News Detail Banner

جماعت اسلامی کی بدل دو نظام تحریک کا بنیادی نقطہ عدلیہ کی آزادی اور آئین کی بحالی ہے۔حافظ نعیم الرحمن

5گھنٹے پہلے

جماعت اسلامی کی بدل دو نظام تحریک کا بنیادی نقطہ عدلیہ کی آزادی اور آئین کی بحالی ہے۔حافظ نعیم الرحمن
عدلیہ ہی نہیں انصاف کے پورے نظام کو تباہ کردیا گیا۔وکلاء آئین کی بحالی کے مشن کو لیکر اٹھیں۔
امیر جماعت اسلامی پاکستان کا منصورہ میں لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن،لاہور بار،پاکستان ٹیکس بار ایسوسی ایشن اور پاکستان بزنس فورم کے عہدیداروں سے خطاب
امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ ملک آئین و قانون کی بالادستی کے بغیر آگے نہیں بڑھ سکتا۔دو خاندانوں کی حکومت نے مرضی کی ترامیم کرکے آئین کا حلیہ بگاڑ دیا گیا ہے۔ عدلیہ ہی نہیں انصاف کے پورے نظام کو تباہ کردیا گیا۔ امیر دولت کے بل بوتے پرانصاف خرید لیتا ہے اور غریب ساری زندگی انصاف کے لئے عدالتوں میں دھکے کھاتارہتا ہے۔مگر اسے انصاف نہیں ملتا۔یہ ظلم کا نظام ہے جب تک مسلط رہے گا ترقی و خوشحالی کے خواب کو تعبیر نہیں مل سکتی۔عدلیہ کی آزادی اور آئین کی بحالی جماعت اسلامی کی بدل دو نظام تحریک کا بنیادی نقطہ ہے۔ وکلاء آئین کی بحالی کے مشن کو لیکر اٹھیں اور جماعت اسلامی کی بدل دو نظام تحریک کا ساتھ دیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلامک لائیرز موومنٹ کے زیر اہتمام منصورہ میں منعقدہ لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن، لاہور بار ایسوسی ایشن، پاکستان ٹیکس بار ایسوسی ایشن، پاکستان بزنس فورم کے نو منتخب اور اسلامک لائرز موومنٹ پاکستان کے عہدیداران کے اعزاز میں اپنی طرف سے دیئے گئے استقبالیہ کے موقع پر خطا ب کرتے ہوئے کیا۔استقبالیہ تقریب سے امیر حلقہ لاہور ضیاء الدین انصاری ایڈووکیٹ،صدر اسلامک لائیرز موومنٹ اسد منظور بٹ ایڈووکیٹ،صدر لاہورہائی کورٹ بارایسوسی ایشن بابر مرتضٰی خان،صدر لاہور بار ایسوسی ایشن عرفان حیات باجوہ،صدر پاکستان ٹیکس بار ایسوسی ایشن شیخ احسان الحق اور پاکستان بزنس فورم کے صدر ڈاکٹر مشتاق مانگٹ نے بھی خطاب کیا۔تقریب میں سابق صدور لاہور بار ایسوسی ایشن شفقت محمود چوہان،چوہدری ذوالفقار علی ایڈووکیٹ ممبران پنجاب بار کونسل رانا حسیب،زبیر کسانہ،ریحان خان سیکریٹری پاکستان انٹرنیشنل بزنس فورم اعجاز تنویر اور عبدالودود علوی سمیت سینئر وکلاء اور تاجر نمائندوں نے شرکت کی۔
حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ معاشرہ ظلم کے نظام پر قائم نہیں رہ سکتا۔ تعلیمی،معاشی اور معاشرتی بگاڑ کو سدھارنے کے لئے نظام انصاف کی اصلاح ضروری ہے۔ ہمارا نظام انصاف ایک تعفن زدہ لاش بن چکا ہے۔ آئین کے ساتھ کھلواڑ کرنے والے اعلیٰ عہدوں پر فائز ہوجاتے ہیں۔جن لوگوں کو انصاف کے کٹہرے میں کھڑا ہونا چاہئے وہ عدالتوں کا مذاق اڑاتے ہیں اور عدالتیں بھی ظلم کے اس نظام کے کل پرزے بن گئی ہیں۔ملک کو پولیس سٹیٹ بنا دیا گیا ہے، وڈیرے،جاگیردار اور سرمایہ دارعدالتوں اور تھانیداروں کو خرید کر عوام کو یرغمال بناتے اور استحصال کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اقتدار پر مافیاز نے قبضہ کرلیا ہے،شوگر مافیا،ڈرگ مافیا،آٹا مافیا اور پٹرول مافیا عوام کا خون نچوڑ رہا ہے۔ احتساب کا کوئی نظام نہیں موٹر سائیکل سوارمزدوروں اور طالب علموں سے روزانہ پٹرول لیوی کی مد میں کروڑوں روپے اکٹھے کئے جارہے ہیں۔ ٹیکس غریب،کسان اور تنخواہ دار طبقہ دیتا ہے،سرمایہ داروں اور جاگیر داروں کو کوئی پوچھنے والا نہیں۔یہ مافیاز غریبوں کے ٹیکسوں پر عیش کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ایف بی آر کے 25ہزار سے زائد ملازمین ہاتھ پر ہاتھ دھرے دفتروں میں بیٹھے رہتے ہیں اربوں روپے کی تنخواہیں لیتے ہیں،کوئی ان سے پوچھنے والا نہیں کہ وہ کرتے کیا ہیں؟۔
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ عوام کی تائید کے بغیر کوئی حکومت مشکل حالات کا مقابلہ نہیں کرسکتی،عالمی خاص طور پرخطے کے حالات کا تقاضا ہے کہ ملک میں عوام کی نمائندہ حکومت ہو۔انہوں نے کہا کہ جن لوگوں کو مسلط کردیا گیا ہے وہ تو بلدیاتی انتخابات کروانے سے بھی ڈرتے ہیں اور یوسی چیئرمین کو بھی براہ راست عوام کے ووٹوں سے منتخب کروانے کے لئے تیا ر نہیں ہیں۔پہلے خرید و فروخت کا جو کھیل سینیٹ اور اسمبلیوں میں کھیلا جاتا تھا اب وہی کھیل ملک کی ہزاروں یونین کونسلوں تک پہنچ جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ وکلاء آئین کے تحفظ اور قانون کی بالا دستی کے لئے جماعت اسلامی کی تحریک کا ہراول دستہ بنیں۔