News Detail Banner

حافظ نعیم الرحمن کا عید الاضحی کے بعد پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے خلاف پہیہ جام ہڑتال کا اعلان

2دن پہلے

*حافظ نعیم الرحمن کا عید الاضحی کے بعد پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے خلاف پہیہ جام ہڑتال کا اعلان*

*پاکستان میں معاشی بحران کی ذمہ داری عالمی حالات پر ڈالنا درست نہیں، حکمرانوں کی ناقص پالیسیوں نے عوام کو مشکلات میں دھکیلا ہے*

*ہم نے پیٹرولیم مصنوعات پر 117روپے سے زائد کی لیوی پر آئینی عدالت میں چیلنج کیا ہوا ہےٗ ادارہ نورحق میں پریس کانفرنس سے خطاب*

*ملک میں اگر کوئی چیز ”شہباز اسپیڈ“ کی طرح نظر آتی ہے تو وہ صرف پیٹرولیم لیوی اور مہنگائی میں اضافہ ہے،امیر جماعت اسلامی پاکستان*

*ریڈ لائن سمیت سندھ حکومت کا کوئی منصوبہ مکمل نہیں ہورہا، سالڈ ویسٹ مینجمنٹ کا 47 ارب روپے کا بجٹ ہے لیکن کارکردگی صفر ہے*

