News Detail Banner

پیپلز پارٹی نے کراچی کو تباہ و برباد کیا، میئر مسلط کرنے والے ہی اب اسے ٹھیک کریں، حافظ نعیم الرحمن

1گھنٹہ پہلے

پیپلز پارٹی نے کراچی کو تباہ و برباد کیا، میئر مسلط کرنے والے ہی اب اسے ٹھیک کریں، حافظ نعیم الرحمن

کراچی میں بااختیار سٹی گورنمنٹ قائم، پورے ملک میں بھی مقامی حکومتوں کا نظام لایا جائے،پریس کانفرنس سے خطاب

پاکستانی حکمران ایک طرف ٹرمپ کے غزہ بورڈ آف پیس میں شامل ہیں تو یہ ثالثی کیسے کرسکتے ہیں،پاکستان پیس بورڈ سے باہر نکلے

پاک سعودی دفاعی معاہدے میں ایران اور ترکی کو بھی شامل کیا جائے،خلیجی ریاستوں کو سمجھنا ہوگا کہ امریکی اڈے ان کی حفاظت کے لیے نہیں

امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے ہفتہ کے روز ادارہ نور حق میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پیپلز پارٹی18سال سے سندھ میں حکومت کر رہی ہے، اس نے کراچی کو تباہ وبرباد کردیا ہے،پیپلز پارٹی کا لوٹ مار اور کرپشن کے علاوہ کوئی کام نہیں، جن لوگوں نے کراچی پر پیپلز پارٹی کا میئر مسلط کیا ہے اب وہی اسے ٹھیک کریں،ہمارا واضح مطالبہ ہے کہ کراچی میں بااختیار سٹی گورنمنٹ قائم کی جائے اور پورے پاکستان میں بھی مقامی حکومتوں کا نظام لایا جائے۔ مسلم حکمرانوں کو کھل کر کہنا ہوگا کہ ایران پر حملہ امریکہ اور اسرائیل کی دہشت گردی ہے، پاکستانی حکمران ایک طرف ٹرمپ کے غزہ بورڈ آف پیس میں شامل ہیں تو یہ پھر ثالثی کیسے کرسکتے ہیں، جب ٹرمپ کو سربراہ قبول کرلیا اور نوبل پرائز کے لیے بھی نامزد کرد یا تو پھر ثالثی کیسی؟ثالثی کے لیے پوزیشن نیوٹرل ہونا ضروری ہے، ٹرمپ کے نام نہاد بورڈ آف پیس کی کوئی قانونی حیثیت نہیں کیونکہ یہ اقوام متحدہ کے مقابلے میں قائم کیا گیا ہے، اس بورڈ آف پیس کے نمائندے نے کہا ہے کہ ہم حماس کو غیر مسلح کریں گے، جب ہی امن کا عمل آگے بڑھے گا، گویا جس سے امن کا معاہدہ کیاگیا ہے،اسی کے خلاف بات کی جارہی ہے،پاکستان کی اس بورڈ آف پیس میں شامل رہنے کا کوئی اخلاقی،قانونی،انسانی جواز باقی نہیں رہا، اس لیے پاکستان نہ صرف خود بلکہ سعودی عرب، ترکی اورتمام خلیجی ریاستوں کو بھی اس بورڈ آف پیس سے باہر لے آئے،ہم اسپین کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں جس نے کھل کر امریکہ کی مذمت کی، پاکستان کا ایران اور سعودی عرب کے درمیان ثالثی کا کردار لائق تحسین تھا،اب ضروری ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب کے دفاعی معاہدے میں ایران اور ترکی کو بھی شامل کیا جائے اس کے بعد باقی خلیجی ریاستیں بھی اس معاہدے میں شامل ہوجائیں گی اور اس طرح وہ بلاک بنے گا جو امت مسلمہ کے اتحاد کی علامت ہوگا اور اسرائیل کو کمزور کرے گا جب تک اسرائیل کا ناسور موجود ہے، اس پورے خطے میں امن قائم نہیں ہوسکتا، کیونکہ یہ ایک ناجائز ریاست ہے، خلیجی ریاستوں کو اب یہ سمجھنا ہوگا کہ امریکی اڈے ان کی حفاظت کے لیے نہیں بلکہ اسرائیل کی حفاظت اور اس کو طاقتور بنانے کے لیے ہیں، لہٰذا خلیجی ریاستیں جنہوں نے ہزاروں ارب ڈالرز کے جو معاہدے کیے ہوئے ہیں ان پر نظر ثانی کریں۔