News Detail Banner

رپورٹس کے مطابق ملک میں سالانہ پانچ ہزار ارب روپے کی کرپشن ہوتی ہےسراج الحق

23دن پہلے

لاہور11 نومبر2022ء

امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہا ہے کہ ملک میں وسائل کمی نہیں، اصل مسئلہ حکمرانوں کی نااہلی، مس مینجمنٹ، وسائل کی غیرمنصفانہ تقسیم، کرپشن اور سودی نظام معیشت ہے۔ رپورٹس کے مطابق ملک میں سالانہ پانچ ہزار ارب روپے کی کرپشن ہوتی ہے، بلوچستان میں کرپشن کا تناسب 65فیصد، یعنی ایک ارب کے منصوبہ میں 65کروڑ بدعنوانی کی نذر ہو جاتا ہے،  اسی طرح سندھ میں 45فیصد، پنجاب میں 32فیصد اور خیبرپختونخوا میں 21فیصد کرپشن ہوتی ہے۔ حکمرانوں نے مالی ہی نہیں ملک کو اخلاقی اور انتظامی کرپشن کا بھی شکار کیا۔ جاپان نے ایٹم بم کے حملہ اور دو عالمی جنگوں میں تباہی کے باوجود ترقی کی، چینی قوم نشے سے تباہ ہوئی پڑی تھی،لیکن دنیا کے نقشے پر عظیم قوم بن کر ابھری۔ چیلنج سے کہتا ہوں کہ ہمارے حکمران اگر چند سالوں کے لیے چین اور جاپان پر مسلط ہو جائیں تو دونوں ممالک کا بیڑہ غرق کر دیں گے۔ پی ڈی ایم، پیپلزپارٹی اور پی ٹی آئی سڑکوں پر بھی اور ایوانوں میں بھی موجود ہیں، یہ لوگ جلسے اور بیانات دینے کی بجائے یہ بتائیں کہ سالہاسال اقتدار میں رہنے کے بعد عوام کی بہتری کے لیے کیا کارنامہ سرانجام دیا؟ ملک میں 85فیصد عوام پینے کے صاف پانی سے محروم ہے، حکمرانوں نے کتنے لوگوں کے لیے صاف پانی کا انتظام ممکن بنایا، ڈھائی کروڑ بچے سکولوں سے باہر ہیں، حکمران اشرافیہ بتائے کتنے بچوں کو سکول بھیجا؟ تصور کریں کہ جس ملک میں ڈھائی کروڑ بچے سکول نہ جا سکیں، وہ کیسے ترقی کرے گا؟ ہمارا عدالتی نظام تباہ، ایوان ربڑسٹمپ، الیکشن کمیشن بے وقعت ہے۔ پورا ملک کرپشن کے سمندر میں غوطے کھا رہا ہے۔ اس فرسودہ اور کھوکھلے نظام سے نجات حاصل کرنے کے لیے ایمان دار اور اہل قیادت درکار ہے۔ ان خیالات کا اظہار انھوں نے لاہور لیڈز یونیورسٹی میں ”قومی معیشت کو درپیش مسائل اور ان کا حل“ کے موضوع پر سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ پروگرام میں اساتذہ اور طلبہ و طالبات کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

سراج الحق کا کہنا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے کائنات میں کوئی زندہ مخلوق پیدا نہیں کی جس کے لیے رزق کا بندوبست نہ کیا ہو۔ سوال یہ ہے کہ اس کے باوجود ملک میں لاکھوں انسان بھوکے کیوں سوتے ہیں؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ وسائل پر دو فیصد سے کم حکمران اشرافیہ قابض ہے، سودی معیشت کی صورت میں اللہ اور اس کے رسولؐ سے جنگ جاری ہے۔ رات کے اندھیرے میں لوگ بیرون ممالک سے آتے ہیں اور ہمارے وزرائے خزانہ اور وزرائے اعظم بن جاتے ہیں۔ ہر وزیرخزانہ حلف لینے سے پہلے ہی آئی ایم ایف کی چوکھٹ پر سجدہ کے لیے پہنچ جاتا ہے۔ پاکستان میں آج تک آئی ایم ایف سے 22پروگرام لیے، ہر پروگرام کا اختتام ناکامی کی صورت میں نکلا۔ ملک کا ہر شہری دو لاکھ چالیس ہزار کا مقروض ہے۔ حکمرانوں کی پالیسی قرض لو اور ڈنگ ٹپاؤ کے علاوہ اور کچھ نہیں۔

امیر جماعت نے کہا کہ اللہ نے جماعت اسلامی کو اختیار دیا تو ہم سب سے پہلا کام کرپشن پر لاک ڈاؤن کی صورت میں کریں گے۔ کرپشن وہی ختم کر سکتا ہے جو خود دیانت دارہو۔ ہم ملک کے وسائل عوام پر خرچ کریں گے۔ پڑھے لکھے نوجوانوں کو کاشت کاری کے لیے سرکاری زمینیں دی جائیں گی۔ اس وقت ملک میں 31لاکھ انکم ٹیکس دیتے ہیں۔ ہم زکوٰۃ اور عُشر کا نظام نافذ کریں گے تاکہ سوا سات کروڑ لوگ اللہ کے حکم کے مطابق زکوٰۃ اور عشر دیں اور ملک کی ترقی اور خوشحالی میں کردار ادا کریں۔ انھوں نے کہا کہ انھوں نے موجودہ حکمران طبقہ کو بہت قریب سے دیکھا ہے، یہ لوگ دین سے بھی نابلد ہیں اور دنیاوی نظام کو بھی ٹھیک طریقے سے نہیں چلا سکتے۔ ملک پر یہ نااہل لوگ مسلط رہے تو بربادی کے علاوہ اور کچھ حاصل نہیں ہو گا۔ نوجوانوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ ملک کو اسلامی فلاحی ریاست بنانے کے لیے جماعت اسلامی کا ساتھ دیں۔