News Detail Banner

بارہ ربیع الاول کے بعد ملک گیر ہڑتال ہوگی، دھرنوں کا جال بچھائیں گے، حافظ نعیم الرحمن

17گھنٹے پہلے

بارہ ربیع الاول کے بعد ملک گیر ہڑتال ہوگی، دھرنوں کا جال بچھائیں گے، حافظ نعیم الرحمن
حکمران جانے والے ہیں، جاتے جاتے پٹرولیم لیوی ختم کرنے کا اچھا کام کرجائیں
پرامن جدوجہد ہی عوام کی طاقت ہے، امیر جماعت اسلامی پاکستان کا پشاور دھرنا سے خطاب

امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ پٹرولیم لیوی کے خاتمے تک پیچھے نہیں ہٹے گی، بارہ ربیع الاول کے بعد ملک گیر ہڑتال ہوگی، دھرنوں کا جال بچھائیں گے، اسلام آباد کی جانب مارچ بھی ہوگا، حکمران جانے والے ہیں ، جاتے جاتے لیوی ختم کرنے کا اچھا کام کرجائیں ، چکدرہ والے ایک ہفتہ بعد دھرنے کے لیے تیار ہوجائیں۔ جماعت اسلامی گولی اور گالی کی سیاست پر یقین نہیں رکھتی اور پرامن جدوجہد کو اپنی طاقت سمجھتی ہے۔
پشاور میں گورنر ہاؤس کے باہر جاری دھرنے کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمن نے کہا احتجاجی تحریک اب جماعت اسلامی کے کارکنوں تک محدود نہیں رہی ، عام لوگ بھی اس کا حصہ بن چکے ہیں۔ دھرنے کے شرکا پرعزم اور جذبوں سے سرشار ہیں، جماعت اسلامی کے احتجاج پر تنقید کرنے والے دیکھ لیں کہ عوام کا سمندر سڑکوں پر نکل آیا ہے۔نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان ڈاکٹر عطاءالرحمن، امیر کے پی وسطی عبدالواسع، امیر کے پی شمالی عنایت اللہ خان، نائب امیر کے پی وسطی مولانا محمد اسمعیل نے بھی دھرنا سے خطاب کیا۔
لاہور ، کراچی اور پشاور میں پٹرولیم لیوی ، آئی پی پیز ، مہنگائی اور حکمرانوں کی عیاشیوں کے خلاف جماعت اسلامی کے دھرنے چوتھے روز میں داخل ہوگئے ہیں اور عوام کی بڑی تعداد احتجاج میں شریک ہے۔ لاہور اور کراچی دھرنا کے شرکاء نے امیر جماعت اسلامی کا لائیو خطاب بڑی سکرینوں پر سنا اور پرجوش نعرے لگائے۔
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ حکومت نے جماعت اسلامی کے دباؤ کے نتیجے میں ڈیزل کی قیمت میں 32 روپے کمی کا اعلان کیا ہے، جو احتجاج کی کامیابی ہے، لیکن یہ صرف آغاز ہے۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں روزانہ بڑھانے کا سلسلہ ختم ہونا چاہیے ، حکمرانوں کو پٹرول و ڈیزل کے ہر لٹر پر 80 سے 90 روپے تک لیوی کے نام پر وصول کیا جانے والا بھتہ ختم کرنا ہوگا۔
حافظ نعیم الرحمن نے پٹرولیم لیوی کو عوام کی جیبوں پر ڈاکہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت ایک لٹر پٹرول پر مجموعی طور پر 130 روپے تک ٹیکس وصول کر رہی ہے۔ حکومت کا زبردستی کا یہ ڈاکہ عوام کو قبول نہیں، ظلم کا سلسلہ بند ہونا چاہیے اور عوام اب مزید خاموش نہیں رہیں گے۔جماعت اسلامی نے 7 اگست کو تاریخ میں پہلی مرتبہ ملک بھر میں 510 مقامات پر سڑکیں بند کرکے احتجاج کیا اور اس کے نتیجے میں حکومت کو مذاکرات اور بعض مطالبات پر پیش رفت کرنا پڑی۔ جماعت اسلامی کے دباؤ پر حکومت نے 27 آئی پی پیز سے بات چیت کی اور پانچ پاور پلانٹس بند کیے گئے، بجلی کے فی یونٹ نرخ میں بھی آٹھ روپے تک کمی ہوئی۔ اب بھی 73 آئی پی پیز ایسے ہیں جن سے بات کرنا ضروری ہے۔
