News Detail Banner

سیاسی بحران اور افراتفری کے بیچ غریب کچلا گیا۔سراج الحق

26دن پہلے

لاہور08 نومبر2022ء

امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہا ہے کہ سیاسی بحران اور افراتفری کے بیچ غریب کچلا گیا۔ اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں ہر آئے روز بے تحاشا اضافہ ہو رہا ہے، وفاقی اور صوبائی حکومتیں بے بس، محض آپس میں دست و گریبان ہیں۔ سردیوں میں گیس کے شدید بحران کا خطرہ، مقامی پیداوار پر توجہ نہیں دی گئی، درآمد کے لیے خزانہ خالی ہے۔ قوم کو بتانا چاہتے ہیں پی ڈی ایم اور پی ٹی آئی کا تماشا غریب کی بہتری کے لیے نہیں، نہ یہ حکمران ملک میں جہالت، مہنگائی، بے روزگاری کے خاتمے کے لیے لڑ رہے ہیں، ان کے پیش نظر کرسی اور اپنی انا کی تسکین ہے۔ حکمران نہیں چاہتے عام پڑھا لکھا نوجوان آگے آئے، استعماری طاقتوں کو موجودہ حکمران جماعتوں میں سے کسی پر اعتراض نہیں نہ وہ ان سے خائف ہیں۔ حکمرانوں کی ناکام پالیسیوں کی وجہ سے معیشت برباد ہو گئی۔ احتساب کے پر کاٹ دیے گئے، پچاس کروڑ روپے تک کی کرپشن پرکھلی چھٹی ہے۔ انصاف کے دروازے غریبوں پر بند، پیسوں کے بغیر کوئی عدالت نہیں جا سکتا۔ جماعت اسلامی کی جدوجہد کسی سیاسی جماعت یا شخصیت کے خلاف نہیں ہم فرسودہ نظام سے چھٹکارا چاہتے ہیں۔ عوام سے اپیل ہے کہ وہ آزمائے ہوئے مہروں کی بجائے اہل اور ایماندار قیادت کو آگے لائیں۔ ملک کے مسائل کا حل اسلامی نظام ہے۔ ان خیالات کا اظہار انھوں نے منصورہ میں مختلف وفود سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

سراج الحق نے کہا کہ معاشی و سیاسی دہشت گردی سے ملک اور ادارے تباہ ہو گئے۔ ثابت ہو گیا ہے کہ پی ڈی ایم اور پی ٹی آئی کے پاس مسائل کا کوئی حل نہیں۔ اگر حکمران جماعتیں سمجھتی ہیں کہ وہ ملک کے مسائل حل کر سکتی ہیں تو اب تک کی کارکردگی بتائیں۔ انھوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی سمیت پی ڈی ایم کی تیرہ جماعتیں مرکز میں برسراقتدار ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ پی پی پندرہ برسوں سے سندھ میں بھی حکومت کر رہی ہے، پی ٹی آئی دس برس سے خیبرپختونخوا اور گزشتہ چند سالوں سے آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں حکومت میں ہے، ن لیگ 1985ء سے اقتدار میں ہے، بلوچستان پر بھی انہی سیاسی جماعتوں کی حکمرانی رہی، قوم کو بتایا جائے کہ ان تینوں جماعتوں نے اب تک ملک اور قوم کے لیے کیا خدمات سرانجام دیں۔ حکمرانوں کی پالیسیوں کا مرکز قرضہ لو اور ڈنگ ٹپاؤ ہے۔ حالیہ سیلاب سے سوا تین کروڑ لوگ متاثر ہوئے، دس لاکھ مکانات اور ہزاروں مویشی پانی میں بہہ گئے، کسان ربیع کی فصلیں کاشت نہیں کر پا رہے کیوں کہ ان کی زمین سے پانی کا نکاس نہیں ہوا۔ تین ماہ گزرنے کے باوجود لوگ خیموں میں بیٹھے ہیں، بچے بھیک مانگ رہے ہیں اور ان پر تعلیم کے دروازے بند ہو گئے، مگر حکمران جماعتوں کی کرسی کے لیے لڑائی جاری ہے۔ سات دہائیوں سے ملک پر مسلط جاگیرداروں، وڈیروں اور ظالم سرمایہ داروں نے نسلوں کا مستقبل برباد کر دیا۔ حکمرانوں نے کشمیر کا سودا کیا، ریمنڈ ڈیوس کو امریکا اور ابھی نندن کو باعزت بھارت بھیجا، دوسری طرف انہی حکمرانوں نے قوم کی بیٹی ڈاکٹر عافیہ کو امریکا کے حوالے کیا۔ 

امیر جماعت نے کہا کہ عوام اور خصوصی طور پر نوجوان جو ملک کی آبادی کا 64فیصد ہیں، کرپٹ نظام اور اس کے محافظوں کے خلاف جماعت اسلامی کے ساتھ مل کر جدوجہد کریں۔انھوں نے کہا کہ ملک دوراہے پر کھڑا ہے، قوم کو اپنی قسمت کا فیصلہ خود کرنا ہے۔ اللہ تعالیٰ باہمت افراد کا ساتھ دیتا ہے جو لوگ عزم اور حوصلے کے ساتھ ظلم کے خلاف آواز بلند کرتے ہیں اللہ کی مدد ان کے ساتھ ہوتی ہے اور جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی مددونصرت ہو اسے کوئی شکست نہیں دے سکتا۔ انھوں نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ ملک کو فرسودہ نظام اور اس کے محافظوں سے پرامن جمہوری جدوجہد کے ساتھ شکست دی جائے۔