News Detail Banner

دھرنے چند روز کے لیے نہیں، طویل عوامی تحریک کا آغاز ہیں، حافظ نعیم الرحمن

2گھنٹے پہلے

دھرنے چند روز کے لیے نہیں، طویل عوامی تحریک کا آغاز ہیں، حافظ نعیم الرحمن

بارہ ربیع الاول کی تقریبات دھرنوں کے مقام پر ہوں گی

پٹرولیم لیوی کے خاتمہ تک پرامن مزاحمت جاری رہے گی، امیر جماعت اسلامی پاکستان کا لاہور دھرنا سے خطاب

امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے حکومت کو خبردار کیا ہے کہ پٹرولیم لیوی اور مہنگے ایندھن کے خلاف جاری دھرنے محض چند روزہ احتجاج نہیں بلکہ ایک طویل عوامی تحریک کا آغاز ہیں۔ انہوں نے اعلان کیا کہ 12 ربیع الاول کو دھرنوں کے مقامات پر تقریبات کے بعد 13 ربیع الاول کو ملک گیر پہیہ جام اور شٹر ڈاؤن ہڑتال کی طرف بڑھا جائے گا، جس کے بعد پنجاب، سندھ، خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں جلسوں اور عوامی رابطہ مہم کے ذریعے تحریک کو گراس روٹ (Grassroots) تک پھیلایا جائے گا اور ضرورت پڑنے پر اسلام آباد کی جانب طویل پیدل لانگ مارچ کی کال دی جائے گی۔لاہور میں وزیراعلیٰ ہاؤس کے باہر جاری دھرنے کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ جماعت اسلامی حکومت گرانے کے کسی فوری منصوبے کے ساتھ نہیں بلکہ عوام کو ریلیف دلانے کے لیے سڑکوں پر ہے، حکمرانوں نے مطالبات تسلیم نہ کیے تو احتجاج مرحلہ وار شدت اختیار کرے گا۔ ہم جانے کے لیے نہیں آئے، عوام بڑی جدوجہد کے لیے تیار ہیں۔ دھرنے اس وقت تک جاری رہیں گے جب تک پٹرولیم لیوی ختم اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں کم نہیں کی جاتیں۔
نائب امیر لیاقت بلوچ ، امیر پنجاب وسطی جاوید قصوری، امیر لودھراں ڈاکٹر طاہر احمد، صدر آئی ایل ایم پاکستان اسد منظور بٹ، صدر آئی ایل ایم پنجاب جنوبی اطہر عزیز ایڈووکیٹ، صدر آئی ایل ایم لاہور ڈاکٹر کلیم ، صدر آئی ایل ایم قصور عنیب اظہر، فنانس سیکرٹری لاہور ہائی کورٹ بار علی رضا کھوکھر، صدر آئی ایل ایم ملتان رفیق رضا، صدارتی امیدوار لاہور ہائی کورٹ بار ملک ارشد اعوان، سابقہ نائب صدر سپریم کورٹ بار عمرحیات سندھو، ایڈووکیٹ رانا زبیر افضل، رہنما آئی ایل ایم گوجرانوالہ یاسر کھارا اور امین عام جمعیت طلبہ عربیہ پاکستان واجد اقبال نے بھی دھرنے سے خطاب کیا۔
پٹرولیم لیوی ، آئی پی پیز مافیا، کمرتوڑ مہنگائی اور حکمرانوں کی عیاشیوں کے خلاف لاہور میں وزیراعلیٰ ہاؤس اور کراچی اور پشاور میں گورنر ہاؤسز کے باہر دھرنوں کے پانچویں روز بڑی تعداد میں عوام احتجاج میں شریک ہوئی ، شرکاء نے بھرپور نعرے بازی کی اور مطالبات کی منظوری تک احتجاج جاری رکھنے کے عہد کا اعادہ کیا۔
حافظ نعیم الرحمن نے لاہور کے دھرنے میں وکلا برادری کی بھرپور شرکت پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ یہاں علما، طلبہ، کسان، مزدور اور خواتین بھی بڑی تعداد میں موجود ہیں۔ بیک وقت لاہور، کراچی اور پشاور میں جاری احتجاج کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پشاور میں عوام کا سمندر اسلام آباد جانے کے لیے تیار ہے، جبکہ لاہور کا دھرنا بھی مختلف طبقات کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کررہا ہے۔ وہ جمعہ کو کراچی جائیں گے جہاں دھرنے کو جلسہ عام میں تبدیل کیا جائے گا، جبکہ ہفتے کو لاہور کے دھرنے کے مقام پر خواتین کا بڑا جلسہ ہوگا۔
حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ عوام مہنگائی کی آگ میں جل رہے ہیں اور آٹا، دال، روٹی سمیت بنیادی اشیائے ضروریہ عام آدمی کی پہنچ سے دور ہوتی جارہی ہیں۔ پٹرولیم لیوی کو عذاب قرار دیتے ہوئے انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف کو مخاطب کرکے کہا کہ جتنے مرضی ’’ناٹک‘‘ کرلیں، پٹرول کی قیمت کم کرنا ہوگی۔ جماعت اسلامی عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں سے آگاہ ہے اور عالمی قیمت کے مطابق مقامی نرخ مقرر ہونے چاہئیں، لیکن حکمران یہ بتائیں کہ پٹرول پر اضافی لیوی کیوں عائد ہے۔انہوں نے کچھ لوگوں کی جانب سے یہ تاثر دینے کی کوششوں کو مسترد کیا کہ دھرنوں کے باوجود پٹرول مہنگا ہورہا ہے۔
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ ملک میں تعلیم بھی طبقاتی نظام کی نذر ہوچکی ہے۔ غریب کا بچہ مزدوری کرنے پر مجبور ہے جبکہ امیر تعلیم خرید لیتا ہے۔ ان کے بقول طلبہ بھی ٹیکسوں کے بوجھ سے محفوظ نہیں، حالانکہ ایسے افراد سے بھی ٹیکس وصول کیا جارہا ہے جن پر ٹیکس بنتا ہی نہیں، جبکہ بڑے جاگیردار اور بااثر اشرافیہ ٹیکس کے دائرے سے باہر ہیں۔انہوں نے کہا کہ مخصوص بااثر طبقہ صنعتوں اور عوام دونوں کو نقصان پہنچا رہا ہے، بینکوں سے قرض لیتا ہے اور بعدازاں معاف کرا لیتا ہے۔ زرداری، شریف اور ترین خاندان سمیت بااثر طبقات اس نظام سے فائدہ اٹھاتے رہے ہیں۔ آئی پی پیز کے معاہدوں اور کیپسٹی پیمنٹس کو بھی انہوں نے عوام پر بوجھ قرار دیتے ہوئے کہا کہ بجلی کے شعبے میں بھی عام صارف کے ساتھ ناانصافی ہوئی ہے۔حافظ نعیم الرحمن نے وزیراعظم شہباز شریف پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم یہ کہتے ہیں کہ انہیں فکر رہتی ہے کہ عوام کو ریلیف کیسے دیا جائے، لیکن اصل پریشانی یہ ہے کہ عوام سے مزید کتنا نچوڑا جائے۔ انہوں نے ایف بی آر میں کرپشن ختم نہ کرنے اور بیوروکریسی کی جانب سے عام شہری کو تنگ کرنے کا بھی ذکر کیا۔ ان کے بقول امیر کو کوئی پوچھتا نہیں جبکہ غریب، کاروبار، گھر اور چادر چار دیواری تک محفوظ نہیں۔
حافظ نعیم الرحمن نے ماورائے عدالت قتل و غارت میں اضافے کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ حکومت جرائم ختم کرنے کے بجائے بعض اوقات عوام کو ہی نشانہ بناتی ہے۔ موجودہ نظام ظلم کو بڑھا رہا ہے اور جماعت اسلامی اس کے خلاف منظم تحریک شروع کرچکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ 7 اگست کو ملک بھر میں شاہراہیں بند کرنے کے بعد اب جماعت اسلامی عوامی رابطہ مہم شروع کرے گی۔ ہر ضلع اور علاقے میں احتجاجی کیمپ قائم کیے جائیں گے، کراچی میں گلی گلی اور محلے محلے مہم چلائی جائے گی جبکہ پشاور کے کارکنوں کو بھی جلسہ عام کی تیاری کا ٹاسک دیا گیا ہے۔ پنجاب، سندھ، خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں جلسوں کے بعد تحریک کو مزید آگے بڑھایا جائے گا۔ تحریک پرامن اور منظم ہوگی اور مرحلہ وار آگے بڑھے گی۔ ’ہم صرف لیوی کے خاتمے اور قیمتوں میں کمی پر پیچھے ہٹیں گے۔
حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ اس کے بعد اسلام آباد کی جانب پیدل لانگ مارچ کی کال دی جاسکتی ہے اور یہ چند دن کا مارچ نہیں ہوگا بلکہ عوام کی تعداد مسلسل بڑھائی جائے گی۔ انہوں نے جماعت اسلامی کے ذمہ داران کو تیاری مکمل کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد پہنچنے کے بعد قیادت اور ذمہ داران موبائل فون بند کردیں گے اور کسی سے مذاکرات نہیں کریں گے۔انہوں نے تمام سیاسی جماعتوں کے کارکنوں سے بھی احتجاج میں شامل ہونے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ہر سیاسی جماعت کا کارکن ملک کا قیمتی اثاثہ ہے۔ جماعت اسلامی پرامن سیاسی جدوجہد پر یقین رکھتی ہے، لیکن حکومت کو خبردار کیا کہ عوام اگر بپھر گئے تو انہیں سنبھالنے اور امن برقرار رکھنے کی ذمہ داری حکومت پر ہوگی۔پنجاب حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حافظ نعیم الرحمن نے وزیراعلیٰ مریم نواز سے کہا کہ وہ اپنے چچا اور ابا جان سے مشاورت کریں کہ عوام کو ریلیف کیسے دینا ہے۔ اپنجاب میں ایک کروڑ 20 لاکھ بچے اسکولوں سے باہر ہیں اور مسلم لیگ ن کی کئی دہائیوں کی حکمرانی کے باوجود صوبہ معیاری تعلیم فراہم نہیں کرسکا۔ انہوں نے 11 ہزار سرکاری اسکولوں کی آؤٹ سورسنگ پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اگر حکومت سرکاری تعلیمی ادارے نہیں چلا سکتی تو اسے اپنی نااہلی تسلیم کرنی چاہیے۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ ہر سرکاری اسکول کا نجی اسکولوں سے معیار کے لحاظ سے مقابلہ ہونا چاہیے اور امیر و غریب کے لیے یکساں تعلیمی نظام ہونا چاہیے۔ جاگیردارانہ، وڈیرہ اور بیوروکریسی کا موجودہ نظام عوام کو ڈیلیور کرنے میں ناکام ہوچکا ہے۔
حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ حکومت کسانوں پر بھی ٹیکس عائد کرنے کے لیے آئی ایم ایف سے مذاکرات کررہی ہے، حالانکہ بڑے جاگیرداروں اور کئی کئی مربعوں کے مالکان کو ٹیکس نیٹ میں لانا چاہیے۔ تنخواہ دار طبقے سے پہلے ہی 700 ارب روپے وصول کیے جارہے ہیں اور یہ بوجھ مزید بڑھانا ناانصافی ہے۔انہوں نے جماعت اسلامی کی سیاسی جدوجہد کو وسیع تر نظریاتی مقصد کا حصہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کی جماعت انتخابات اور احتجاج دونوں کو عبادت سمجھتی ہے اور عوام ساتھ دیں یا نہ دیں، وہ ظلم کی ہر شکل کو بے نقاب کرتی رہے گی۔جماعت اسلامی دین کو محض عبادات نہیں بلکہ ایک مکمل نظام سمجھتی ہے اور اگر اسے حکومت کا موقع ملا تو امیر اور غریب کے لیے یکساں معیار تعلیم اور بنیادی سہولیات یقینی بنائی جائیں گی۔
امیر جماعت اسلامی نے غزہ کی صورتحال پر بھی گفتگو کرتے ہوئے اہل فلسطین کی مزاحمت کو خراج تحسین پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ غزہ کے عوام کو فراموش نہیں کیا جاسکتا، ہزاروں فلسطینی شہید ہوچکے ہیں اور اسرائیل جنگ میں اپنے مقاصد حاصل نہ کرسکنے کے بعد مظلوم شہریوں کو نشانہ بنا رہا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر مسجد اقصیٰ کا تقدس پامال ہوتا رہے تو پاکستان کی ایٹمی طاقت کا کیا فائدہ ہے۔ حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ اگر مسلم معاشروں میں اہل فلسطین جیسی مزاحمت اور ظلم کے خلاف کھڑے ہونے کا جذبہ پیدا ہوجائے تو ظالم طاقتیں زیادہ دیر قائم نہیں رہ سکتیں۔جماعت اسلامی 25 کروڑ عوام کو ظالمانہ نظام کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑے گی اور عوام کے مسائل کے حل تک اس کی تحریک جاری رہے گی۔