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ ان کی جماعت نے دو سال قبل آئی پی پیز کے معاملے کو بے نقاب کیا تھا۔ شریف اور زرداری خاندانوں کے مفادات آئی پی پیز کے کاروبار سے وابستہ رہے ہیں، حکومتیں تبدیل ہوتی رہیں لیکن آئی پی پیز کا دھندا چلتا رہا۔ بجلی پیدا نہ کرنے والے پلانٹس کو بھی کیپسٹی پیمنٹس دی جا رہی ہیں، حکومت عوام پر لیوی عائد کرتی ہے جبکہ آئی پی پیز کے ٹیکس معاف کیے جاتے ہیں۔انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف کو مخاطب کرتے ہوئے سوال کیا کہ آئی پی پیز کی آمدن پر عائد انکم ٹیکس کہاں جاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکمران عوام سے ٹیکس اور لیوی وصول کرکے آئی ایم ایف کی شرائط پوری کرتے ہیں، جبکہ اشرافیہ اپنی عیاشیاں ختم کرنے کے لیے تیار نہیں۔
حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ حکمران عوام کا خون چوسنے کے لیے آئی ایم ایف کی غلامی کر رہے ہیں، آئی پی پیز کو نوازا جا رہا ہے اور پٹرول و بجلی مہنگی کرکے عام آدمی پر بوجھ ڈالا جا رہا ہے۔ حکومت نے تنخواہ دار طبقے سے 700 ارب روپے وصول کیے جبکہ اپنے مقررہ اہداف سے 100 ارب روپے زیادہ لیوی بھی وصول کی۔آج غریب آدمی کا بجلی کا بل اس کی تنخواہ سے بھی زیادہ ہوچکا ہے، موٹرسائیکل یا بائیکیا چلانے والا روزانہ تقریباً 700 روپے حکومت کو مختلف ٹیکسوں کی صورت میں دیتا ہے اور اس کے لیے اپنے خاندان کا پیٹ پالنا مشکل ہوگیا ہے۔ اشرافیہ کو مہنگائی کا بوجھ اور متوسط طبقے کے مسائل کا اندازہ نہیں، نوجوانوں کو تعلیم بھی خریدنی پڑ رہی ہے۔
حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ ملک میں 17 ارب ڈالر کا ’’ایلیٹ کیپچر‘‘ موجود ہے، چند لوگوں کا پوری مارکیٹ پر راج ہے اور حکومت اپنے منظور نظر افراد کو بجلی اور گیس بھی رعایتی نرخوں پر فراہم کرتی ہے۔ ایف بی آر اپنے اہداف پورے نہیں کرتا اور ادارے میں کرپشن کے انبار ہیں، بوجھ عام شہری پر منتقل کردیا جاتا ہے۔ جماعت اسلامی اب خاموش نہیں رہے گی اور ملک کے ہر طبقے کی آواز کو اپنی تحریک کا حصہ بنائے گی۔ مہنگائی ہر گھر اور ہر سیاسی جماعت کے کارکن کا مسئلہ ہے، اس لیے تمام سیاسی جماعتوں کے کارکنوں اور عام شہریوں کو بھی عوامی حقوق کی اس جدوجہد میں شامل ہونا چاہیے۔
امیر جماعت اسلامی نے اعلان کیا کہ خیبرپختونخوا میں احتجاج کا دائرہ مزید وسیع کیا جائے گا اور آئندہ ایک ہفتے میں چکدرہ میں بھرپور دھرنے کے لیے تیاریاں کی جائیں۔ انہوں نے کارکنوں سے کہا کہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو اس احتجاج میں شامل کریں، چندہ جمع کریں اور تحریک کو آگے بڑھائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جلسہ عام کی شکل میں دھرنوں کا جال پورے ملک میں بچھایا جائے گا، جبکہ دھرنوں، ملک گیر ہڑتال اور اسلام آباد مارچ کا مرحلہ بھی آئے گا۔انہوں نے خبردار کیا کہ اگر حکومت نے مطالبات تسلیم نہ کیے تو ملک کو جام کرنے کے لیے عوام کو متحرک کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ جماعت اسلامی کے کارکن اسلام آباد جانے کے لیے تیار ہیں اور وہ کسی بھی دن اسلام آباد پہنچنے کی کال دے سکتے ہیں۔ اسلام آباد پہنچنے کے بعد کارکن موبائل فون بند کرکے حکومت سے کوئی رابطہ نہیں کریں گے۔
حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ جماعت اسلامی ذاتی مفادات کے لیے نہیں بلکہ 25 کروڑ عوام کے مسائل کے لیے احتجاج کررہی ہے۔ ہمیں ناجائز طریقے سے کوئی حصہ نہیں چاہیے، فارم 47 تمہیں مبارک، لیکن عوام پر عائد لیوی کا بھتہ ختم کرو۔ انہوں نے کہا کہ فیس سیونگ کے لیے کوئی مذاکرات نہیں ہوں گے، جس نے بات کرنی ہے وہ سڑکوں پر موجود عوام کے پاس آئے۔
انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی چاہتی ہے کہ معاملہ پرامن طریقے سے حل ہوجائے، تاہم حکومت اس کے پرامن رویے کو کمزوری نہ سمجھے۔ ان کے مطابق جماعت اسلامی گولی اور گالی کی سیاست نہیں چاہتی لیکن اپنے مطالبات سے پیچھے بھی نہیں ہٹے گی۔حافظ نعیم الرحمن نے پنجاب حکومت کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ صوبے میں نااہل حکومت کی وجہ سے کسان پریشان ہیں۔ مریم نواز نے تعلیم اور زراعت کو تباہ کردیا ہے اور پنجاب میں غربت میں 41 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ خیبرپختونخوا حکومت بھی تعلیمی اداروں کی آؤٹ سورسنگ ختم کرے، نئے تعلیمی ادارے بنائے اور تعلیم کو مختلف طبقات میں تقسیم نہ کرے۔انہوں نے سندھ کی صورتحال پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کراچی ٹوٹ چکا ہے جبکہ اندرون سندھ بدامنی کا شکار ہے۔ ان کے بقول ملک کا موجودہ نظام ناکام ہوچکا ہے اور اسے جڑ سے درست کرنے کے لیے سنجیدہ مشاورت کرنا ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ دیر، باجوڑ اور خیبرپختونخوا کے دیگر علاقوں میں بدامنی عروج پر ہے، جبکہ صوبے میں یوریا کا شدید بحران ہے اور کھاد بلیک میں فروخت ہورہی ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ اگر بلیک مارکیٹ میں ملنے والی یوریا سے بارود بن سکتا ہے تو اس کی غیرقانونی فروخت روکنے کے لیے اقدامات کیوں نہیں کیے جاتے۔
حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل نے افغانستان سے تعلیم حاصل کرنے والے افراد کے لائسنس منسوخ کیے ہیں، اس معاملے سمیت ہر ظلم اور ہر مسئلے پر جماعت اسلامی آواز اٹھائے گی۔ انہوں نے سیاسی قیدیوں کی رہائی اور انہیں علاج کی سہولیات فراہم کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔انہوں نے ملک میں بااختیار مقامی حکومتوں کے قیام کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ بلدیاتی اداروں کو وفاق سے براہ راست بجٹ دیا جائے تاکہ عوام کے مسائل مقامی سطح پر حل ہوسکیں۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کی جدوجہد طویل ہے اور عوام کو اپنا حق حاصل کرنے کے لیے جدوجہد کرنا پڑتی ہے۔امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ موجودہ نظام چلانے والے بھی اس کی ناکامی کا اعتراف کررہے ہیں۔ انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ اور ان کے بھائی اور بھتیجی فارم 47 کے ذریعے اقتدار میں آئے ہیں، لیکن اب حکومت جانے والی ہے، اس لیے جاتے جاتے عوام کے لیے اچھا کام کرتے ہوئے پٹرولیم لیوی ختم کردیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر عوام بپھر گئے تو حالات حکومت کے کنٹرول میں نہیں رہیں گے۔حافظ نعیم الرحمن نے مطالبہ کیا کہ پٹرول سستا، پٹرولیم لیوی ختم، بجلی اور روٹی سستی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں نادرا نے چھ لاکھ افراد کے شناختی کارڈ بلاک کیے ہیں، جو ادارے کی نااہلی ہے۔ انہوں نے چیئرمین نادرا سے اپیل کی کہ عوام کے مسائل حل کیے جائیں۔ جماعت اسلامی کسی ادارے سے لڑائی نہیں چاہتی بلکہ اداروں کو اپنے مسائل درست کرکے عوام کو سہولت فراہم کرنی چاہیے۔
انہوں نے کارکنوں پر زور دیا کہ وہ تحریک کو مزید منظم کریں اور کہا کہ جماعت اسلامی کے نوجوانوں کا کوئی راستہ نہیں روک سکے گا۔ حکومت کو سمجھ لینا چاہیے کہ اب بہت ہوچکا، عوام اس کے مظالم مزید برداشت نہیں کریں گے۔