News Detail Banner

اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے سیاست سے کنارہ کشی کا اعلان خوش آئند ہےسراج الحق

1ماہ پہلے

لاہور27 اکتوبر2022ء

امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے سیاست سے کنارہ کشی کا اعلان خوش آئند ہے مگر ایک طویل عرصے سے سیاسی معاملات میں مداخلت سے ملک کو جو نقصان ہوا اس کی تلافی کون کرے گا؟اسٹیبلشمنٹ نے گزشتہ ادوار میں سیاسی جماعتوں کو آئین و قانون سے تجاوز کرتے ہوئے سپورٹ فراہم کی جس سے جمہوریت پر عوام کا اعتماد مجروح ہوا، بتایا جائے کہ اس اعتماد کو بحال کرنے کے لیے کیا لائحہ عمل اختیار کرنا ہو گا۔ جماعت اسلامی کا شروع سے موقف ہے کہ ملک میں پہلے سلیکشن اور بعد میں اسے الیکشن کا لبادہ پہنا دیا جاتا ہے۔ ہمیشہ سے کہتے آ رہے ہیں کہ پی ڈی ایم اور پی ٹی آئی کی سیاست اسٹیبلشمنٹ کی مرہون منت ہے جسے آج آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس میں تسلیم کر لیا گیاہے۔ ملک دوراہے پرکھڑا ہے، قوم پریشان، ایٹمی اسلامی پاکستان کا تماشا بنا دیا گیا۔ اسٹیبلشمنٹ کو سیاسی معاملات میں لانے والی پارٹیاں بھی اپنے طرز عمل سے گریز کریں۔  

منصورہ سے جاری بیان میں انھوں نے کہا کہ صحافی ارشد شریف کے قتل کی تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ کا انتظار کرنا چاہیے۔ افسوس ناک اور دل دہلا دینے والے واقعہ کی غیرجانبدارانہ انکوائری ہو اور سچ کو ہفتوں میں نہیں دنوں میں قوم کے سامنے لایا جائے۔ جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ کا حال ماضی کی طرح نہیں ہونا چاہیے۔ ملک میں بے شمار جوڈیشل کمیشن بنے لیکن حقائق سامنے نہیں آئے۔ 

سراج الحق نے کہا کہ ریاست کے بنیادی ستونوں کو دیمک لگ چکا ہے۔ معیشت وینٹی لیٹر پر، عدالتیں عوام کو انصاف دینے میں ناکام اور احتساب کا عمل ختم ہو گیا۔ وہ معاشرہ تباہ ہو جاتا ہے جہاں طاقتور کی کوئی پوچھ گچھ نہ ہو، کمزوروں کو دبا دیا جائے۔ حکمرانوں نے 22کروڑ عوام کو یرغمال بنایا ہوا ہے، ایوانوں میں قابض جاگیردار، وڈیرے اور ظالم سرمایہ دار اپنی ذات اور خاندان کے علاوہ کسی کو خاطر میں نہیں لاتے۔ کڑا احتساب ہو توحکمران جماعتوں کے بیشتر ارکان جیلوں میں ہوں گے۔ نوجوانوں کو منظم اور متحرک کر رہے ہیں تاکہ فرسودہ سسٹم سے جان چھوٹے اور ملک کو قرآن و سنت کا نظام ملے۔ 30اکتوبر کا ”پاکستان زندہ باد یوتھ لیڈرشپ کنونشن“ ہر لحاظ سے عظیم الشان ہو گا۔ ملک بھر کی نوجوان لیڈرشپ مینار پاکستان کے سائے تلے اسلامی انقلاب کی بنیاد رکھیں گے۔ 

انھوں نے کہا کہ موجودہ اور سابقہ حکمران ملک کے تمام مسائل کے ذمہ دار ہیں اور حیران کن بات یہ ہے کہ یہ خود کو ہی عوام کے سامنے مسیحا بنا کر پیش کر رہے ہیں، قوم ان کے دھوکے میں نہ آئے۔ ادارے کبھی اپنا بوجھ ایک پلڑے میں تو کبھی دوسرے پلڑے میں ڈال دیتے ہیں۔ آئین و قانون کی بالادستی قائم کرنا ہو گی، تمام ادارے اپنی حدود میں رہ کر کام کریں گے تبھی ملک آگے بڑھے گا۔ انھوں نے کہا کہ ملک میں قانون سازی غیرملکی ایجنڈوں کے تحت ہوتی ہے، استعماری طاقتیں قوم کی تقدیر کا فیصلہ کرتی ہیں اور ہمارے حکمران ہمیشہ استعمار کی وفاداری کرتے آئے ہیں۔ ملک کی سیاست اور معیشت کے فیصلے امریکا میں ہوتے ہیں جس سے قوم کو لاعلم رکھا جاتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ جماعت اسلامی ملک کو استعمار اور اس کے نمائندوں سے آزاد کرانے کے لیے جدوجہد کر رہی ہے۔ آئین پاکستان ملک کی یکجہتی اور بقا کی ضمانت ہے اس کی بالادستی قائم کرنا ہو گی۔ انھوں نے کہا کہ ایسے حالات پیدا ہو گئے ہیں کہ قوم کا عدالتوں، ایوانوں اور سسٹم پر اعتماد ختم ہو رہا ہے اور جمہوریت تماشا بن گئی۔ طاقتور قانون کا مذاق اڑاتے ہیں، غریب معمولی غلطی پر پھنس جاتے ہیں۔ پاناما لیکس اور پنڈوراپیپرز میں جن افراد کے نام آئے ان کو پوچھا تک نہیں گیا۔ حکمران جماعتیں عوام سے مسلسل جھوٹ بول رہی ہیں، ان آزمائے ہوئے مہروں سے بہتری کی کوئی توقع نہیں۔ مہنگائی اور بے روزگاری کا طوفان تھمنے کا نام نہیں لے رہا، حکمرانوں کو عوام کے مسائل سے کوئی غرض نہیں رہی، ہر طرف افراتفری پھیلی ہوئی ہے۔ قومی خزانہ خالی ہو چکا ہے اور ملک ڈیفالٹ کے قریب پہنچ گیا ہے۔ آنے والے حالات مزید خطرناک دکھائی دے رہے ہیں۔ سیاسی جماعتوں کو ہوش کے ناخن لینا ہوں گے۔ حالات کو اس نہج تک نہ لایا جائے کہ خدانخواستہ کوئی بڑا واقعہ رونما ہو جائے۔