News Detail Banner

آزاد کشمیر کا مسئلہ طاقت نہیں تدبر سے حل کیا جائے: حافظ نعیم الرحمن

2گھنٹے پہلے

آزاد کشمیر کا مسئلہ طاقت نہیں تدبر سے حل کیا جائے: حافظ نعیم الرحمن

حکومت، ریاستی اداروں، ایکشن کمیٹی اور سیاسی قیادت کو سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا

امیر جماعت اسلامی پاکستان کی آزاد کشمیر صورتحال پر خطہ کی نمایاں ترین شخصیات سے مجلس مشاورت

شرکاء مجلس کی حافظ نعیم الرحمن کی کاوشوں کی تحسین، مکمل اعتماد کا اظہار

امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ آزاد کشمیر کی موجودہ صورتحال کو مزید پیچیدہ ہونے سے بچانے کے لیے فوری طور پر بامعنی مذاکرات کا آغاز ضروری ہے، کسی بھی غلط اقدام سے خونریزی کا خطرہ ، فائدہ ملک کے دشمن بھارت کو ہوگا، مسئلے کے حل کے لیے حکومت، ریاستی اداروں، سیاسی قیادت اور تمام فریقین کو سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد میں جموں و کشمیر سے تعلق رکھنے والے اہل دانش، ریٹائرڈ سفارتکاروں، بیوروکریٹس اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی نمایاں شخصیات کے ساتھ مشاورتی نشست سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔شرکاء مشاورت کو امیر جماعت اسلامی کی جانب سے مدعو کیا گیا تھا۔ مشاورتی نشست میں سابق صدر آزاد کشمیر و سفارتکار سردار مسعود احمد خان، امیر جماعت اسلامی آزاد کشمیر ڈاکٹر محمد مشتاق خان، سابق امیر جماعت اسلامی آزاد کشمیر عبدالرشید ترابی، حریت کانفرنس کے کنوینئر غلام محمد صفی، سابق سفارتکار سید اشتیاق اندرابی، جموں و کشمیر کمیشن برائے انسانی حقوق کے چیئرمین ڈاکٹر نزیر گیلانی، شہید مقبول بٹ کے صاحبزادے جاوید مقبول بٹ، آزاد کشمیر یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر ڈاکٹر کلیم عباسی، سابق وزیر آزاد کشمیر فرزانہ یعقوب، سابق ایڈیشنل آئی جی پولیس آزاد کشمیر فہیم عباسی، سابق سیکریٹری کشمیر خواجہ سلیم بسمل، بریگیڈیئر (ر) الطاف احمد، سابق ایڈیشنل سیکریٹری سید سلیم گردیزی، مسعود رضا، ڈاکٹر انیس عباسی، شفیق بٹ ، ڈپٹی سیکریٹری جماعت اسلامی پاکستان سید فراست شاہ، مرکزی سیکرٹری اطلاعات شکیل احمد ترابی، سمیت دیگر شخصیات شریک ہوئیں۔
حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ ماضی میں مقبوضہ کشمیر کے مسئلے پر مشاورتیں، مظاہرے اور سرگرمیاں ہوتی تھیں، لیکن افسوس کہ آج ہمیں آزاد کشمیر کی صورتحال پر اکٹھا ہونا پڑ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی نے اس بحران کے حل کے لیے سیاسی قیادت اور حکومتی ذمہ داران سے رابطے کیے ہیں، جبکہ اس نشست کا مقصد بھی یہی ہے کہ آزاد کشمیر کی ابتر صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے اجتماعی تجاویز سامنے لائی جائیں۔ انہوں نے کہا کہ مسئلے کے حل کے لیے مختصر اور طویل المدتی دونوں سطحوں پر اقدامات کی ضرورت ہے۔ ایک لحاظ سے صورتحال جنگ جیسی کیفیت اختیار کر چکی ہے، اگر کوئی غلط قدم اٹھایا گیا تو خونریزی ہو سکتی ہے اور دشمن کو ایک نیا موقع مل سکتا ہے۔
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ ریاست پاکستان کو اس معاملے میں سست روی یا جمود کا شکار نہیں ہونا چاہیے۔ جوائنٹ ایکشن کمیٹی پہلے لانگ مارچ پر مصر تھی، تاہم اب اس نے مارچ روک کر مذاکرات کے لیے آمادگی ظاہر کی ہے، اس لیے حکومت کو اس موقع سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ہم کسی فریق کو غلط قرار دیے بغیر مسئلے کا حل چاہتے ہیں، کیونکہ الزام تراشی سے آگے نہیں بڑھا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ اقدامات کے نتیجے میں پیدا ہونے والی بداعتمادی اور نفرت کو ختم کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس مسئلے کو درد دل کے ساتھ حل کرنے کے لیے کردار ادا کر رہے ہیں اور کسی کا مینڈیٹ لے کر نہیں بلکہ قومی مفاد میں کوشش کر رہے ہیں۔
حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ اگرچہ تمام ادارے فوری طور پر بات چیت کے لیے تیار نہیں، تاہم مسئلے کے حل کے لیے آگے بڑھنا ضروری ہے۔ عوام، دانشوروں اور قومی شخصیات کی حمایت اور تجاویز کی ضرورت ہے اور جماعت اسلامی اپنی مقدور بھر کوششیں جاری رکھے گی۔
شرکاء نے اظہار خیال کرتے ہوئے آزاد کشمیر کی کشیدہ صورتحال پر حافظ نعیم الرحمن کی کوششوں کو سراہا اور کہا کہ تمام فریقین کو صبر و تحمل اور بردباری کا مظاہرہ کرتے ہوئے بحران کا حل تلاش کرنا چاہیے۔
شرکاء نے کہا کہ امیر جماعت اسلامی پاکستان اور ان کی قائم کردہ کمیٹی کی کوششوں کے نتیجے میں جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے مارچ آگے نہ بڑھانے کا فیصلہ کیا اور مذاکرات پر آمادگی ظاہر کی۔ حکومت کو چاہیے کہ وقت ضائع کیے بغیر مذاکرات کا عمل شروع کرے تاکہ کسی بڑے نقصان سے بچا جا سکے۔
مشاورتی مجلس نے کہا کہ صورتحال کو مزید خراب ہونے سے روکنا ضروری ہے کیونکہ پہلے ہی پیدا ہونے والی کشیدگی سے تحریک کشمیر کو نقصان پہنچا ہے جبکہ بھارت اس صورتحال سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کر سکتا ہے۔
شرکاء نے حافظ نعیم الرحمن سے کہا کہ وہ اپنی کوششیں جاری رکھیں اور ضرورت کے مطابق قومی سطح پر مشاورت کا عمل آگے بڑھائیں۔ انہوں نے حکومت اور متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ وہ حالات کی سنگینی کا ادراک کرتے ہوئے فوری اقدامات کریں۔
مجلس نے آزاد کشمیر میں اشیائے خوردونوش اور ادویات کی فراہمی یقینی بنانے، انٹرنیٹ سروس کی بندش ختم کرنے اور عوامی مشکلات کے خاتمے کا بھی مطالبہ کیا۔