ظلم و جبر کا نظام مسلط کرنے میں تمام حکمران پارٹیاں شامل ہیں ،حافظ نعیم الرحمٰن
4گھنٹے پہلے
ظلم و جبر کا نظام مسلط کرنے میں تمام حکمران پارٹیاں شامل ہیں ،حافظ نعیم الرحمٰن
سندھ میں پیپلز پارٹی کی 18 سال سے حکومت ہے۔ کراچی کے شہری پانی سے محروم ہیں، کراچی میں ممبر شپ مہم کے کیمپوں کا دورہ
پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم نورا کشتی میں لگے ہیں۔ قومی و بلدیاتی انتخابات میں جماعت اسلامی کے مینڈیٹ پر ڈاکا ڈالا گیا*
امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ عوام پر ظلم و استحصال اور جبر کا نظام مسلط کرنے میں تمام حکمران پارٹیاں شامل ہیں،ان پارٹیوں کا عام لوگوں سے کوئی تعلق نہیں بلکہ یہ جاگیرداروں، وڈیروں، آٹا مافیا، چینی مافیا کا گٹھ جوڑ ہیں ۔ حکمرانوں کو عوام کی تکالیف ، مسائل اور مشکلات سے کوئی سرو کار نہیں ، عوام 10 سے 12 گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ، سڑکیں نہ ہونے اور ٹرانسپورٹ کی عدم دستیابی کا شکار ہیں۔ سندھ میں پیپلز پارٹی کی 18 سال سے حکومت ہے۔ کراچی کے شہری پانی کی بوند بوند کو ترس رہے ہیں۔ پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم نورا کشتی میں لگے ہوئے ہیں۔ قومی و بلدیاتی انتخابات میں جماعت اسلامی کے مینڈیٹ پر ڈاکا ڈالا گیا۔ جماعت اسلامی کے جیتے ہوئے ٹاؤنز و یوسیز پر قبضہ کیا گیا۔ قومی انتخابات میں ایم کیو ایم نے ایک یوسی تک نہیں جیتی اسے 17 قومی اسمبلی کی نشستیں دے دی گئیں۔ قوم حق و انصاف کی بالادستی اور اپنے جائز و قانونی حقوق کے حصول کے لیے جماعت اسلامی کا ساتھ دے ، ممبر بنیں اور قوت بنیں ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے اتوار کے روز ہسپتال چورنگی ضلع ملیر اور مشرف کالونی ضلع کیماڑی میں جماعت اسلامی کے تحت جاری ملک گیر ممبر شپ مہم کے سلسلے میں لگائے گئے کیمپ کے دورے کے موقع پر شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ ممبر شپ ڈرائیو کیمپ سے قائم مقام امیر جماعت اسلامی کراچی و اپوزیشن لیڈر کے ایم سی سیف الدین ایڈوکیٹ،امیر جماعت اسلامی ضلع ملیر سید مفخر علی،قائم مقام سیکریٹری حافظ عبدالطیف عباسی،یوسی چیئر مینز ودیگر نے بھی خطاب کیا۔ اس موقع پر ڈپٹی سیکرٹری کراچی یونس بارائی، سکریٹری اطلاعات زاہد عسکری،سابق امیر ضلع ملیر محمد اسلام ودیگر بھی موجود تھے ۔مشرف کالونی میں امیر ضلع کیماڑی مولانا فضل احد و دیگر نے بھی خطاب کیا ،حافظ نعیم الرحمن کی آمد پر ان کا پُر جوش نعروں سے شاندار استقبال کیا گیا اور پھولوں کی پتیاں نچھاور کی گئیں، اس موقع پر امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے شہریوں کو ممبر شپ فارم بھرواکر جماعت اسلامی کا ممبر بنایا ۔ حافظ نعیم الرحمن نے اہلیان ملیر کا شاندار استقبال کرنے پر شکریہ ادا کیا ،جماعت اسلامی عوامی مسائل کے حل کی توانا آواز ہے۔ جماعت اسلامی عوام کو رنگ ، نسل،زبان ، قوم و مذہب کی بنیاد پر تقسیم بھی نہیں کرتی۔ تعصبات کے زہر کے ساتھ کبھی بھی ہمارا معاشرہ پنپ نہیں سکتا۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی نوجوانوں کو تعلیم کے میدان میں آگے بڑھا رہی ہے۔ بنوقابل پروگرام میں 16 لاکھ سے زائد مرد و خواتین شامل ہوچکے ہیں۔ جماعت اسلامی کے دباؤ کے نتیجے میں پیٹرول کی قیمت کم کی گئی ہے۔ پیٹرول کی قیمت 225 روپے فکس کرکے3 سال کے منجمد کی جائے تاکہ عوام کو حقیقی ریلیف ملے اور ملک کی صنعت بھی ترقی کرے ، وزیر اعظم نے کم سے کم مزدور کی تنخواہ 41 ہزار روپے مختص کیا ہے۔ وزیر اعظم 41 ہزار روپے ماہانہ میں گھر کے اخراجات کا نظام چلا کر تو دکھائیں کہ وہ کیسے گزارا کرے گا۔ فیکٹریوں میں 90 فیصد لوگ ٹھیکیداری نظام کے تحت کام کررہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ملک میں سود کا نظام قائم ہے جواللہ اور اس کے رسول سے جنگ کے مترادف ہے ۔ ایسے میں علمائے کرام مسلک اور فرقوں سے بالا تر ہو کر سودی نظام معیشت اور ظالمانہ نظام جس نے عوام کو جکڑا ہوا ہے ’ کے خلاف متحد ہو کر اپنا کردار ادا کریں ۔سیف الدین ایڈوکیٹ نے کہا کہ پاکستان میں موجود نظام عوام کا استحصال کررہا ہے۔ استحصالی قوتیں عوام کا خون نچوڑ کر خود عیاشیاں کررہی ہیں۔ عوام کے لیے پانی، بجلی، تعلیم،صحت ، ٹرانسپورٹ سمیت بنیادی سہولیات تک میسر نہیں ہے۔ امیر ضلع کیماڑی فضل احد نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی صوبائی حکومت کے 18سالہ بدترین دور حکمرانی میں کراچی مصیبت زدہ شہر بن گیا ہے،سب سے زیادہ ٹیکس دینے کے باوجود شہر مسائلستان بنا ہوا ہے۔ پیپلز پارٹی کی کرپشن کے نتیجے میں عوام مصیبت کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ مسئلہ پیسوں کا نہیں کرپشن اور نااہلی کا ہے جس کی وجہ سے شہری پریشان ہیں۔ ممبر شپ مہم جماعت اسلامی کی عوامی جدو جہد کی کڑی ہے ، ہم ایسا نظام لانا چاہتے ہیں جس میں کرپٹ اور نااہل قیادت کو ہمیشہ کے لیے خیر آباد کہا جائے۔ سید مفخر علی نے کہاکہ حافظ نعیم الرحمن کی اپیل پر ملک گیر سطح پر ممبر شپ ڈرائیو سے جدو جہد کو مہمیز ملی ہے۔ ضلع ملیر کو دیے اہداف کے مطابق علاقے اور ضلع کی سطح پر عوام جماعت اسلامی کے ممبر بن رہے ہیں


