News Detail Banner

حکمرانوں نے سب سے زیادہ دھوکا ملک کے نوجوانوں کو دیا۔سراج الحق

3مہا پہلے

لاہور08 اکتوبر2022ء

امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہا ہے کہ حکمرانوں نے سب سے زیادہ دھوکا ملک کے نوجوانوں کو دیا۔ یوتھ کو روزگار دینے کے وعدے کر کے بے روزگار، مستقبل سے مایوس اور ڈپریشن کا مریض بنا دیاگیا۔ لاکھوں پڑھے لکھے نوجوان نوکریوں کے لیے دردر کی ٹھوکریں کھا رہے اور ہزاروں بیرون ملک جا رہے ہیں۔ نوجوانوں کا اخلاق اور کردار تباہ کرنے کے لیے نت نئے طریقے ایجاد ہو رہے ہیں۔ ایٹمی پاکستان کو عالمی ایجنڈے کے تحت کمزور کرنے کی سازشیں عروج پر،استعمار ملک کی معیشت، معاشرت اور سیاست تباہ کرنے کے درپے ہے۔ موجودہ اور سابقہ حکومتیں ملک کے تمام مسائل میں برابر کی ذمہ دار ہیں۔ جھوٹ، الزام تراشی کی سیاست سے نوجوانوں کے ذہنوں کو پراگندہ کیا جا رہا ہے۔ 65فیصد یوتھ رکھنے والے ملک کو اسلحہ سے نہیں تہذیبی یلغار سے کمزور کرنے کی چالیں مغرب کا ایجنڈا ہے، حکمران ان کے آلہ کار بنے ہوئے ہیں۔ ملک کے نوجوان اسلامی تحریکوں اور پاکستان کے اصل وارث ہیں انھیں عالمی سطح پرمغربی پروپیگنڈے کا مقابلہ کرنے کے لیے اپنے آپ کو تیار کرنا ہو گا۔ معاشرتی اقدار کی حفاظت نوجوانوں کی ذمہ داری ہے۔ عوام نے مختلف حکومتوں کو دیکھ لیا اب اسلامی انقلاب کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں۔ ان خیالات کا اظہار انھوں نے منصورہ میں صوبہ پنجاب کے ذمہ داران اور جے آئی یوتھ کے رہنماؤں کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ سیکرٹری جنرل امیر العظیم، امیر جماعت اسلامی پنجاب وسطی جاوید قصوری، امیر جماعت اسلامی پنجاب شمالی ڈاکٹر طارق سلیم، سیکرٹری اطلاعات قیصر شریف، صدر جے آئی یوتھ پاکستان زبیر گوندل، ضلعی امرا اور جے آئی یوتھ کے صوبائی صدور نے مینارہ پاکستان پر 23اکتوبر کو ہونے والے یوتھ لیڈرزشپ کنونشن کی تیاریوں کے سلسلے میں ہونے والے اجلاس میں شرکت کی۔ ”پاکستان زندہ باد“ کے نام سے ہونے والے ایک روزہ کنونشن میں ملک بھر ہزاروں کی تعداد میں نوجوانوں کی شرکت متوقع ہے۔ اجلاس میں ترکی، ملائشیا، سوڈان سمیت دیگر اسلامی ممالک کی نوجوان لیڈرشپ کو بھی مدعو کیا جائے گا۔ اجلاس میں تنظیمی امور اور آئندہ الیکشن کی تیاریوں میں نوجوانوں کے کردار کے امور بھی زیربحث آئے۔ فیصلہ کیا گیا کہ جماعت اسلامی آنے والے دنوں میں نوجوانوں کو یونین کونسل کی سطح پر منظم کرنے کے لیے جاری مہم میں مزید تیزی لائے گی۔

سراج الحق نے کہا کہ ایف اے ٹی ایف قوانین کے ذریعے ملک کی معیشت کو مکمل طور پر آئی ایم ایف کے کنٹرول میں دے دیا گیا۔ تینوں بڑی جماعتوں نے قومی معیشت کی تباہی کے اس مشن میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ قومی بنک کو پرائیوٹائز کیا گیااور ایسے قوانین تشکیل دیے گئے جن سے ہماری حکومت کا پالیسی سازی میں کردار نہ ہونے کے برابر رہ گیا ہے۔ معاشی نظام کی تباہی کے ساتھ ساتھ حکمرانوں نے قوم کو لڑاؤ، تقسیم کرو کے ایجنڈے کو بھی جاری رکھا۔ قوم کے ساتھ مسلسل جھوٹ بولا جا رہا ہے، تینوں بڑی جماعتوں کی پالیسیاں ایک ہیں، مگر بظاہر ان میں لڑائی جاری ہے۔ وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے سیلاب کے دوران بھی آپسی مفادات کی لڑائیاں جاری رکھیں اور متاثرین کو تنہا چھوڑا۔ انھوں نے کہا کہ قومی معیشت کی زبوں حالی اور سیاسی پولرائزیشن کو بڑھاوا دینے کے بعد اب حکمران جماعتیں مغربی اور سیکولر لابیز کے زیراثر ہماری سماجی اقدار کی تباہی میں الہ کار بنی ہوئی ہیں۔ گھریلو تشدد کا قانون اور ٹرانس جینڈر ایکٹ انہی سازشوں کا حصہ ہیں۔ حال ہی میں آئین کے آرٹیکل 62ون ایف میں بھی تبدیلی کی باتیں شروع ہو گئی ہیں۔ نوجوانوں کی ذمہ داری ہے کہ سازشوں کو سمجھیں اور ان کا مقابلہ کرنے کے لیے اپنے آپ کو تیار کریں۔

امیر جماعت نے کہا کہ جماعت اسلامی ملک بھر کے نوجوانوں کو منظم کرنے کے لیے کوششیں کر رہی ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ عام طبقہ سے تعلق رکھنے والے نوجوان اسمبلیوں میں جائیں اور جاگیرداروں اور وڈیروں کی اجارہ داری ختم ہو۔ یوتھ قوم کو بیدار کرنے کے لیے کردار ادا کرے اور جماعت اسلامی کا حصہ بنیں۔ انھوں نے کہا کہ نوجوان ملک میں اسلامی نظام کے قیام کے لیے جدوجہد میں تیزی لائیں۔