News Detail Banner

بصارت اور بصیرت رکھنے والوں کو ملک کی دہلیز پر انقلاب کے قدموں کی چاپ سنائی دے رہی ہے۔ڈاکٹر اسامہ رضی

3دن پہلے

بصارت اور بصیرت رکھنے والوں کو ملک کی دہلیز پر انقلاب کے قدموں کی چاپ سنائی دے رہی ہے۔ڈاکٹر اسامہ رضی
نوے فیصد سے زیادہ لوگ ملک پر مسلط آمریت کو مسائل کی اصل جڑ قرار دیتے ہیں۔
نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان کا ”جماعت اسلامی کو دعوتی میدان میں درپیش مشکلات اور ان کا سدباب“کے عنوان سے منصورہ میں منعقدہ مذاکرہ سے صدارتی خطاب۔مذاکرہ سے ڈپٹی سیکریٹری شیخ عثمان فاروق اور امیر جماعت اسلامی پنجاب شمالی ڈاکٹر طارق سلیم نے بھی خطاب کیا۔

نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان ڈاکٹر اسامہ رضی نے کہا ہے کہ انگریز کا پروردہ ناجائر مقتدرطبقہ جیسے جیسے طاقتور اور مضبوط ہورہا ہے پاکستان کی نظریاتی شناخت کمزور ہورہی ہے۔یہ نہ صرف پاکستان کے نظریے بلکہ عوام کی بھی ناکامی ہے۔اقتدار پر قابض اشرافیہ اور اس کے سرپرستوں کو عوام اچھی طرح جان اور پہچان چکے ہیں اور بجا طور پر ملک کے مسائل اور بحرانوں کا اصل ذمہ دار اسی ٹولے کو سمجھتے ہیں۔عوام نے بیماری اور اس کا علاج دریافت کرلیا ہے۔نوے فیصد سے زیادہ لوگ ملک پر مسلط آمریت کو مسائل کی اصل جڑ قرار دیتے ہیں۔ ظلم کا یہ نظام ٹوٹے گا تو نیا نظام آئے گا۔ ملک میں ذہنی انقلاب آچکا ہے جو سیاسی نظام کا پیش خیمہ بن کررہے گا۔ جس دن عوام اس بیماری سے نجات کے لئے اٹھ کھڑے ہوئے مسائل خود بخود حل ہوجائیں گے اور بحرانوں سے جان چھوٹ جائے گی۔جماعت اسلامی کا بنیادی مقصد ہی اللہ کی زمین پر اس کے نظام کا نفاذ ہے اور یہی اصل انقلاب ہے۔جماعت اسلامی کی دعوت انقلابی دعوت ہے اور یہ دعوت نوجوانوں میں تیزی سے مقبول ہورہی۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے اپنی صدارت میں ”جماعت اسلامی کو دعوتی میدان میں درپیش مشکلات اور ان کا سدباب کے عنوان سے منصورہ میں منعقدہ مذاکرہ سے خطاب کرتے ہوئے کیا مذاکرہ سے ڈپٹی سیکریٹری شیخ عثمان فاروق اور جماعت اسلامی پنجاب شمالی کے امیر ڈاکٹرطارق سلیم نے بھی خطاب کیا۔ اس موقع پر ناظم تربیت حافظ سیف الرحمن اور ڈاکٹر عنایت الرحمن بھی موجود تھے۔
ڈاکٹر اسامہ رضی نے کہا کہ جماعت اسلامی ملک میں قرآن و سنت کے عادلانہ نظام کے نفاذ کی جدوجہد کررہی ہے تاکہ عام آدمی کو انصاف،تعلیم،صحت اور روزگار کی سہولتیں میسر آسکیں۔جماعت اسلامی کی دعوت عام آدمی کے دل کی آواز اور عوام کی امنگوں کی ترجمان بن چکی ہے۔ ریاستی نظام کو دین کے مطابق بنانے کا تقاضا آئین و دستور کا ہے اور آئین میں یہ تسلیم کیا گیا ہے کہ ملک میں کوئی قانون قرآن و سنت کے خلاف نہیں بنے گا۔ جماعت اسلامی انگریز کے چھوڑے ہوئے نظام کی جگہ آئین پاکستان کو اس کی روح کے مطابق نافذ کرنے کی جدوجہد کررہی ہے۔ ہم آئین و قانون کی سربلندی اور عوام کی آزادی کی جنگ لڑرہے ہیں۔جاگیرداروں وڈیروں،بیوروکریسی اور اسٹیبلشمنٹ نے ملک توڑنا قبول کرلیا مگر جمہوریت کو قبول نہیں کیا۔ عوام کی رائے کے بغیر قائم ہونے والا ہر نظام ظلم و جبر کا نظام ہے جس کا مقصد ہی انسانوں کو غلام بنا کر رکھنا ہے۔اقتدار پر مسلط ٹولہ ظلم و جبر کے ذریعے اپنا تسلط قائم رکھناچاہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اقتدار دین کے تابع نہ ہوتو ظلم و جبر کا ذریعہ بن جاتا ہے۔
مذاکرہ سے خطاب میں شیخ عثمان فاروق نے کہا کہ اسٹیلشمنٹ کی سرپرستی میں بننے والی سیاسی پارٹیاں اور مسلکوں کی بنیاد پر بننے والی مذہبی جماعتیں جماعت اسلامی کی دعوت میں اصل رکاوٹ ہیں۔سرمایہ دارانہ نظام اور سودی معیشت کے حامی کسی صورت بھی اسلامی نظام کو قبول کرنے کے لئے تیار نہیں۔پاکستان ایک نظریہ پر قائم ہوا اور اسی نظریہ پر قائم رہے گا جماعت اسلامی کی دعوت کا مقصد بھی ملک کو اس کے اساسی نظریہ پر قائم رکھنا ہے۔انہوں نے کہا کہ وقت کا طاغوت اپنی تمام تر سازشوں کے باوجود ناکام و نامراد رہے گا۔اللہ تعالیٰ ابرہا کے ہاتھیوں کے لشکر ابابیلوں سے مرواسکتا ہے۔افغانستان میں روس اور امریکہ کو شکست فاش سے دو چار کرسکتا ہے تو پاکستان میں بھی اپنے دین کی سربلندی کے لئے جدوجہد کرنے والوں کی ضرور مدد کرے گا۔
ڈاکٹر طارق سلیم نے کہا کہ اقتدار پر قابض ٹولہ ظلم و جبر کے نظام کو قائم رکھنے کے لئے ہر حربہ استعمال کررہا ہے۔اسلامی انقلاب کے بڑھتے قدموں نے اس ٹولے کی نیند یں اڑادی ہیں۔وہ اسلامی انقلاب کو اپنے لئے سب سے بڑا خطرہ اور جماعت اسلامی کو بجا طور پر اسلامی انقلاب کی داعی جماعت سمجھتے ہیں اس لئے سیاسی و مذہبی جماعتوں کی انہیں کوئی پرواہ نہیں ہوتی۔جب ضرورت پڑتی ہے یہ نام نہاد سیاسی و مذہبی جماعتیں آمریت کی دست و بازوبن جاتی ہیں۔ نظام کی تبدیلی کی بات صرف جماعت اسلامی کرتی ہے اس لئے یہ ٹولہ جماعت اسلامی کو اپنا سب سے بڑا مخالف سمجھتا ہے اور اس کی دعوت کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کرتا ہے۔