کراچی /22مئی 2026R
امیرجماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے ادارہ نورحق میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے اور بڑھتی ہوئی مہنگائی کے خلاف ملک گیر احتجاجی تحریک کے حوالے سے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکمرانوں کے ظلم کے خلاف جماعت اسلامی کی ملک گیر تحریک جاری ہے۔ اسلام آباد میں بڑے احتجاجی مارچ کے آغاز کے بعد جمعہ کو پورے ملک میں احتجاجی جلسے اور مظاہرے کیے گئے،حکومت پیٹرولیم لیوی کی نا جائز اور ظالمانہ وصولی ختم کرنے اور اپنی شاہ خرچیاں ترک کرنے کے بجائے سارا بوجھ عوام پر ڈال رہی ہے، انہوں نے اعلان کیا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے اور بڑھتی ہوئی مہنگائی کے خلاف عید الاضحی کے بعد پہیہ جام ہڑتال کی کال دی جائے گی، ملک بھر میں عوام سڑکوں پر نکل کر احتجاج کریں گے۔ پاکستان میں معاشی بحران کی ذمہ داری عالمی حالات پر ڈالنا درست نہیں، حکمرانوں کی ناقص پالیسیوں نے عوام کو مشکلات میں دھکیلا ہے۔ پیٹرولیم مصنوعات پر 117 روپے سے زائد کی لیوی وصول کی جارہی ہے، جسے جماعت اسلامی نے آئینی عدالت میں چیلنج کیا ہوا ہے۔ 2025 کے فنانس بل کے ذریعے کی گئی قانون سازی عوام دشمن اقدام ہے۔ پیٹرولیم ڈیولپمنٹ لیوی کے نام پر اب تک 8 ہزار 68 ارب روپے وصول کیے جاچکے ہیں، مگر آئل ریفائنریوں کی بہتری کے لیے اس رقم کا پانچ فیصد بھی خرچ نہیں کیا گیا۔ 2001 سے تمام حکومتیں مسلسل لیوی وصول کرتی آرہی ہیں لیکن کسی نے بھی توانائی کے شعبے کی حقیقی اصلاح نہیں کی، جس کے نتیجے میں قومی معیشت کو شدید نقصان پہنچا۔آئی ایم ایف حکومت سے یہ نہیں پوچھتا کہ پہلے سے وصول شدہ رقم کہاں خرچ ہوئی، بلکہ مزید 18 فیصد لیوی بڑھانے اور 430 ارب روپے کے اضافی ٹیکس لگانے کا مطالبہ کررہا ہے۔ ملک میں اگر کوئی چیز ”شہباز اسپیڈ“ کی طرح نظر آتی ہے تو وہ صرف پیٹرولیم لیوی اور مہنگائی میں اضافہ ہے۔حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ ریڈ لائن سمیت سندھ حکومت کا کوئی منصوبہ مکمل نہیں ہورہا۔ سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ کا 47 ارب روپے کا بجٹ ہے مگر اس میں سے تین ارب روپے بھی درست انداز میں خرچ نہیں کیے جاتے۔ بورڈ کی کارکردگی صفر ہے، عیدالاضحیٰ قریب ہونے کے باوجود ٹاؤنز کی سطح پر صفائی ستھرائی کے معاہدے نہ ہونے کے باعث کراچی میں آلائشوں اور گندگی کا سنگین بحران پیدا ہوسکتا ہے۔ آئین کے آرٹیکل 140-Aکے تحت مقامی حکومتوں کو آئینی، مالیاتی، سیاسی اور انتظامی اختیارات دیے جانے چاہییں اور اس حوالے سے آئین میں مستقل باب شامل کیا جانا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ بلاول بھٹو کی جانب سے 300 یونٹ مفت بجلی دینے کے دعوے کا کوئی وجود نظر نہیں آتا۔ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کرپشن کا گڑھ ہے اس کا فارنزک آڈٹ کیا جائے،یہ پروگرام عوام کو خودمختار بنانے کے بجائے بھیک کی طرف دھکیل رہا ہے،حافظ نعیم الرحمن نے مزید کہا ہے کہ عوام مہنگی بجلی، بدترین لوڈشیڈنگ اور ٹیکسوں کی بھرمار کے عذاب سے دوچار ہیں۔ لوگوں نے قرض لے کر سولر سسٹم نصب کیے اور اب حکومت ان پر بھی ٹیکس لگانے کی تیاری کررہی ہے۔ایک جانب عوام دو وقت کی روٹی کو ترس رہے ہیں جبکہ دوسری جانب مریم نواز اربوں روپے کے جہاز میں سفر کررہی ہیں، چیئرمین سینیٹ نے 9کروڑ روپے کی گاڑی حاصل کررکھی ہے اور بیوروکریسی بڑی بڑی گاڑیوں میں بیٹھ کر عوام کی قسمت کے فیصلے کررہی ہے۔حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ فلسطین میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیل کی دہشت گردی مسلسل جاری ہے اور معصوم فلسطینی عوام خصوصاً بچوں کو بدترین نسل کشی کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔ اقوام متحدہ اور عالمی طاقتوں کی خاموشی لمحہ فکریہ ہے، جبکہ غزہ میں آج بھی امداد پوری طرح نہیں پہنچ رہی۔ اسرائیل تمام تر ظلم و جبر کے باوجود فلسطینی عوام استقامت اور حوصلے کے ساتھ ڈٹے ہوئے ہیں، اہل غزہ نے اپنی قربانیوں سے پوری دنیا میں اسرائیل اور امریکا کی حقیقت اور حیثیت بے نقاب کردی ہے۔ امریکا اور اسرائیل کی مسلط کردہ جنگ کے باعث پورا خطہ شدید بحران کا شکار ہورہا ہے۔خود امریکا کے اندر بھی عوام صدر ٹرمپ کی پالیسیوں کے خلاف سراپا احتجاج ہیں، دنیا بھر میں انصاف پسند قوتوں کو اسرائیلی دہشت گردی کے خلاف آواز بلند کرنی چاہیے۔ پاکستان سمیت مسلم اور غیر مسلم ممالک ایک مرتبہ پھر متحد ہوکر فلسطینی عوام کا مقدمہ پوری قوت سے لڑیں۔حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ حکومتی ترجمان خرم شہزاد کہتے ہیں کہ پیٹرولیم لیوی کا اثر موٹر سائیکل استعمال کرنے والوں پر نہیں پڑتا۔ ایک موٹر سائیکل سوار روزانہ ایک لیٹر پیٹرول استعمال کرتا ہے تو وہ تقریباً 117 روپے لیوی اور 40 سے 50 روپے اضافی ٹیکس ادا کررہا ہے، جبکہ موٹر سائیکل استعمال کرنے والا عموماً غریب اور متوسط طبقے سے تعلق رکھتا ہے۔ ملک میں تقریباً ڈھائی کروڑ موٹر سائیکلیں موجود ہیں، اگر ان میں سے صرف ایک کروڑ روزانہ ایک لیٹر پیٹرول استعمال کریں تو حکومت روزانہ تقریباً ڈیڑھ ارب روپے اور سالانہ 450 ارب روپے صرف اس مد میں وصول کررہی ہے۔ صرف رواں مالی سال کے 9مہینوں میں حکومت 1200 ارب روپے کی پیٹرولیم لیوی وصول کرچکی ہے۔ حافظ نعیم الرحمن نے صومالیہ میں بحری قزاقوں کے ہاتھوں اغوا کیے گئے پاکستانیوں کے معاملے پر حکومتی خاموشی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ حکومت اس حوالے سے اپنا کردار ادا کرتی نظر نہیں آرہی۔ انہوں نے فلوٹیلا میں شریک بین الاقوامی کارکنوں پر اسرائیلی تشدد کی بھی شدید مذمت کی اور سوال کیا کہ اقوام متحدہ، انسانی حقوق کے عالمی ادارے اور امریکا میں انسانی حقوق کے دعوے دار کہاں ہیں۔پریس کانفرنس میں قائم مقام امیر جماعت اسلامی کراچی و اپوزیشن لیڈر کے ایم سی سیف الدین ایڈوکیٹ،نائب امیر کراچی مسلم پرویز،جماعت اسلامی کراچی کے سکریٹری اطلاعات زاہد عسکری،سینئر ڈپٹی سیکریٹری اطلاعات صہیب احمد، پبلک ایڈ کمیٹی جماعت اسلامی کراچی کے سکریٹری نجیب ایوبی، نائب صدر عمران شاہد و دیگر بھی موجود تھے۔