News Detail Banner

حکومتی غفلت و نااہلی سانحۂ کاہنہ کی وجہ، متاثرین کو انصاف دیا جائے، حافظ نعیم الرحمٰن

1گھنٹہ پہلے

حکومتی غفلت و نااہلی سانحۂ کاہنہ کی وجہ، متاثرین کو انصاف دیا جائے، حافظ نعیم الرحمٰن
آئندہ ایسے سانحات کی روک تھام کے لیے اقدامات یقینی بنائے جائیں
امیر جماعت اسلامی پاکستان کی کاہنہ میں شہید بچوں کے لواحقین سے ملاقات ، میڈیا سے گفتگو

امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا ہے کہ سانحۂ کاہنہ ٹیوشن سنٹر صرف متاثرہ خاندانوں کا نہیں بلکہ پوری قوم کا سانحہ ہے۔افسوسناک واقعے کی ذمہ داری مقامی آبادی یا متاثرہ خاندانوں پر ڈالنے کی بجائے حکومتی غفلت اور انتظامی ناکامی کا غیرجانبدارانہ احتساب کیا جائے۔ حکومت فوری طور پر شفاف تحقیقات کرائے، ذمہ داروں کا تعین کرکے انہیں قانون کے مطابق سخت سزا دے اور آئندہ ایسے سانحات کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات کرے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے سانحۂ کاہنہ ٹیوشن سنٹر کے مقام کے دورے کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ اس سے قبل انہوں نے جاں بحق ہونے والے بچوں کے لواحقین سے ملاقات کی، ان سے دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کیا اور مرحوم بچوں کے درجاتِ بلندی، مغفرت جبکہ زخمی بچوں کی جلد و مکمل صحت یابی کے لیے خصوصی دعا کی۔ اس موقع پر امیر جماعت اسلامی لاہور ضیاء الدین انصاری ایڈووکیٹ اور جماعت اسلامی لاہور کے دیگر ذمہ داران بھی ان کے ہمراہ موجود تھے۔
حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا کہ لاہور میں سینکڑوں عمارتیں اور تعلیمی ادارے خستہ حالی کا شکار ہیں، مگر ان کی مرمت اور بحالی کے بجائے انہیں آؤٹ سورس کیا جا رہا ہے، جو حکومتی ترجیحات پر سنگین سوالیہ نشان ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ وزیراعظم شہباز شریف کا حلقہ ہے، لیکن اس کے باوجود سینکڑوں بستیاں بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں، حکمرانوں کو اپنا طرزِ حکمرانی تبدیل کرتے ہوئے عوام کو بنیادی سہولتوں کی فراہمی یقینی بنانا ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ انسانی جان کی کوئی قیمت نہیں لگائی جا سکتی، اس لیے اس علاقے میں فوری طور پر ترقیاتی کام شروع کیے جائیں۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سانحے کے بعد زخمی بچوں کو ہسپتال منتقل کرنے کی ذمہ داری بھی مقامی لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت نبھائی، جو حکومتی ایمرجنسی رسپانس (Emergency Response ) نظام کی ناکامی کا واضح ثبوت ہے۔
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ پنجاب میں غربت کی شرح میں 41 فیصد اضافہ ہو چکا ہے، عوام آج بھی بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب تعزیت کے لیے آئیں، مگر متاثرہ خاندانوں کے درمیان جانے کی بجائے واپس چلی گئیں۔ انہوں نے کہا کہ اس علاقے میں ایک بھی سرکاری سکول موجود نہیں، جو حکومتی کارکردگی پر ایک اور بڑا سوالیہ نشان ہے۔ بچوں کی جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے، مگر حکومتی غفلت اور ناقص انتظامات کسی صورت قابل قبول نہیں۔
حافظ نعیم الرحمٰن نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ جماعت اسلامی متاثرہ خاندانوں کے دکھ میں برابر کی شریک ہے اور انہیں انصاف کی فراہمی تک ہر فورم پر ان کی آواز بلند کرتی رہے گی۔