News Detail Banner

پی ٹی آئی اور پی ڈی ایم کی لڑائی کی وجہ سے عام آدمی شدید مشکلات سے دوچار ہے۔ سراج الحق

21دن پہلے

امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی اور پی ڈی ایم کی لڑائی کی وجہ سے عام آدمی شدید مشکلات سے دوچار ہے۔ تینوں بڑی جماعتوں کا منشور دراصل آئی ایم ایف کا ہر حکم قبول کرنا اور دل و جان سے اس پر عمل درآمد کرنا ہے۔ حکمران جماعتیں سودی نظام کی محافظ ہیں۔ سودی نظام انسانیت کا قاتل اور خودکش نظام ہے۔ حکومت فوری طور پر اللہ سے جنگ بند کر کے استغفار کرتے ہوئے سودی نظام کے خاتمے کی جانب پہلا قدم اٹھائے۔ ملک میں آفتیں اور مصیبتیں اللہ تعالیٰ کے نظام سے دوری کی وجہ سے ہیں۔ سیلاب بہت بڑی آزمائش پوری قوم کو اللہ کی طرف رجوع کرنا ہو گا۔ وفاقی و صوبائی حکومتوں کا اب تک سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں بحالی کے لیے عملی قدم نہ اٹھانا لمحہ فکریہ ہے۔ حکمران فوٹو سیشن اور ہوائی جائزوں کی بجائے متاثرین کی امداد کے لیے سنجیدگی سے آگے بڑھیں۔ جماعت اسلامی ایک پروگریسو، جمہوریت پسند اور ترقی پسند جماعت ہے جو حقیقی معنوں میں ملک کو مسائل سے نکالنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ سیلاب سے متاثرہ آخری فرد کی بحالی تک امداد سرگرمیاں جاری رکھیں گے۔ ان خیالات کا اظہار انھوں نے منصورہ میں مرکزی نظم کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں ملک بھر میں ہونے والے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں ریلیف کے کاموں کا جائزہ لیا گیا۔ صدر الخدمت فاؤنڈیشن پاکستان محمد عبدالشکور نے امدادی کاموں کے حوالے سے تفصیلی رپورٹ پیش کی۔ امیر جماعت اور مرکزی ذمہ داران نے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہوئے جماعت اسلامی اور الخدمت فاؤنڈیشن کے رضاکاروں کو خراج تحسین پیش کیا اور الخدمت فاؤنڈیشن کے امدادی کاموں کی تحسین کی۔

سراج الحق نے کہا کہ پی ٹی آئی نے جس مہنگائی کے سونامی کی ابتدا کی، اتحادی حکومت نے اسے عروج پر پہنچا دیا ہے۔ عام آدمی کی ماہانہ آدھی آمدنی بجلی کے بھاری بلوں کی ادائیگی میں صرف ہو جاتی ہے۔  آئی پی پیز سے مہنگی بجلی خریدنے کے معاہدے کیے گئے۔ مختلف حکومتوں نے ہائیڈل، سولر اور ونڈ کے ذریعے سستی بجلی پیدا کرنے پر توجہ نہ دی۔ بجلی چوری ہوتی ہے اور حکومت کے اپنے اعدادوشمار کے مطابق اس وقت ڈسٹری بیوشن کمپنیوں میں 15سے 20فیصد لائن لاسز ہیں۔ بجلی کے نظام میں گھاٹوں کو پورا کرنے کے لیے حکومت نے تاوان وصول کرنے کی ابتدا کی اور اس وقت جی ایس ٹی، سیلز ٹیکس، انکم ٹیکس، فیول ایڈجسٹمنٹ ٹیکس اور نجانے کن کن ناموں کے ذریعے غریبوں سے اربوں روپے اکٹھے کیے جا رہے ہیں۔حکومت کی طرف سے بجلی کے بلوں میں ظالمانہ ٹیکسز کی وجہ سے عوام دیگر بنیادی ضروریات پوری کرنے سے قاصر ہو گئے ہیں۔ پٹرولیم منصوعات، سی این جی کی قیمتیں بھی آسمانوں سے باتیں کر رہی ہیں۔ اتحادی جماعتوں کی حکومت آئی ایم ایف کی خوشنودی کے لیے عوام پر ظلم کی تمام حدیں پار کر چکی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ وہ ملک جہاں آٹھ کروڑ سے زائد لوگ خطِ غربت سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں، عوام حکمرانوں کی عیاشیوں اور اللے تللوں کی مد میں ہر سال اربوں روپے نقصان کیوں برداشت کرے۔ انھوں نے کہا کہ استعماری طاقتوں اور ان کے وفاداروں نے دنیا کے واحد اسلامی ایٹمی طاقت کو سازشوں کی آماجگاہ بنایا ہوا ہے۔ حکمرانوں نے ایجنڈے کے تحت ملک کو آئی ایم ایف کی غلامی میں دھکیلا۔ بالواسطہ ٹیکسوں کے ذریعے مہنگائی کا سارا بوجھ عوام پر ڈالنے کی بجائے طاقتور اشرافیہ، سول و ملٹری بیوروکریسی، وزرا، ارکان پارلیمنٹ، ججز اور دیگربڑے عہدوں پر فائز افراد کی مراعات ختم کی جائیں۔

امیر جماعت نے کہا کہ گلگت بلتستان میں آزاد جموں و کشمیر حکومت کی طرف سے مقبوضہ کشمیر کے دو شہریوں کی گرفتاری کی مذمت کی ہے۔ انھوں نے مطالبہ کیا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کے گرفتار دو کشمیری شہریوں کو بھارت کے حوالے نہ کیا جائے کیوں کہ اب وہاں ان کی جان کو خطرہ ہے۔ یہ افراد پاکستان کی محبت میں بارڈر کراس کر کے آئے ہیں۔ جماعت اسلامی ایل او سی کی لکیر کو ختم کرنا چاہتی ہے، کشمیر پاکستان کا حصہ ہے۔  اس سے پہلے بھی کئی افراد مقبوضہ کشمیر سے اپنے ملک پاکستان آ چکے ہیں۔