News Detail Banner

پی ٹی آئی جن مافیاز پر ماضی میں تشویش کا اظہار کرتی تھی ، وہی مافیا آج حقیقت میں حکمران ہے،امیر جماعت اسلامی سراج الحق

2مہا پہلے

لاہور3 جولائی2021 ئ

    امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہا ہے کہ اپوزیشن اتحاد کی ٹوٹ پھوٹ نا اہل حکومت کے لیے وینٹی لیٹر کاکام کر رہی ہے ۔مہنگائی ، بےروزگاری اور لوڈ شیڈنگ کی وجہ سے لوگوں سے مسکراہٹ کوسوں دور چلی گئی ۔ عوام دو وقت کی روٹی سے محروم جبکہ حکومت نے بے خبری کی چادر اوڑھ لی ہے۔حکومتی نا اہلی کی وجہ سے ملک کو درپیش چیلنجر بڑھتے جا رہے ہیں ۔سیاسی ،پارلیمانی اور آئینی بحران شدت اختیار کر رہا ہے ملک وملت کی سلامتی و استحکام ،اسلامی نظریہ کی حفاظت ، آئینی جمہوری اورپارلیمانی نظام کے اس کی روح کے مطابق نفاذ سے ہی ممکن ہے۔ مالی سال 2020-21 ءکے دوران تجارتی خسارہ میں 34 فیصد اضافہ تشویشناک اور معیشت میں بہتری کے حکومتی دعوﺅں کی نفی ہے۔ جماعت اسلامی اب بہترین آپشن ہے ۔کارکنان عوامی ایشوز پر حکومت مخالف تحریک کو تیز کریں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے سنگوٹہ سوات میں ملا کنڈ ایجنسی کے تربیتی اجتماع سے خطاب اور مختلف وفود سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

    امیر جماعت نے کہا کہ یہ امر نوشتہ دیوار بن گیاہے کہ حکمران اتحادی جماعتوں نے ماضی میں فوجی حکومتوں ، پی پی پی ، مسلم لیگ (ن) کی ناکامیوں سے سبق لینے کی بجائے ناکارہ ، فرسودہ اور ناکام نظام کے تسلسل کو برقرار رکھ کر غریب عوام کی زندگی زیادہ اجیرن اور مٹھی بھر بگڑے اشرافیہ کے وارے نیارے کرادیئے گئے ہیں۔ موجودہ سیاسی بحرانوں کا ذمہ دار وزیراعظم عمران خان کااسلوب حکمرانی ہے۔ پی ٹی آئی جن مافیاز پر ماضی میں تشویش کا اظہار کرتی تھی ، وہی مافیا آج حقیقت میں حکمران ہے ۔ بجٹ کی منظوری سے پہلے ہی حکومت نے چینی ، آٹا ، دال ، گھی ، تیل کی قیمتوں میں اضافہ کر کے آئی ایم ایف کی خوشنودی اور مافیاز کو نوازا ہے ۔

    سراج الحق کا کہنا تھا کہ حکومتی اتحاد کی طرح اپوزیشن جماعتوں خصوصاً سابق حکمران جماعتوں نے بھی اپنی مفاداتی ، روایتی سیاسی ٹریک برقرار رکھنے کے لیے منفی سیاسی کردار ہی جاری رکھا ایسے میں جماعت اسلامی نے سوچ سمجھ کر اپنی سیاسی حکمت عملی بنائی وقت اور حالات نے اسے درست ثابت کردیا ہے۔ جماعت اسلامی صاف ستھرے کرداراور عوامی خدمت کی مسلسل جدوجہد کے ساتھ پاکستان کو اسلامی اور خوشحال بنانے کی جدوجہد جاری رکھے گی۔ اس وقت پورا ملک لاقانونیت کی لپیٹ میں ہے ،لاپتہ افراد کی بازیابی میں موجودہ حکومت بھی ناکام ہے۔عوام کے منتخب اداروں کابنیادی کام قانون سازی ہے لیکن ، قانون سازی کے عمل کو مضحکہ خیز اور غیر آئینی ، غیر پارلیمانی عمل بنادیا گیا ہے ، آرڈی ننس کے آئینی اختیار کا بے رحم استعمال قانون سازی کو داغدار اور مشکوک بنا چکا ہے۔ بجٹ اجلاس کے موقع پر قومی اسمبلی اور بلوچستان میں شرمناک واقعات پارلیمانی تاریخ کا سیاہ باب بن گیا ہے۔ یہ امر اب عوام کے سامنے عیاں ہوگیا ہے کہ مقتدر سیاسی جماعتوں کے غیر جمہوری ، غیر پارلیمانی رویے اب ناقابل برداشت ہیں ، اب وقت آگیا ہے کہ عوام اپنے ووٹ کی طاقت سے ملک ،سیاست اورجمہوریت پر ناجائز ملک کے لیے بوجھ قابض قوتوں کو بے دخل کردیں۔

    سراج الحق نے کہا کہ مہنگائی ،بے روزگاری اور لاقانونیت کے شکار عوام سے مکمل یکجہتی کااظہار کرتے ہوئے کہاکہ بااعتماد اور شفاف و غیر جانبدارانہ انتخابات ہی بحرانوں کا حل ہے۔ قومی اتفاق رائے کی انتخابی اصلاحات قومی ضرورت ہیں۔ حکومت نے انتخابی اصلاحات کی قانون سازی کا آمرانہ طریقہ اختیارکرکے واضح کردیا ہے کہ حکومت غیر جانبدارانہ انتخابات کے لیے سنجیدہ نہیں۔ اتفاق رائے سے انتخابی اصلاحات ضروری ہیں نیزحکومت یکطرفہ اصلاحات سے آئندہ انتخابات کو متنازعہ نہ بنائے۔ انہوں نے کہا کہ انتخابی اصلاحات کے لیے جماعت اسلامی کا مسودہ شفاف اور غیر جانبدارانہ انتخابات کے لیے مفید لائحہ عمل ہے۔ جماعت اسلامی انتخابی اصلاحات ، با اختیار بلدیاتی نظام متناسب نمائندگی کے انتخابی نظام اورغیر جانبدارانہ انتخاب کے لیے عوام کو متحرک کرنے کی ملک گیر جدوجہد کرے گی۔