News Detail Banner

عوام مسائل کے حل اور تبدیلی کے لیے جماعت اسلامی میں شامل ہوں، حافظ نعیم الرحمن

3گھنٹے پہلے

عوام مسائل کے حل اور تبدیلی کے لیے جماعت اسلامی میں شامل ہوں، حافظ نعیم الرحمن
کارکنان جماعت اسلامی کے دفاتر کو عوامی مراکز بنائیں، نوجوانوں کو دین سے جوڑا جائے
جماعت اسلامی اقامت دین کی تحریک ہے، امیر جماعت اسلامی پاکستان کا اجتماعِ ارکان ملتان سے خطاب

امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے عوام تبدیلی کے لیے جماعت اسلامی میں شامل ہوں، کارکنان جماعت اسلامی کے دفاتر کو فعال اور عوام کی امیدوں کے مراکز بنائیں۔ نئی نسل کو دین سے جوڑنا ضروری ہے، موجودہ معاشرتی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے نوجوانوں میں مثبت سرگرمیوں کو فروغ دینا ہوگا۔ تنظیمی مضبوطی کے بغیر سیاسی یا عوامی کامیابی ممکن نہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ملتان میں ضلع ملتان کے اجتماعِ ارکان سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ امیر جماعت اسلامی پنجاب جنوبی سید ذیشان اختر، قیم پنجاب جنوبی ثنااللہ سہرانی اور امیر ضلع ملتان صہیب عمار صدیقی بھی اس موقع پر موجود تھے۔
حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ کارکنان جماعت اسلامی یقینی بنائیں کہ نچلی سطح تک رابطہ عوام، براہِ راست رسائی اور عملی کام کو ترجیح دی جائے۔ انہوں نے کارکنان کو ہدایت کی کہ وہ اپنے ذاتی اور گھریلو دائرے میں دعوت و تربیت کے عمل کو مضبوط بنائیں، خصوصاً نئی نسل کو دین اور جماعت اسلامی سے جوڑنے پر توجہ دیں۔ جماعت اسلامی کے دفاتر فعال ہوں گے تو نوجوانوں اور عام افراد کی زیادہ سے زیادہ شمولیت یقینی بنائی جا سکے گی۔ انہوں نے کہا کہ نظام کی تبدیلی کے بغیر عوام کو حقوق نہیں ملیں گے۔ پچیس اپریل سے بھرپور عوامی رابطہ مہم کا آغاز ہوگا۔
امیر جماعت اسلامی نے واضح کیا کہ جماعت اسلامی کوئی مفاداتی یا روایتی سیاسی جماعت نہیں بلکہ اقامتِ دین کی ایک سنجیدہ تحریک ہے، جہاں ذمہ داری کو اعزاز نہیں بلکہ امانت سمجھا جاتا ہے۔ انہوں نے کارکنان پر زور دیا کہ وہ اپنی نیت، کردار اور ذمہ داریوں کا مسلسل احتساب کرتے رہیں۔
ممبرشپ مہم کے حوالے سے امیر جماعت اسلامی نے ہدایت کی کہ اسے محض رسمی سرگرمی نہ سمجھا جائے بلکہ ایک مؤثر دعوتی موقع کے طور پر لیا جائے اور زیادہ سے زیادہ افراد تک پیغام پہنچایا جائے۔ اسی طرح بلدیاتی سطح پر مکمل تیاری اور ہر سطح پر نمائندگی کو یقینی بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ اجتماعِ ارکان جماعت اسلامی کا ایک مستقل اور نہایت اہم فورم ہے جہاں کارکنان اپنی کارکردگی کا جائزہ پیش کرتے ہیں، کمی بیشی پر کھل کر گفتگو کرتے ہیں اور آئندہ کے لیے واضح لائحہ عمل طے کرتے ہیں۔ اس فورم کا بنیادی مقصد ایسے معاملات کو سامنے لانا ہے جن پر جماعت یا نظم کو متوجہ کرنا ضروری ہو اور باہمی مشاورت کے ذریعے غلط فہمیوں کا ازالہ ممکن بنایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ ہر فرد کا ہر معاملے پر مکمل طور پر مطمئن ہونا ضروری نہیں، تاہم پالیسی، طریقہ کار اور لائحہ عمل کے حوالے سے مسلسل گفتگو کے ذریعے یکسوئی پیدا ہو جاتی ہے۔ اصل خرابی وہاں جنم لیتی ہے جہاں باہمی تعلقات میں دراڑ آتی ہے، جو بڑھتے بڑھتے سنگین صورت اختیار کر لیتی ہے اور اسی مرحلے پر منفی وسوسے اثر انداز ہوتے ہیں۔
امیر جماعت اسلامی نے اس بات پر زور دیا کہ جماعت میں اصلاح اور احتساب کا ایک منظم اور واضح طریقہ کار موجود ہے، جس میں سب سے پہلے باہمی سطح پر بات چیت، پھر نظم کے ذریعے مسائل کا حل اور ضرورت پڑنے پر متعلقہ فورمز پر گفتگو شامل ہے۔ تاہم ہر مرحلے پر نیت اصلاح ہونی چاہیے۔آخر میں امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ اگر کسی کارکن کو کسی تنظیمی فیصلے پر تحفظات ہوں تو وہ صبر، نظم کی پابندی اور اصلاح کے جذبے کے ساتھ اپنا کام جاری رکھے۔ جماعت میں بہتری اور اصلاح کے دروازے ہمیشہ کھلے ہیں، اس لیے اختلافات کو بڑھانے کے بجائے مثبت اور تعمیری انداز میں حل کیا جائے۔