News Detail Banner

حکومت جوائنٹ ایکشن کمیٹی سے طے شدہ امور پر عمل درآمد یقینی بنائے، لیاقت بلوچ

5دن پہلے

کشمیر امن جرگہ کا اداروں ، ایکشن کمیٹی میں مذاکرات پر اظہار اطمینان
شفاف الیکشن ، آزاد کشمیر پر فیکٹ فائنڈنگ مشن کے قیام کا مطالبہ، مشترکہ اعلامیہ جاری
حکومت جوائنٹ ایکشن کمیٹی سے طے شدہ امور پر عمل درآمد یقینی بنائے، لیاقت بلوچ

نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان لیاقت بلوچ کی سربراہی میں ہونے والے کشمیر امن جرگہ نے حکومت اور جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے درمیان طے شدہ معاملات پر فوری عملدرآمد، آزاد کشمیر کی موجودہ صورتحال کے جائزے کے لیے غیرجانبدار قومی فیکٹ فائنڈنگ مشن کے قیام اور 27 جولائی کو آزاد کشمیر میں ہونے والے انتخابات کو آزاد، منصفانہ اور شفاف بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔
اسلام آباد میں منعقدہ جرگہ نے جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی جانب سے لانگ مارچ ملتوی کرنے کے فیصلے کا خیرمقدم کیا اور اداروں اور ایکشن کمیٹی میں مذاکرات کی اطلاعات پر بھی اطمینان کااظہار کیا۔ شرکاء جرگہ نے حکومت پر زور دیا کہ موجودہ بحران کا حل طاقت کے استعمال کے بجائے مذاکرات، سیاسی تدبر اور عوامی اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔
امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن کی ہدایت پر تشکیل پانے والے امن جرگہ کے مقررین اور اہم شرکاء میں نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان میاں محمد اسلم، سابق امراء جماعت اسلامی آزاد کشمیر عبدالرشید ترابی، ڈاکٹر خالد محمود، سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی آزاد کشمیر راجہ جہانگیر خان، سیکرٹری اطلاعات جماعت اسلامی پاکستان شکیل احمد ترابی، صدر ملی یکجہتی کونسل آزاد کشمیر علامہ امتیاز احمد صدیقی، حریت رہنما جاوید مقبول بٹ، بریگیڈیئر (ر) الطاف، سابق بیوروکریٹ محمد سلیم بسمل، اوورسیز کشمیری رہنما سردار ذوالفقار روشن، تنویر احمد خان، پیر ڈاکٹر سلطان العارفین اور تاجر رہنما مسعود رضا نے شرکت و خطاب کیا۔ اجلاس کے اختتام پر مشترکہ اعلامیہ بھی جاری کیا گیا۔
اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے لیاقت بلوچ نے کہا کہ امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن کی ہدایت پر قائم کیا گیا کشمیر امن جرگہ آزاد کشمیر میں پیدا ہونے والی صورتحال کے پرامن حل کے لیے تشکیل دیا گیا ہے، جسے پاکستان، آزاد کشمیر اور بیرون ملک مقیم کشمیریوں نے بھرپور پذیرائی دی ہے۔ جرگہ قومی قیادت، آزاد کشمیر کی قیادت اور ریاستی اداروں سے مسلسل رابطے میں ہے اور تمام کوششوں کا مقصد کشیدگی میں اضافہ نہیں بلکہ مذاکرات کے ذریعے مسئلے کا حل نکالنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی اور مقتدر اداروں کے درمیان مذاکرات کی اطلاعات حوصلہ افزا ہیں اور جرگہ ایکشن کمیٹی کی جانب سے لانگ مارچ ملتوی کرنے کے فیصلے کو مثبت پیش رفت سمجھتا ہے۔ حکومت کو سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے ساتھ طے شدہ معاملات پر فوری پیش رفت کرنی چاہیے تاکہ بحران مزید نہ بڑھے۔
