News Detail Banner

حکمران جماعتیں سیاسی، معاشی، سماجی بحران کی ذمہ دار، ملک کو تباہ کرنے والے قوم کا مذاق بھی اڑاتے ہیں سراج الحق

4مہا پہلے

لاہور19 جولائی2022ء

امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہا ہے کہ حکمران جماعتیں سیاسی، معاشی، سماجی بحران کی ذمہ دار، ملک کو تباہ کرنے والے قوم کا مذاق بھی اڑاتے ہیں۔ ٹیکس دینے والا فٹ پاتھ پر سوتا ہے اور ٹیکس چور بادشاہوں کی سی زندگیاں گزار رہے ہیں۔ پی ڈی ایم اور پی ٹی آئی والے بتائیں کہ سالہاسال حکومتوں میں رہنے کے باوجود عوامی فلاح و بہبود کے لیے کیا کام کیا؟ مراعات یافتہ طبقہ قومی خزانے سے آج بھی 2600ارب کی سبسڈی لیتا ہے جب کہ عوام مہنگائی سے تنگ خودکشیاں کر رہے ہیں۔ پی ڈی ایم، پیپلزپارٹی اور پی ٹی آئی کا آپس میں جھوٹ کا مقابلہ ہے، دیکھتے ہیں کون کامیاب ہوتا ہے۔ ہمیں فیصلہ کرنا ہو گا کہ عالمی ڈکٹیشن پر چلنا ہے یا خود کچھ کرنا ہے۔ معیشت وینٹی لیٹر پر ہے، سقوط ہو چکا، شاہ خرچیاں زیادہ اور آمدن نہ ہونے کے برابر ہے۔ 22دفعہ آئی ایم ایف سے قرضے لے چکے، علاج کرنے کوششیں کرنے والوں نے مرض کو مزید بڑھایا۔ اقتصادی اور سماجی بحرانوں کی ذمہ دار حکومتیں ہیں، بے روزگاری، مہنگائی، لوڈشیڈنگ کے مسائل انہی حکمرانوں نے پیدا کیے۔ حکمران طاقت کے نشے میں دھت، پی ڈی ایم اجلاس کر رہی ہے کہ حکومت کیسے بچانی جب کہ پی ٹی آئی نے میٹنگز بلائی ہیں کہ حکومت کیسے حاصل کرنی ہے۔ جماعت اسلامی نے ماہرین معیشت وقانون، دانشور طبقات اور علما کو اس لیے اکٹھا کیا ہے کہ ملک کیسے بچانا ہے۔ دو دفعہ خیبرپختونخوا کا وزیرخزانہ رہا، تجربہ کی بنیاد پر کہتا ہوں کہ سود کے بغیر بھی ملک چل سکتا ہے۔ مسائل کا حل سرمایہ دارانہ معیشت میں نہیں اسلامی معیشت اپنانے میں ہے۔ آئیے مشترکہ مقاصد کے حصول کے لیے مل کر جدوجہد کا آغاز کریں۔ان خیالات کا اظہار انھوں نے لاہور کے مقامی ہوٹل میں معیشت پر ”قومی مشاورت“ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ نائب امیر جماعت اسلامی ڈاکٹر فرید احمد پراچہ نے مہمانوں کا تعارف کروایا اور میزبانی کے فرائض انجام دیے جب کہ سیکرٹری جنرل امیر العظیم نے افتتاحی خطاب میں شرکا کو خوش آمدید کہا اور اس عہد کا اعادہ کیا کہ جماعت اسلامی ملک کو درپیش مسائل کے حل کے لیے ہر سطح پر مکالمہ اور پرامن احتجاج کے ذریعے جدوجہد جاری رکھے گی۔ جماعت اسلامی کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل اظہر اقبال حسن،ڈپٹی سیکرٹری جنرل وقاص انجم جعفری، سیکرٹری اطلاعات قیصر شریف،لاہور کے امیر ذکراللہ مجاہد اور شیخ الحدیث مولانا عبدالمالک نے بھی قومی مشاورت میں شرکت کی۔ اہم مقررین میں اخوت تنظیم کے چیئرمین ڈاکٹر امجد ثاقب، سینئر صحافی مجیب الرحمن شامی، سینئر کالم نگار حفیظ اللہ نیازی، ڈاکٹر حسین احمد پراچہ، تنظیم اسلامی کے رہنما ڈاکٹر عاطف وحید، جمعیت اہل حدیث کے سربراہ حافظ ابتسام الٰہی ظہیر، جامعہ عروۃ الوثقیٰ کے پرنسپل سید جواد علی نقوی، تاجر رہنما نعیم میر، سید ہارون گیلانی، سابق فنانس سیکرٹری ڈاکٹر شجاعت علی، جسٹس (ر) عبدالحفیظ چیمہ، سیکرٹری لاہور پریس کلب عبدالمجید ساجد اور دیگر طبقہ ہائے فکر سے تعلق رکھنے والی نمایاں شخصیات نے شرکت کی۔ اس موقع پر ملک کو درپیش معاشی مسائل کے حل کے لیے مشترکہ اعلامیہ بھی جاری کیا گیا۔

سراج الحق نے کہا کہ مقررین کی باتوں سے انھیں اندازہ ہوا کہ ہم سب ملک کے بارے میں حقیقی درد رکھتے ہیں۔ ہمیں جس چیز کی سب سے زیادہ ضرورت ہے وہ باہمی اتفاق و اتحاد ہے۔ ہمیں خرابیوں کی نشاندہی اور ان کا حل تلاش کرنا اور مشترکہ مقاصد کے حصول کے لیے مل کر جدوجہد کا آغاز کرنا ہو گا۔ انھوں نے کہا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ اسلامی نظام کے نفاذ، کرپشن اور وی آئی پی کلچر کے خاتمہ اور سودی نظام سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لیے ہمیں ہم آواز ہو کر آگے بڑھنا چاہیے۔ انھوں نے کہا کہ 75برسوں میں ہم نے مختلف نظاموں کو دیکھ لیا، اب قرآن و سنت کے نظام کو موقع ملنا چاہیے۔ اس وقت حالت یہ ہے کہ آٹھ کروڑ سے زائد افراد خطِ غربت سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ دوفیصد اشرافیہ وسائل پر قابض ہے۔ ملک کا نظام مصنوعی آکسیجن سے چل رہا ہے اور ان حالات میں ملک کی بڑی سیاسی جماعتیں آپس میں مفادات کے لیے دست و گریبان ہیں۔ انھوں نے کہا کہ بلاشبہ معاشی استحکام کے لیے سیاسی استحکام ضروری ہے، مگر ایسا دکھائی دیتا ہے کہ موجودہ سیاست دان اس کے لیے تیار نہیں۔ ایکڑوں پر محیط محلات میں رہنے والی اشرافیہ، بیوروکریسی کو عوامی مسائل سے کوئی غرض نہیں۔ کرپشن عام ہے، جو لوگ نیب زدہ ہیں وہ حکومت میں ہیں۔ انھوں نے کہا کہ حکومت تمام خرابیوں کی جڑ ہے اور ہم جڑ کو ٹھیک کرنے کی بجائے شاخوں اور پتوں میں الجھے ہوئے ہیں۔ اس ملک کو ایمان دار اور اہل قیادت چاہیے اور وہ جماعت اسلامی کی صورت میں موجود ہے۔ قوم سے اپیل ہے کہ وہ مسائل کے خاتمہ کے لیے ہمارا ساتھ دے۔