حلقہ خواتین جماعت کی جانب سے کشمیری حریت پسند راہنما آسیہ اندرابی اور ان کی ساتھی خواتین کو دی گئی غیر قانونی سزا کے خلاف اسلام آباد میں احتجاجی مظاہرہ،
1گھنٹہ پہلے
حلقہ خواتین جماعت اسلامی پاکستان کی جانب سے کشمیری حریت پسند راہنما اور دختران کشمیر کی سربراہ آسیہ اندرابی اور ان کی ساتھی خواتین کو دی گئی غیر قانونی سزا کے خلا ف اسلام آباد میں احتجاجی مظاہرہ،
مظاہرین کا عالمی اداروں سے بھارت عدالت کے فیصلے کا نوٹس لینے کا مطالبہ۔
احتجاجی مظاہرے میں خواتین کی بڑی تعداد میں شرکت۔
مقررین کا کہنا تھا کہ حریت پسند خواتین کو دی جانے والی یہ سزا غیر قانونی اور غیر اخلاقی ہے۔
حلقہ خواتین جماعت اسلامی پاکستان نے کے زیر اہتمام نیشنل پریس کلب اسلام آباد کے باہر دختران کشمیر کی سربراہ آسیہ اندرابی اور ان کی ساتھی خواتین کو بھارتی عدالت سے سنائی گئی سزاؤں کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا گیا، مظاہرے میں خواتین نے بڑی تعداد میں شرکت کی، احتجاجی مظاہرے سے امیر جماعت اسلامی اسلام آباد نصراللہ رندھاوا، شعبہ خواتین جماعت اسلامی پاکستان کی ڈپٹی سیکرٹریز عائشہ سید، عفت سجاد، مقبوضہ کشمیر سے حریت رہنما شمیم شال، شعبہ خواتین اسلام آبادکی رہنما قدسیہ ناموس، سابق ممبر قومی اسمبلی بلقیس سیف، رکن مرکزی شوری زبیدہ خاتون اور جماعت اسلامی اسلام آباد کے سیکرٹری جنرل زبیر صفدر نے بھی خطاب کیا۔ اپنے خطاب میں انجنیئر نصراللہ رندھاوا نے کشمیری حریت پسند عوام اور رہنماؤں کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ یہ جدوجہد آزادی کشمیری عوام کا بنیادی حق ہے۔ انہوں نے اس غیر منصفانہ سزا کو مسترد کرتے ہوئے بھارت کے ظالمانہ اقدامات کی مذمت کی اور ان مظلوم رہنماؤں کے حقوق کے لئے آواز بلند کی۔
انہوں نے کہا کہ یہ بات انتہائی افسوسناک ہے کہ بھارتی حکومت اپنے ظلم اور جابرانہ پالیسیوں کے ذریعے کشمیریوں کی آزادی کی آواز کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔ آسیہ اندرابی اور ان کی ساتھی خواتین کی سزا اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ بھارت کشمیری عوام کی جائز حق آزادی کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔بھارتی ظالم حکومت نے کشمیری حکومت کا جیلوں میں بند کر رکھا ہے، آسیہ اندرابی اور ان کی ساتھی پوری دنیا کی خواتین کیلیے مثال ہیں، کشمیر کی تحریک میں خواتین کا سب سے اہم کردار ہے، کشمیر تقسیم برصغیر کا ایک نامکمل ایجنڈا ہے، کشمیری کبھی بھی بھارت کے تسلط کوقبول نہیں کریں گے، نصراللہ رندھاوانے کہا کہ پاکستان کیعوام کشمیر کو پاکستان کا حصہ سمجھتے ہیں، جنگ بندی لائن کو شملہ معاہدیکے اندر کنٹرول لائن تسلیم کرناسب سیبڑاظلم تھا، آرٹیکل 70 کو حکومت پاکستان کے ٹھنڈے پیٹوں تسلیم کیا، ہمیں یقین ہے کہ ایک دن کشمیر میں آزادی کا سورج ضرور طلوع ہو گا، اقوام متحدہ کا آئین کشمیریوں کو مسلح جدوجہد کا حق دیتاہے، اپنی شہہ رگ دشمن کے قبضے میں دیں گے توپاکستان بنجر ہو جائے گا،
عائشہ سید نے کشمیری رہنما یاسین ملک اور دیگر کشمیری قائدین کی غیر قانونی سزا کی بھی بھرپور مذمت کی اور اس عزم کا اعادہ کیا کہ ان حریت پسند رہنماؤں کی اخلاقی اور سفارتی حمایت جاری رکھی جائے گی۔
حلقہ خواتین جماعت اسلامی پاکستان کی رہنماؤں نے عائشہ سید اور عفت سجاد نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پوری دنیا میں عورت کے خلاف ہونے والے ظلم اور حق تلفی پر جماعت اسلامی سر گرم عمل رہتی ہے اور کشمیر تو پاکستان کی شہ رگ ہے یہاں جاری جدوجہد آزادی کی حمایت میں جماعت اسلامی ہمیشہ کشمیری عوام کے ساتھ کھڑی ہے-انہوں نے حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا کہ وہ کشمیری رہنماؤں کی رہائی کے لیے سفارتی سطح پر موثر اقدامات کرے اور اقوام عالم سے یہ اپیل کی کہ وہ بھارت پر دباؤ ڈالیں تاکہ کشمیری عوام کو اپنے جائز حقوق حاصل ہوں۔
مقررین نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ ہمیشہ کشمیری عوام کے حقِ آزادی کی حمایت جاری رکھیں گے اور عالمی سطح پر کشمیر کے مسئلے کو اجاگر کریں گے تاکہ کشمیریوں کو ان کا حق خود ارادیت مل سکے۔


