News Detail Banner

مہنگائی کی وجہ سے لوگوں کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا۔ 18،18گھنٹے لوڈشیڈنگ جاری سراج الحق

5مہا پہلے

لاہور04 جولائی2022ء

امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہا ہے کہ مہنگائی کی وجہ سے لوگوں کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا۔ 18،18گھنٹے لوڈشیڈنگ جاری، حکومت کی نالائقی اور نااہلی کی سزا پوری قوم بھگت رہی ہے۔ وزیراعظم نے قوم کو تین ماہ میں لوڈشیڈنگ ختم کرنے کی تین تاریخیں دیں، ہر بار ڈیڈ لائن گزرنے پر نئی تاریخ دے دی جاتی ہے۔ حکمرانوں کے گھوڑے ائیرکنڈیشن کمروں میں اور غریبوں کے بچے گرمی میں تڑپ رہے ہیں۔ قوم کے ساتھ مذاق اور ظلم بند کیا جائے۔ طویل المیعاد منصوبوں کے دعوے، لیکن پورا نظام ایڈہاک ازم پر چلتا ہے۔ موجودہ اور سابقہ حکمرانوں نے ابھی تک اپنی ذات سے آگے دیکھنا شروع نہیں کیا۔ بجلی کی تاروں میں کرنٹ، نہروں میں پانی، ہسپتالوں میں دوائی نہیں اور حکمرانوں میں سچائی نہیں۔ ظالم اشرافیہ اللہ سے توبہ کریں، اگر ظلم جاری رہا تو انھیں اپنے اعمالوں کی سزا بھگتنا ہو گی۔ مسائل کا حل اسلامی نظام کے نفاذ میں ہے۔ قوم جاگیرداروں، وڈیروں اور کرپٹ سرمایہ داروں کو مسترد کر کے جماعت اسلامی کا ساتھ دے۔ ان خیالات کا اظہار انھوں نے منصورہ میں عوامی وفود سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

امیر جماعت نے سندھ کے بعد پنجاب میں لمپی سکن وائرس کی وجہ سے کسانوں کے مویشیوں کی ہلاکتوں پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومتی اداروں کی نالائقی کی وجہ سے اب تک ہزاروں جانور ہلاک اور لاکھوں تکلیف میں مبتلا ہیں۔ ذمہ دار محکمے کہیں دکھائی نہیں دیتے،غریب کسان رُل گئے ہیں۔ جن لوگوں کے پاس دو تین جانور ہیں اور گزر بسر انہی کو پالنے، دودھ اور گوشت بیچنے میں ہوتا ہے، ان کے پاس روزی کمانے کا وسیلہ مستقل طور پر ختم ہو چکا ہے۔حکومت نے تاحال غریب کسانوں کو ریلیف دینے کا کوئی بندوبست نہیں کیا۔ عیدالاضحی کے قریب بیماری کی وجہ سے جانوروں کا کوئی خریدار نہیں، بیوپاری، مالکان اور خریدار تینوں پریشان ہیں۔ انھوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت جانوروں کے لیے ایمرجنسی ڈکلیئر کرے اور جن کسانوں کے جانور مرے ہیں انھیں معاوضہ دے۔ ایمرجنسی بنیادوں پر مویشیوں کی ویکسی نیشن کی جائے۔ لائیوسٹاک عملہ کی دیہاتوں میں موجودگی یقینی بنائی جائے اور اسی طرح مویشی منڈیوں میں بیمار جانوروں کی آمد کو روکنے، ان کے علاج اور خریداروں کے لیے ہر قسم کی گائیڈ لائنز اور سرکاری عملے کی دستیابی ممکن بنائی جائے۔

سراج الحق نے کہا کہ سودی نظام کی وجہ سے معیشت کا بیڑہ غرق ہو چکا، قرضوں پر قرضے لیے جا رہے ہیں۔ انھوں نے سوال کیا کہ کب تک سودی قرضوں سے ملک چل سکے گا۔ حکومت وفاقی شرعی عدالت کے فیصلہ پر عمل درآمد کرے۔جماعت اسلامی سودی معیشت کے خلاف بھرپور احتجاج جاری رکھے گی۔ قوم اس کرپٹ نظام سے چھٹکارا چاہتی ہے۔ سود اللہ اور اس کے رسولؐ سے جنگ ہے اور اس جنگ کے ہوتے ہوئے ایک اسلامی ملک میں ترقی و خوشحالی ممکن نہیں ہے۔ انھوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے جماعت اسلامی کو موقع دیا تو ہم سود سے پاک معاشی نظام متعارف کرائیں گے۔ اقتصادیات سمیت تمام شعبہ ہائے زندگی میں قرآن و سنت کا نظام رائج کیا جائے گا۔ انھوں نے کہا کہ اس وقت سبھی جماعتیں اقتدار میں ہیں، صرف جماعت اسلامی حقیقی اپوزیشن کا کردار ادا کر رہی ہے۔ ہم ملک کو اسلامی فلاحی ریاست بنانے اور عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے چوکوں چوراہوں اور ایوانوں میں بھرپور آواز بلند کرتے رہے گے۔ انھوں نے کہا کہ انھیں یقین ہے کہ جماعت اسلامی کے کارکنوں کی محنت سے یہ خطہ اسلام کا گہوارہ بنے گا۔