹرول کے بعدکھانے پینے کی اشیاءمیں ہونے والا اضافہ حکمرانوں کے منہ پر طمانچہ ہے۔ مافیاز کو نوازنے کا سلسلہ عروج پر ہے، اگر میرٹ پر احتساب کیا جاتا تو موجودہ اور سابقہ حکومتوں کے اعلیٰ عہدیداران جیل کی سلاخوں کی پیچھے ہوتے ۔قوم دیکھ رہی ہے کہ احتساب کے نام پرپولیٹیکل انجینئرنگ ہو رہی ہے اور یہی نعرے لگ رہے ہیں کہ تیرا چورمردہ باد میرا چور زندہ باد ۔ حقیقی احتساب صرف جماعت اسلامی کر سکتی ہے کیونکہ اس کا دامن کرپشن سے پاک ہے ۔ مسلم لیگ ن، پیپلز پارٹی ، پی ٹی آئی کے پاس کوئی انقلابی ایجنڈا نہیں بلکہ یہ تینوں سامراجی نظام کے سٹیٹس کو کاسیمبل ہیں ۔ گھریلو تشدد بل کی منظوری سے ان کی حقیقت مزیدکھل کر سامنے آگئی ہے ۔ حکومت نے جو بل منظور کیا ہے اس سے پاکستان میں خاندانی نظام تباہ ہو جائے گا ۔ مغرب یہی چاہتاہے کہ مسلم معاشرے کی خاندانی وحدت ختم ہو جائے ۔جماعت اسلامی ہر محاذ پر ایسی تمام سازشوں کا مقابلہ کرے گی اور عوامی تائید کے ذریعے ایسے اقدامات کو واپس لینے پر مجبور کرے گی۔ ان خیالات کا اظہار انہوںنے جماعت اسلامی لاہور کی دو روزہ تربیت گاہ کے آخری روز منصورہ میں خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ اس موقع پر امیر جماعت اسلامی لاہو ر ذکر اللہ مجاہد بھی موجود تھے ۔

    سراج الحق نے کہاکہ جماعت اسلامی کا مقابلہ استعماری قوتوں اور ان کے ایجنٹوں سے ہے ۔ ہمارے ملک میں انہی استعمارکے ایجنٹوں نے حکومت ، معیشت ، میڈیا ، تعلیمی اور خاندانی نظام پر قبضہ کر رکھاہے ، قوم کو اس سے نجات دلانی ہے ۔ انہوںنے کہاکہ ہمارے ملک میں عدالتوں میں انصاف نہیں ملتا ۔ عدالتوں میں پڑے لاکھوں کیس ہمارے عدالتی نظام پر سوالیہ نشان ہے۔ سراج الحق نے کہاکہ مہنگائی ، بے روزگاری نے عوام کو مفلوک الحال بنادیاہے ۔ حکمران ٹھنڈے کمروں میں بیٹھ کر عوام کو خوشحال بنانے کے جو بیانیے دے رہے ہیں ،وہ سفید جھوٹ ہے ۔ وزیراعظم نے بائیس کروڑ عوام کو در اصل دائیں دکھ کر بائیں ماری ہے۔ عوام سے کیے گئے تمام وعدے نہ صرف پورے نہیں کیے بلکہ اس کے برعکس اقدامات کیے ہیں۔ ایک ماہ میں پٹرول کی قیمتوں میں دو مرتبہ اضافہ ، اسی طرح بجلی ، اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں مزید اضافے سے ان ظالم حکمرانوں نے عوام کے منہ سے روٹی کا نوالہ تک چھین لیا ہے ۔ 

    سراج الحق نے کہاکہ عوام کا احساس نہ کر نے والے احساس پروگرام کو کیسے چلاسکتے ہیں ۔ زرعی اور معدنی وسائل سے مالا مال ملک میں لنگر خانے کھول کر پاکستان کی بے توقیری کی جارہی ہے ۔ ملک میں وسائل کا نہیں بلکہ حکمرانوں کی اہلیت ، صلاحیت اور وژن کا شارٹ فال ہے ۔ مختلف پارٹیوں سے جمع شدہ ناکام لوگ ملک کو کسی صورت کامیابی سے نہیں چلا سکتے۔ پی ٹی آئی نے اپنے دعوے کے برعکس نئے پاکستان کے لیے پرانے مستریوں کا انتخاب کیا ۔ انہوںنے کہاکہ جماعت اسلامی کو اللہ تعالیٰ نے موقع دیا تو وہ ملک کے عوام کو سودی نظام ، آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک سے نجات دلائے گی ۔ غریب طبقے کے لیے آٹا ، گھی ، چینی ، دالوں پر تیس فیصد سبسڈی دے گی۔ 

    سراج الحق نے کہاکہ غیور اور بہادر افغانوں نے امریکہ اور اس کے حواریوں کو عبرتناک شکست سے دوچار کردیاہے اب امریکہ اور سامراج افغانستان میں خانہ جنگی اور افغانوں کو تقسیم در تقسیم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن انہیں اس میں ناکامی ہوگی ۔