News Detail Banner

پرامن احتجاج ہمارا حق ، روکا گیا تو پورا لاہور بند کردیں گے، حافظ نعیم الرحمن

3گھنٹے پہلے

پرامن احتجاج ہمارا حق ، روکا گیا تو پورا لاہور بند کردیں گے، حافظ نعیم الرحمن

ابھی وقت ہے حکمران عوام کے مطالبات مان لیں، پٹرول سستا کرو، آئی پی پیز کو لگام دو

امیر جماعت اسلامی پاکستان نے لاہور دھرنا کے آٹھویں روز فیصل آباد، راولپنڈی، سوات ، ہزارہ جلسوں کا اعلان کردیا

امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے حکومت کو دوٹوک انتباہ دیا ہے کہ پٹرولیم لیوی کا بھتہ ختم، پٹرول سستا اور آئی پی پیز کو لگام نہ دی گئی تو احتجاج کا دائرہ مزید وسیع کیا جائے گا، لاہور بند کرنے سے لے کر اسلام آباد تک پیدل مارچ کا راستہ اختیار کیا جائے گا۔ ابھی وقت ہے حکمران عوام کے مطالبات مان لیں، ورنہ اس وقت سے ڈریں جب عوام کا سمندر اسلام آباد کی طرف رواں ہوگا۔
وزیراعلیٰ ہاؤس کے باہر دھرنے کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمن نے آئندہ احتجاجی پروگرام کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ 28 اگست کو فیصل آباد اور 30 اگست کو راولپنڈی میں بڑے جلسے کیے جائیں گے، جبکہ 4 ستمبر کو سوات اور 11 ستمبر کو ہزارہ میں جلسہ عام ہوگا۔ لاہور، کراچی اور پشاور کے دھرنے بھی جاری رہیں گے۔ 13 ربیع الاول کو ملک گیر شٹر ڈاؤن ہڑتال کا اعلان کیا جائے گا، جس کے بعد اسلام آباد کی طرف پیدل مارچ کیا جائے گا۔ ہم گراس روٹ لیول کے کارکن ہیں، اسلام آباد پہنچ کر دکھائیں گے۔ حکمران اس وقت سے ڈریں جب عوام کا سمندر اسلام آباد پہنچے گا۔
قائم مقام سیکرٹری جنرل نذیر احمد جنجوعہ اور قائم مقام سیکرٹری جنرل حلقہ خواتین ثمینہ سعید ، امیر لاہور ضیاالدین انصاری ، اظہر بلال اور دیگر راہنماؤں نے خطاب کیا۔ نائب امیر لیاقت بلوچ ، ڈپٹی سیکریٹریز اظہر اقبال حسن، رُسل خان بابر اور سیکریٹری اطلاعات شکیل احمد ترابی بھی اس موقع پر موجود تھے
آئی پی پیز اور مہنگائی کے خلاف دھرنوں کے آٹھویں روز سخت گرمی اور حبس کے باوجود ہزاروں کی تعداد میں عوام شریک تھے۔ اسلام آباد میں بھی اتوار کو دھرنا کا آغاز ہوگیا ، شرکاء نے امیر جماعت اسلامی کا خطاب بڑی سکرین پر براہ راست سنا اور حکمرانوں کی عوام دشمن پالیسیوں کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔
حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ آج کے دھرنے کا پنڈال صرف لاہوریوں نے بھر دیا ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ جماعت اسلامی کا لاہور میں ’ریوائیول (Revival) ہوچکا ہے۔ دیگر اضلاع کے ساتھ لاہور سے بھی عوام کی شرکت اب روزانہ کی بنیاد پر ہوگی اور دھرنے کے ذریعے حکمرانوں کو پیچھے دھکیلا جائے گا۔ انہوں نے کسان بورڈ، پاکستان اسلامک میڈیکل ایسوسی ایشن (پیما)، وکلا اور تمام شعبہ ہائے زندگی کی تنظیموں سے دھرنے میں شرکت کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ جماعت اسلامی کا نیٹ ورک نچلی سطح تک موجود ہے اور پاکستان کو ایسی منظم سیاسی قوت کی ضرورت ہے۔
حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ عوام خاندانوں اور شخصیات کی سیاست سے بیزار ہوچکے ہیں۔ ظالم ٹولہ اقتدار میں آتا ہے اور عوام کو بھول جاتا ہے، حتیٰ کہ یہ سیاستدان اپنی ہی پارٹی کے لوگوں سے خوفزدہ ہوجاتے ہیں۔ انہوں نے قوم سے اپیل کی کہ مایوس ہوکر گھروں میں بیٹھنے کے بجائے جماعت اسلامی کا ساتھ دیں، جو عوام کا ہاتھ تھامے گی اور انہیں عزت دے گی۔
دھرنے پر تنقید کرنے والوں کو جواب دیتے ہوئے حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ پرامن احتجاج کے باعث راستے بند ہیں، لیکن حکمرانوں نے دراصل عوام کی زندگی کی تمام شاہراہیں بند کر رکھی ہیں۔ حکمرانوں نے معیشت، تعلیم، صحت، ترقی اور نوجوانوں کے مستقبل کا راستہ روک رکھا ہے جبکہ جمہوری رائے کے اظہار پر بھی پابندیاں عائد کی جاتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی اپنا آئینی اور جمہوری حق استعمال کررہی ہے اور مکمل طور پر پرامن ہے۔ ’’حکومت نے اگر اپنا شوق پورا کرنا ہے تو کرکے دیکھ لے، لیکن شوق پورا کرنے کی طرف مت آنا، ورنہ پورا لاہور بند کردیں گے۔
حافظ نعیم الرحمن نے کہا حکمرانوں نے اگر بات کرنی ہے تو دھرنا میں آکر بتائیں کہ پٹرولیم لیوی کا بھتہ کیسے ختم کرنا ہے، آئی پی پیز اور چینی مافیا کو لگام کیسے ڈالنی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ شوگر مافیا کسانوں کو فصل کی پوری قیمت نہیں دیتا، قلت کا بہانہ بنا کر چینی مہنگی کرتا ہے، پھر درآمد کے نام پر عوام کو لوٹا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے 6 لاکھ 65 ہزار ٹن چینی درآمد کی، اس پر ٹیکس بھی ادا نہیں کیا گیا، لیکن چینی سستی ہونے کے بجائے مزید مہنگی ہوگئی۔ اب حکومت کہتی ہے کہ چینی زائد ہوگئی ہے، اس لیے برآمد کرنا پڑے گی۔ پہلے چینی درآمد کی، پھر برآمد کرکے عوام کو لوٹا گیا۔
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ 11 کمپنیاں حکومت کے ساتھ مل کر عوام کو لوٹ رہی ہیں۔ ان کے بقول گندم مافیا، شوگر مافیا اور آئی پی پیز مافیا مختلف سیاسی جماعتوں میں موجود ہیں، اسی لیے حکمران ان کے خلاف کارروائی نہیں کریں گے اور ان مافیاز کے خلاف جدوجہد جماعت اسلامی کو کرنا ہوگی۔
پٹرولیم لیوی پر حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف بتائیں کہ جس مقصد کے لیے پٹرولیم لیوی عائد کی گئی تھی، اس مد میں حکومت اب تک 8 ہزار ارب روپے سے زائد وصول کرچکی ہے۔ جن لوگوں پر براہ راست ٹیکس لاگو نہیں ہوتا، ان سے بھی لیوی وصول کی جارہی ہے جبکہ رواں سال حکومت نے آئی ایم ایف اور اپنے مقررہ ہدف سے بھی زیادہ لیوی جمع کرلی ہے۔انہوں نے ڈیزل کی قیمت میں 32 روپے کمی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس میں بھی دو نمبری کی گئی۔ مقامی اور درآمدی تیل کی قیمتیں یکساں رکھ کر عوام کو اضافی بوجھ برداشت کرنے پر مجبور کیا گیا جبکہ اس کا فائدہ چند لوگوں کو پہنچ رہا ہے۔
حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ پٹرولیم لیوی کا بھتہ کسی صورت قبول نہیں کیا جائے گا۔ حکومت ایک طرف کہتی تھی کہ آئی پی پیز سے بات نہیں ہوسکتی، لیکن اب خود دعویٰ کررہی ہے کہ آئی پی پیز سے مذاکرات کے نتیجے میں قومی خزانے کو 4,300 ارب روپے کا فائدہ ہوا۔ اگر فائدہ ہوا ہے تو پھر حکومت لیوی کے نام پر لوٹ مار کیوں کررہی ہے؟ انہوں نے حکومتی اخراجات پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ سرکاری اخراجات ایک ہزار ارب روپے سے تجاوز کرچکے ہیں۔ حکمرانوں اور افسران کو بڑی گاڑیاں چھوڑ کر 1300 سی سی گاڑیوں پر آنا چاہیے۔ 1300 سی سی کی گاڑی پر سفر کرو گے تو کیا مر جاؤ گے؟انہوں نے حکمرانوں سے اپنے اخراجات کم کرنے، مفت بجلی اور مفت پٹرول کی سہولتیں ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔
آئی پی پیز کے حوالے سے حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ بجلی پیدا نہ ہونے کے باوجود عوام سے اس کی قیمت وصول کی جارہی ہے۔ ان کے مطابق آئی پی پیز مافیا ’’کیپسٹی پیمنٹ‘‘ کے نام پر عوام کو لوٹ رہا ہے اور اس کے ساتھ انکم ٹیکس سے بھی بچتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صرف بجلی گھروں ہی نہیں بلکہ ری گیسیفکیشن پلانٹس ( Re-Gasification Plants) اور مٹیاری سے لاہور تک ٹرانسمیشن لائن (Transmission Line) کی بھی کیپسٹی پیمنٹ وصول کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکمرانوں کی نااہلی، کرپشن اور مراعات کا بوجھ عوام اٹھا رہے ہیں۔ مسئلہ صرف سیاسی جماعتوں کا نہیں بلکہ پورے نظام کا ہے اور اب اس نظام کو جڑ سے اکھاڑنا ہوگا۔ اقتدار میں بیٹھے لوگ عوام کا حق مارتے اور ظلم کرتے ہیں، ہم عوام کی طاقت سے ان کے خلاف جدوجہد جاری رکھیں گے۔
جماعت اسلامی کے سیاسی کردار پر بات کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ ان کی جماعت دیگر سیاسی جماعتوں سے مختلف ہے، انتخابات پر یقین رکھتی ہے اور کسی کے لیے انتخابی میدان خالی نہیں چھوڑے گی۔ جماعت اسلامی عوام کو متناسب نمائندگی کا نظام سمجھائے گی کیونکہ عوام کے مینڈیٹ پر ڈاکا مارنے والے ملک کو ڈیلیور (Deliver ) نہیں کرسکتے۔انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی نہ چور دروازے سے اقتدار میں آئے گی اور نہ فارم 47 کے ذریعے، بلکہ برسرزمین جدوجہد کرے گی۔ انتخابات ہمارا راستہ ہوسکتے ہیں، منزل نہیں۔ ہماری منزل ظالمانہ نظام کا خاتمہ اور عدل و انصاف کا نظام قائم کرنا ہے۔دھرنے کے مستقبل کے حوالے سے حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ جماعت اسلامی دھرنا ختم نہیں کرے گی بلکہ اسے مزید طویل کرے گی۔ ہمارا قافلہ بڑھتا جارہا ہے، لوگ آتے جارہے ہیں۔ انقلاب صرف منظم جدوجہد کے ذریعے لایا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد میں آٹھ مقامات پر جاری دھرنے بھی دیکھے جارہے ہیں اور ملک بھر میں بڑی اسکرینیں لگا کر عوام کو ان سے جوڑا جائے گا۔ جماعت اسلامی کسی کو زبردستی دھرنے میں نہیں لاتی، حق اور سچ کی آواز پر عوام خود شریک ہورہے ہیں۔ امیر جماعت اسلامی نے حکومت کو مطالبات ماننے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ پٹرولیم لیوی ختم، پٹرول سستا اور آئی پی پیز کو لگام دی جائے۔ انہوں نے روٹی کی قیمت 10 روپے مقرر کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی جس مسئلے کے پیچھے پڑ جائے، اس کا پیچھا نہیں چھوڑتی اور عوام کے حقوق کی جدوجہد مطالبات کی منظوری تک جاری رہے گی۔