حکومت کشمیر، فلسطین کو خارجہ پالیسی کی اولین ترجیحات بنائے، جماعت اسلامی پاکستان
7دن پہلے
حکومت کشمیر، فلسطین کو خارجہ پالیسی کی اولین ترجیحات بنائے، جماعت اسلامی پاکستان
قومی سلامتی مسئلہ کشمیر کے حل سے سے وابستہ ہے ، مرکزی مجلس شوریࣿ کی قرارداد
جماعت اسلامی پاکستان کی مجلس شوریٰ نے آزاد جموں و کشمیر، مقبوضہ کشمیر، فلسطین اور مشرق وسطیٰ کی مجموعی صورتحال پر منظور کی گئی قراردادوں میں حکومت پاکستان پر زور دیا ہے کہ وہ مسئلہ کشمیر اور فلسطین کو خارجہ پالیسی کی اولین ترجیحات بنائے، آزاد کشمیر کے جاری بحران کے حل کے لیے فوری مذاکرات کا آغاز کرے، مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم اور غزہ میں جاری اسرائیلی جارحیت کے خلاف مؤثر سفارتی مہم چلائے، جبکہ امت مسلمہ کے اتحاد اور خطے میں خودمختار سیکیورٹی فریم ورک کے قیام کے لیے فعال کردار ادا کرے۔ شوریٰ نے واضح کیا کہ پاکستان کی سلامتی، مسئلہ کشمیر، فلسطینی عوام کی آزادی اور مسلم دنیا کا اتحاد باہم جڑے ہوئے معاملات ہیں، جن پر کسی قسم کا سمجھوتہ قبول نہیں۔
منصورہ لاہور میں منعقدہ اجلاس میں منظور کی گئی قراردادوں میں کہا گیا کہ آزاد جموں و کشمیر میں جاری سیاسی اور انتظامی بحران نہ صرف وہاں کے عوام بلکہ پاکستان کے قومی مفادات اور مسئلہ کشمیر کے عالمی مقدمے پر بھی منفی اثرات مرتب کر سکتا ہے۔ شوریٰ نے حکومت پاکستان، حکومت آزاد کشمیر، جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی اور تمام سیاسی و سماجی قوتوں پر زور دیا کہ وہ فوری مذاکرات، اعتماد سازی اور افہام و تفہیم کا راستہ اختیار کریں۔ حالیہ واقعات میں جانی نقصان پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے شفاف اور غیرجانبدار تحقیقات، ذمہ داروں کے تعین اور متاثرہ خاندانوں کو انصاف فراہم کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔
قرارداد میں کہا گیا کہ آزاد کشمیر میں بار بار حکومتوں کی تبدیلی، سیاسی عدم استحکام اور جمہوری عمل میں مداخلت نے عوامی اعتماد کو شدید نقصان پہنچایا ہے، لہٰذا آئین، عوامی مینڈیٹ اور منتخب اداروں کا احترام یقینی بنایا جائے۔ شوریٰ نے انتخابی اصلاحات، شفاف انتخابات، گڈ گورننس، عدالتی اصلاحات، بلدیاتی اداروں کے استحکام، صحت، تعلیم، پن بجلی کے وسائل سے مقامی استفادے، مہاجرین جموں و کشمیر کی نمائندگی اور بنیادی سہولتوں کی فراہمی پر فوری پیش رفت کا مطالبہ بھی کیا۔
مرکزی مجلس شوریٰ نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارت کی جانب سے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں، سیاسی کارکنوں اور حریت قیادت کی گرفتاریوں، آبادیاتی تبدیلیوں اور 5 اگست 2019 کے بعد کیے گئے آئینی اقدامات کو اقوام متحدہ کی قراردادوں اور بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا۔ قرارداد میں دوٹوک مؤقف اختیار کیا گیا کہ جموں و کشمیر ایک بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ متنازع خطہ ہے اور اس کی حتمی حیثیت صرف کشمیری عوام کے آزادانہ حق خودارادیت کے ذریعے ہی طے ہو سکتی ہے۔
شوریٰ نے حکومت پاکستان پر زور دیا کہ وہ ہر سفارتی، سیاسی، قانونی اور بین الاقوامی فورم پر مسئلہ کشمیر بھرپور انداز میں اٹھائے، جبکہ اقوام متحدہ، او آئی سی، عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں اور دیگر بین الاقوامی اداروں سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں، جبری گمشدگیوں اور سیاسی قیدیوں کی حالت زار کا نوٹس لیتے ہوئے آزاد بین الاقوامی فیکٹ فائنڈنگ مشن بھیجیں۔ اجلاس نے یاسین ملک، شبیر احمد شاہ، مسرت عالم بٹ، ڈاکٹر غلام محمد خان، ڈاکٹر قاسم اور دیگر اسیران حریت کی فوری رہائی کا بھی مطالبہ کیا۔
فلسطین سے متعلق قرارداد میں مجلس شوریٰ نے غزہ میں جاری اسرائیلی فوجی کارروائیوں، شہری آبادی کی بڑے پیمانے پر تباہی، خوراک، پانی اور ادویات کی قلت اور انسانی بحران پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے بین الاقوامی انسانی قوانین کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا۔ اجلاس نے مطالبہ کیا کہ اسرائیلی محاصرہ فوری ختم کیا جائے، غزہ سے اسرائیلی افواج کا مکمل انخلا یقینی بنایا جائے، تعمیر نو کا عمل فوری شروع کیا جائے اور امدادی سامان کی بلا رکاوٹ فراہمی ممکن بنائی جائے۔
شوریٰ نے پاکستان کی جانب سے مبینہ طور پر "بورڈ آف پیس" میں شمولیت کے فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ فلسطینی عوام کی مرضی کے بغیر کوئی بھی انتظام قابل قبول نہیں ہو سکتا۔ قرارداد میں فلسطینی عوام کے حق مزاحمت کی حمایت کا اعادہ کیا گیا اور عالمی عدالت انصاف و بین الاقوامی فوجداری عدالت میں اسرائیل کے خلاف جاری مقدمات کی مکمل حمایت کا مطالبہ کیا گیا۔ اجلاس نے حکومت پاکستان پر زور دیا کہ وہ او آئی سی اور دیگر مسلم ممالک کے ساتھ مل کر فلسطین کے مسئلے پر متحدہ اور مؤثر سفارتی حکمت عملی اختیار کرے۔
شوریٰ نے ایران کے خلاف امریکی و اسرائیلی کارروائیوں کی بھی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ حالیہ جنگ نے خطے میں طاقت کے توازن کو تبدیل کر دیا ہے اور مسلم ممالک کو بیرونی طاقتوں پر انحصار کے بجائے باہمی تعاون، خود انحصاری اور مشترکہ سیکیورٹی فریم ورک تشکیل دینا چاہیے۔ قرارداد میں پاکستان، ترکی، ایران، سعودی عرب، قطر اور مصر کے درمیان تعاون کو فروغ دینے، فرقہ واریت کے خاتمے، امت مسلمہ کے اتحاد اور فلسطین و کشمیر سمیت تمام مسلم مسائل پر مشترکہ مؤقف اپنانے پر زور دیا گیا۔
مرکزی مجلس شوریٰ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان کشمیری اور فلسطینی عوام کی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھے گا اور حکومت کو قومی مفادات، مسئلہ کشمیر اور فلسطین کے حوالے سے واضح، فعال اور اصولی کردار ادا کرنا چاہیے تاکہ خطے میں انصاف، امن اور پائیدار استحکام کی راہ ہموار ہو۔



