News Detail Banner

امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے سودی بجٹ اور مہنگائی کو مسترد کرتے ہوئے حکومت کے عوام دشمن ظالمانہ اقدامات کے خلاف ٹرین مارچ کا اعلان کر دیا۔

5مہا پہلے

امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے سودی بجٹ اور مہنگائی کو مسترد کرتے ہوئے حکومت کے عوام دشمن ظالمانہ اقدامات کے خلاف ٹرین مارچ کا اعلان کر دیا۔

مال روڈ پر عوامی مارچ سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے حکمرانوں کو خبردار کیا کہ وہ کرپشن ختم، مہنگائی کم اور وفاقی شرعی عدالت کے فیصلہ کی پابندی کرتے ہوئے سودی معیشت کا خاتمہ کریں یاگھر جانے کے لیے تیار ہو جائیں۔انھوں نے کہا کہ جماعت اسلامی 26اور 27جون کو عظیم الشان ٹرین مارچ کا انعقاد کرے گی اور عوام کا جم غفیر اسلام آباد جائے گا۔ حکمران اشرافیہ قوم کے ساتھ 73برسوں سے ظلم کر رہی ہے۔ پاکستان 22کروڑ عوام کا ہے، مگر امریکی بابو اور ان کے وفادار آئی ایم ایف کے دفاتر میں بیٹھ کر ہمارے فیصلے کرتے ہیں۔ مسلم لیگ (ن)، پیپلزپارٹی اور پی ٹی آئی سٹیٹس کو کی محافظ ہیں، اب قوم کو فیصلہ کرنا ہو گا کہ وہ اور ان کے بچے انہی جاگیرداروں اور وڈیروں کے غلام رہیں گے یا انھیں فرسودہ نظام سے چھٹکارا چاہیے۔ ملک کے تمام مسائل کا حل اسلامی نظام کے نفاذ اور سودی معیشت سے جان چھڑانے میں ہے۔ جماعت اسلامی کی جدوجہد کا مقصد ملک میں پرامن، جمہوری اسلامی انقلاب برپا کرنا، قوم اب ہمارا ساتھ دے۔ جماعت اسلامی کو موقع ملا تو ہم سکوک اور اجارہ کا نظام متعارف کرائیں گے اور معیشت کی زکوٰۃ، صدقات اور عُشر کے ذریعے تعمیر ہو گی۔

عوامی مارچ میں تمام طبقہ ہائے فکر سے تعلق رکھنے والے افراد کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ قومی و جماعت اسلامی کے پرچم اٹھائے شرکا نے بجٹ مخالف اور بھارت میں حضور پاکؐ کی شان میں گستاخی کے واقعہ کے خلاف شدید نعرہ بازی کی۔ مارچ کے شرکا میں خواتین اور بچے بھی کثیر تعداد میں شامل تھے۔ اہم مقررین اور سٹیج پر موجود قائدین میں سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی امیر العظیم، امیر جماعت اسلامی پنجاب وسطی جاویدقصوری، سیکرٹری اطلاعات قیصر شریف، امیر جماعت اسلامی لاہور ذکر اللہ مجاہد، مولانا ابتسام الٰہی ظہیر، علامہ زبیر احمد ظہیر اور علامہ کاظم رضا شامل تھے۔

امیر جماعت نے واضح کیا کہ لاہور میں عوامی مارچ سے جماعت اسلامی نے غریب مکاؤ بجٹ کے خلاف بھرپور احتجاجی تحریک کا آغاز کر دیاہے۔ ظالمانہ اور سودی بجٹ نے پورے ملک میں ماتم برپا کیا ہے۔ ہر شہری خوف زدہ ہے اور بجٹ کو حکمرانوں کی جانب سے عوام پر ڈرون حملہ قرار دے رہا ہے۔ ساڑھے 9ہزار ارب کا بجٹ آئی ایم ایف کی ڈکٹیشن پر تیار کیا گیا جس میں سے آدھی رقم سودی قرضوں کی واپسی میں جائے گی۔ انھوں نے کہا کہ پی ڈی ایم اور پی پی کی اتحادی حکومت نے وعدہ کیا تھا کہ وہ پی ٹی آئی حکومت کو گھر بھیج کر عوام کو ریلیف دے گی، موجودہ حکمرانوں سے پوچھتا ہوں وعدے کا کیا بنا اور ریلیف کہاں گیا؟ ریلیف یہ ہے کہ حکمرانوں نے ایک ہفتہ میں پٹرول کی قیمت میں 60روپے فی لٹر اضافہ کر دیا،، بجلی کی فی یونٹ قیمت بڑھا دی اور گیس کے ٹیرف کو آسمانوں پر پہنچا دیا۔ عام شہری کے لیے موجودہ ہوش ربا مہنگائی کے ماحول میں سانس لینا تک دشوار ہو گیا ہے۔ قوم کو پہلے ہی بتا دیا تھا کہ پی ٹی آئی کے جانے کے بعد بھی جو جماعتیں اقتدار میں آئیں گی، عوام پر ظلم جاری رکھیں گی، اب حالات سب کے سامنے ہیں۔ مسائل کا حل اللہ کے نظام اور ان جاگیرداروں اور وڈیروں سے چھٹکارے میں ہے۔

ہندوستان میں حضور پاکؐ کی شان میں گستاخی کے واقعہ پر بات کرتے ہوئے امیر جماعت نے حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا کہ اسلام آباد سے بھارتی سفیر کو واپس بھیجے اور نئی دہلی سے پاکستانی سفیر کو واپس بلایا جائے۔ پاکستان کا ہر شہری ہندوستان سے کسی قسم کے تعلقات نہیں چاہتا۔ بھارت میں بی جے پی کی حکومت مسلمانوں پر ظلم کے پہاڑ توڑ رہی ہے۔مسلمان بیٹیوں کے سروں سے حجاب اتارے جا رہے ہیں، مساجد کی بے حرمتی ہو رہی، مگر ہمارے حکمران بے حس اور بزدل ثابت ہوئے۔ پاکستان کا بچہ بچہ حرمت رسولؐ پر جان دینے کے لیے تیار ہے۔ انھوں نے عالم اسلام کے حکمرانوں سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ امت کے جذبات کی ترجمانی کریں اور بزدلی نہ دکھائیں۔ انھوں نے کہا کہ ناموس رسالتؐ کے تحفظ کے لیے جماعت اسلامی تحریک جاری رکھے گی۔