ہمارا مطالبہ ہے کہ موجودہ صورتحال میں آرمی افسران سمیت کوئی سرکاری گاڑی1300سی سی سے زیادہ نہیں ہونی چاہیے، جماعت اسلامی کے بلدیاتی نمائندے 1300سی سی سے زیادہ کی گاڑی استعمال نہیں کرتے،وزیر اعظم نے حاتم طائی کی قبر پر لات مارتے ہوئے کہا ہے کہ پیٹرول اور ڈیزل میں 200اور 95 روپیاضافے کی سمری آئی ہے لیکن میں نے مسترد کردی ہے، سمری بھی آپ کی اور مسترد بھی آپ کررہے ہیں اور بتاایسے رہے ہیں کہ جیسے جاپان سے سمری آئی تھی، پاکستان میں پیٹرول پر فی لیٹر 120سے 125روپے ٹیکس وصول کیا جارہا ہے، جس میں 105روپے لیوی ہے، جس کا تعلق پیٹرول کی قیمت سے نہیں ہے، اسکول،کالجز اوریونیورسٹیز سمیت تمام تعلیمی ادارے کھولے جائیں، پاکستان ایران تجارت کو بندرکھنے کا اب کوئی جواز باقی نہیں رہا، اس تجارت کو فی الفور بحال ہونا چاہیے اور آئی پی پیز کی ادائیگیاں بھی بند کرنی چاہیے لیکن آئی پی پیز مافیا کو نوازا جارہا ہے، حکمرانوں کا اپنا پروٹوکول اور عیاشیاں بھی ختم نہیں کی جارہیں،کفایت شعاری کا درس دینے والے وزیراعظم کراچی میں تین گھنٹے کے لیے تشریف لائے،اور اپنے پروٹوکول میں 37گاڑیاں رکھیں، صدر زرداری نوابشاہ عید کی نماز پڑھنے 26گاڑیوں کے پروٹوکول میں گئے، انہوں نے کہا کہ ملک کی بڑی سیاسی پارٹیاں ن لیگ،پیپلز پارٹی اور پی ٹی آئی امریکہ واسرائیل اور ایران کی جنگ کے بارے میں اپنا موقف واضح کریں، ان میں کسی نے ابھی تک نام لے کر امریکہ اور اسرائیل کی مذمت نہیں کی،صرف ایران کی حمایت کردینا کافی نہیں ہے،امریکہ و اسرائیل کی کھل کر مذمت کی جائے،انہوں نے کہا کہ ریڈ لائن پروجیکٹ نے اہل کراچی کو مسلسل عذاب میں رکھا ہوا ہے، حالانکہ اس منصوبے کی کراچی کو کوئی ضرورت بھی نہیں تھی، سندھ حکومت اس کی جگہ پر ڈیڑھ دو ہزار بڑی بسیں لا سکتی تھی، 4 ارب روپے میں کریم آباد انڈر پاس کے نام پر دوپتلی گلیاں بنادی گئیں، 43ارب کے بجٹ کا سندھ سالڈ ویسٹ کا ادارہ مکمل ناکام ہوچکا ہے،پورا شہر کچرا کنڈی بناہوا ہے، زرداری ہاؤس سے بلاول ہاؤس تک کرپشن کا ایک دھندا چل رہا ہے، پورا سندھ سالڈ ویسٹ کرپشن کا ایک دھندا ہے، سندھ حکومت بتائے کہ کے فور منصوبے کی آگمینٹیشن کا کام مہینوں سے کیوں بند ہے؟کوئی بھی جماعت کراچی کو اون کرنے کے لیے تیارنہیں، کے فور جو وفاق نے اپنے ذمہ لیا تھاوہ اب تک کیوں نہیں بناہے، کے سی آر کا متعدد بار افتتاح کیاجاچکا ہے، گیارہ سال میں گرین لائن منصوبہ مکمل نہیں ہوسکا، حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ اسرائیل اور امریکہ نے پہلے غزہ میں دہشت گردی کی اور80ہزار فلسطینیوں کو شہید کیااور اب یہ دونوں مل کر ایران میں کارپیٹ بمباری کر رہے ہیں،سویلین آبادیوں کو بھی نشانہ بنایاجارہا ہے،ٹرمپ اور نیتن یاہو کا شیطانی گروہ ہے جس نے اپنی دہشت گردی کا آغاز ایران میں اسکول کے170 بچوں کو نشانہ بنا کر کیا، امریکہ میں اس وقت ایکسٹریم رجیم ہے جو بچوں کی بھی قاتل ہے،انہوں نے کہا کہٹرمپ خودکو ایک مزاحیہ اداکار کے طور پر پیش کرتا ہے کبھی ایک بیان تو کبھی دوسر ا بیا ن تاکہ اس کی سفاکی لوگوں کی نظر سے دور رہے، آبنائے ہرمز کے حوالے سے ایران نے پہلے ہی خبردار کیا تھاکہ اگر ہم پر حملہ کیاگیا تو ہم اسے بند کردیں گے، اور جہاں جہاں امریکی اڈے موجود ہیں وہاں ہم حملہ کریں گے، یہ ایران کا آئینی اور اخلاقی حق ہے، البتہ خلیجی ریاستوں سے تعلقات بہتر رہنے چاہیئں اور اس بات کا خیال رکھنا چاہیے کہ کسی بھی خلیجی ریاستوں کی سویلین آبادی پر حملہ نہ کیا جائے، ویسے بھی اسرائیل اور امریکہ چاہتے ہیں کہ فالس فلیگ آپریشن کے ذریعے ایران پر ایک نئی یلغارکی جائے،انہوں نے کہا کہ ہم پاکستان میں ان علماء کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں جنہوں نے اس وقت شیعہ سنی اختلاف سے باہر نکل کر اتحاد امت او ر ایران کی حمایت کی ہے، ان میں دیوبندی،بریلوی،اہلحدیث،شیعہ،سنی علماکرام شامل ہیں، ہم ان کی قدر کرتے ہیں لیکن اس موقع پر بعض عناصر ایسے بھی موجود ہیں جوفرقہ ورانہ اختلافات کو ہوا دے رہے ہیں اور ماضی کی باتیں نکال کر تعصب اور شیعہ سنی جھگڑا پیدا کرنے کی کوشش کررہے ہیں، ایسا کرکے وہ دین کی نہیں بلکہ امریکہ اور اسرائیل کی خدمت کررہے ہیں، اس موقع پر جو ایران کے خلاف محاذآرائی کرے گا وہ امریکہ ا ور اسرائیل کے ایجنٹ کا کردار اداکرے گا، لہٰذااس وقت علماء کرام کے معزز طبقے کی ذمہ داری ہے کہ وہ ایسے عناصر کو روکیں،منع کریں اور ان کو بے اثربھی کریں، اور ان پر یہ واضح کریں کہ اس وقت کوئی گروہی،مسلکی،فرقہ ورانہ بات نہیں کی جائے، حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ پاکستان میں تقریباََڈھائی کروڑ موٹر سائیکلیں ہیں ان میں سے ایک کروڑ بھی اگر روزانہ ایک لیٹر پیٹرول خرچ کرتی ہوں تو روزانہ ایک اعشاریہ دو ارب روپے حکومت پاکستان کو پیٹرول کی مد میں نہیں لیوی کی مد میں دیے جاتے ہیں، اس طرح سال میں ملک کا غریب طبقہ حکومت پاکستان کو 432ارب روپے ٹیکس ادا کررہا ہے، اس کے علاوہ دیگر ٹیکسز الگ ہیں، ملک میں گاڑیوں کی تعداد تقریباََ50لاکھ ہے، جس میں سے 40لاکھ وہ گاڑیاں ہیں جو 1200سی سی سے کم ہیں، یہ بھی اگر اوسطاََ3لیٹر بھی خرچ کرتے ہیں تو اس مد میں بھی حکومت کو تقریباََ 600ارب دیتے ہیں، خود حکومت پاکستان نے بتایا کہ پچھلے دوسال میں 2600ارب روپے پیٹرولیم کی لیوی پر حاصل کیا ہے، جس میں سے کم ازکم 1800ارب روپے وہ ہے جو غریب اور متوسط طبقے نے اداکیا ہے جبکہ ملک میں موجود جاگیرداروں نے چار،پانچ ارب روپے سے زیادہ ٹیکس ادا نہیں کیا ہے، پریس کانفرنس میں امیر کراچی منعم ظفر خان،رکن سندھ اسمبلی محمد فاروق، سیکریٹری اطلاعات زاہد عسکری اور نائب صدر پبلک ایڈ کمیٹی عمران شاہد بھی موجود تھے۔