لیاقت بلوچ نے کہا کہ عوامی احتجاج کو طاقت کے ذریعے دبانا کسی مسئلے کا حل نہیں بلکہ اس سے ریاست کے بارے میں منفی تاثر پیدا ہوتا ہے۔ حکومت کی کمزور کارکردگی اور عوامی مسائل کے حل میں ناکامی کے باعث لوگ احتجاج پر مجبور ہوئے، اس لیے تمام فریق تحمل، بردباری اور مذاکرات کا راستہ اختیار کریں۔ انہوں نے ایکشن کمیٹی کی قیادت سے بھی اپیل کی کہ وہ صبر و تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے مذاکراتی عمل کی کامیابی میں اپنا کردار ادا کرے۔
انہوں نے واضح کیا کہ آزاد کشمیر کی موجودہ صورتحال کو مقبوضہ کشمیر کے حالات سے تشبیہ دینا درست نہیں۔ مقبوضہ کشمیر گزشتہ 79 برس سے بھارتی ناجائز قبضے، ظلم، جبر اور انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں کا شکار ہے، جبکہ آزاد کشمیر میں مسائل کے حل کے لیے جمہوری اور سیاسی راستہ موجود ہے۔
لیاقت بلوچ نے مزید کہا کہ آزاد اور مقبوضہ کشمیر کی قیادت کے درمیان روابط بڑھنے چاہییں۔ اگر مقبوضہ کشمیر کے رہنما فاروق عبداللہ آزاد کشمیر آنا چاہتے ہیں تو انہیں اجازت ملنی چاہیے، تاہم بھارت اس سے قبل مقبوضہ کشمیر کی گرفتار کشمیری قیادت کو رہا کرے تاکہ وہ بھی ان کے ساتھ آ سکے۔
جرگے کے مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا کہ آزاد جموں و کشمیر گزشتہ 35 برس سے سیاسی، انتظامی، معاشی اور عوامی مسائل کا شکار ہے، جس کی وجہ سے ریاست میں بے چینی اور اضطراب پایا جاتا ہے۔ اعلامیے میں جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی، حکومت اور مقتدر اداروں کے درمیان جاری مذاکرات اور دھرنے کے خاتمے کو مثبت پیش رفت قرار دیتے ہوئے زور دیا گیا کہ طے شدہ معاہدوں پر فوری اور مکمل عملدرآمد کیا جائے۔
اعلامیے میں کہا گیا کہ تحریک آزادی کشمیر میں کشمیری عوام نے بے مثال قربانیاں دی ہیں، اس لیے آزاد کشمیر میں انتشار یا بدامنی تحریک آزادی کے مفاد میں نہیں۔ عوامی احتجاج، آزادی اظہار رائے اور اختلاف رائے ہر شہری کا آئینی اور جمہوری حق ہے، تاہم ریاستی طاقت کا غیرضروری استعمال اور اظہار رائے پر قدغنیں مزید کشیدگی کو جنم دے سکتی ہیں۔
اعلامیے میں حکومت پاکستان، حکومت آزاد کشمیر، ریاستی اداروں، سیاسی جماعتوں اور سول سوسائٹی پر زور دیا گیا کہ وہ مذاکرات کے ذریعے بحران کے حل کو یقینی بنائیں۔ جرگے نے مطالبہ کیا 27 جولائی کے انتخابات ہر قسم کی مداخلت سے پاک، شفاف اور آزادانہ ماحول میں منعقد کیے جائیں تاکہ عوام کے اعتماد کو بحال کیا جا سکے۔
اعلامیے میں اوورسیز کشمیریوں اور تحریک آزادی کشمیر کے حامیوں سے بھی اپیل کی گئی کہ وہ مسئلہ کشمیر کے منصفانہ حل، کشمیری عوام کے حقوق کے تحفظ اور ریاست میں امن و استحکام کے لیے اپنا مؤثر کردار جاری رکھیں۔ جرگے نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ حکومت اور جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے درمیان اعتماد سازی، مذاکرات اور دیرپا سیاسی حل کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