News Detail Banner

خیبرپختونخوا کو امن چاہیے، وسائل، معدنیات ہر پہلا حق عوام کا ہے، حافظ نعیم الرحمن

13دن پہلے

خیبرپختونخوا کو امن چاہیے، وسائل، معدنیات ہر پہلا حق عوام کا ہے، حافظ نعیم الرحمن
مکہ دفاعی معاہدہ اتحاد امت کی جانب اہم پیش رفت، ایران کو شامل کیا جائے
16 اگست کو پٹرولیم لیوی، آئی پی پیز، حکمرانوں کی عیاشیوں کے خلاف دھرنے ہوں گے، امیر جماعت اسلامی پاکستان کی پریس کانفرنس

امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ امن و امان کا قیام ملک کی اہم ترین ضرورت، ملکی وسائل، معدنیات پر پہلا حق عوام کا ہے۔ مکہ دفاعی معاہدہ اتحاد امت کی جانب اہم پیش رفت، ایران و دیگر اسلامی ممالک کو بھی شامل کیا جائے۔ سولہ اگست کو چاروں صوبائی دارالحکومتوں میں پٹرولیم لیوی، آئی پی پیز مافیا اور اشرافیہ کی مراعات و عیاشیوں کے خلاف دھرنے ہوں گے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے المرکز اسلامی پشاور میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع امیر جماعت اسلامی خیبر پختونخوا وسطی عبدالواسع، جنرل سیکرٹری صابر حسین اعوان، امیر پشاور بحر اللہ ایڈووکیٹ، نائب امیر صہیب الدین کاکاخیل، ڈائریکٹر میڈیا سیل خیبر پختونخوا وسطی احمد فرقان خلیل، ترجمان خیبر پختونخوا وسطی نور الواحد جدون اور صدر الخدمت فاؤنڈیشن خیبر پختونخوا وسطی و جنوبی خالد وقاص چمکنی بھی اس موقع پر موجود ہیں۔
حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ خیبر پختوانخوہ کے عوام کو امن کی فراہمی حکمرانوں کی اولین ذمہ داری ہے، عوام کو وسائل، معدنیات پر ان کا حق ملنا چاہیے، نوجوانوں کو روزگار ملے گا تو مسائل کے حل کی جانب مثبت پیش رفت ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان افغانستان تجارت کی معطلی سے دونوں ممالک کے تاجر بے حد پریشان ہیں، سرحدی تجارت کو کھولا جائے، سٹیک ہولڈرز کی مشاوت سے پاک افغان سرحدی تجارتی زون بننا چاہیے۔ اسلام آباد اور کابل معاملات کو بات چیت سے حل کریں، افغان سرزمین کسی صورت پاکستان میں دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہونی چاہیے۔ امیر جماعت اسلامی نے دونوں ممالک کے طلبا کو آسان سفری سہولتیں دی جائیں، پاک افغان حکومتوں کے تعلقات میں خرابی سے دونوں ممالک کے عوام، تاجر اور طلبا متاثر ہورہے ہیں، تعلقات کی بحالی کے لیے سعودی عرب، ترکیہ کی مدد بھی لی جاسکتی ہے۔ انہوں نے افغانستان سے میڈیکل کی ڈگری حاصل کرنے والے پاکستانی طلبا کو پی ایم ڈی سی کی جانب سے منظور نہ کرنے کی مذمت کی اور مطالبہ کیا کہ ان کی ڈگری کو منظور کیا جائے۔ حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ وادی تیراہ سے لوگوں کو ایک ماہ کے لیے نکالا گیا اور ان سے وعدہ کیا گیا کہ ایک ماہ میں آپریشن کے مکمل ہونے کے بعد ان کی گھروں کو واپسی ہوجائے گی جو کئی ماہ گزرنے کے بعد تاحال نہیں ہوسکی۔
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ جمعہ کے احتجاج میں عوام کی بھرپور شرکت نے ثابت کردیا کہ لوگ موجودہ فارم سنتالیس کے نا اہل حکمرانوں سے تنگ آچکے ہیں، حکمران اشرافیہ اور مختلف مافیاز ریاست سے سالانہ سترہ ارب ڈالر کی مراعات حاصل کرتے ہیں، آئی پی پیز کو گزشتہ چار برسوں میں اتنی رقم بجلی نہ بنانے کی مد میں دی گئی جتنی بجلی بنانے پر خرچ نہیں ہوئی، پٹرولیم لیوی پر غریب عوام سے آٹھ ہزار ارب بھتہ وصول کیا جاچکا ہے، حکمرانوں نے جنگی حالات کے دوران پٹرول کو آمدنی کا ذریعہ بنایا۔ عوام پر ظلم کا یہ سلسلہ بند ہونا چاہیے، جماعت اسلامی ذاتی مفاد کے لیے نہیں عوام کے حق کے لیے احتجاج کررہی ہے، سولہ اگست کو وزیراعلیٰ ہاؤس پنجاب اور کے پی، سندھ اور بلوچستان کے گورنر ہاؤسز کے باہر دھرنے ہوں گے۔ خیبر پختونخواہ کے نوجوانوں کو خصوصی اپیل کرتا ہوں کہ احتجاج میں بھرپور شرکت کریں۔ انہوں نے کہا کہ دھرنوں پر پی ٹی آئی، اے این پی اور دیگر اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے حمایت پر ان کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔
حافظ نعیم الرحمن نے پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے مابین دفاعی معاہدہ کا خیر مقدم کرتے ہوئے اسے اتحاد امت کے لیے اہم پیش رفت قرار دیا اور کہا کہ اس معاہدہ میں ایران، ملائیشیا، انڈونیشیا اور دیگر اسلامی ممالک کو بھی شامل کیا جائے تاکہ دشمنوں کی سازشوں کا بھرپور طریقے سے مقابلہ کیا جاسکے۔