News Detail Banner

سرکاری ملازمین کے مطالبات نہ مانے گئے تو احتجاج کا دائرہ کار وسیع ہوجائے گا، حافظ نعیم الرحمن

2گھنٹے پہلے

سرکاری ملازمین کے مطالبات نہ مانے گئے تو احتجاج کا دائرہ کار وسیع ہوجائے گا، حافظ نعیم الرحمن

صوبائی وزرائ پر مشتمل کمیٹی احتجاج کرنے والے ملازمین سے فوری مذاکرات کرے

امیر جماعت اسلامی کی سول سیکرٹریٹ کے سامنے مظاہرین کے دھرنا میں شرکت، مکمل تعاون کی یقین دہانی

لاہور: 17فروری 2026 ء
امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے پنجاب حکومت کو خبردار کیا ہے کہ سرکاری ملازمین کے جائز مطالبات فوری طور پر تسلیم کیے جائیں، بصورت دیگر احتجاج کا دائرہ مزید وسیع ہو جائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ جماعت اسلامی سرکاری ملازمین کے احتجاج کی مکمل حمایت کرتی ہے اور ان کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔
امیر جماعت اسلامی سول سیکرٹریٹ لاہور کے باہر مطالبات کے حق میں دھرنا دینے والے سرکاری ملازمین سے اظہارِ یکجہتی کے لیے احتجاجی کیمپ میں پہنچے اور شرکائ سے خطاب کیا۔ حافظ نعیم الرحمن نے زور دیا کہ پنجاب حکومت بااختیار صوبائی وزرائ پر مشتمل کمیٹی تشکیل دے جو مظاہرین سے مذاکرات کرے اور بعد میں مظاہرین کے وفد کی وزیراعلیٰ پنجاب سے ملاقات کا بندوبست کیا جائے۔ سابقہ میٹنگ میں طے ہونے والے معاملات کو قبول کیا جائے۔ امیر جماعت اسلامی صوبہ پنجاب وسطی جاوید قصوری ، امیر لاہور ضیا الدین انصاری اور صدر نیشنل لیبر فیڈریشن شمس الرحمن سواتی بھی اس موقع پر موجود تھے۔
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ اقتدار میں بیٹھے لوگ ایسا ماحول بنا رہے ہیں جیسے پنجاب میں دودھ اور شہد کی نہریں بہہ رہی ہوں، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ گریڈ ایک سے گریڈ 22 تک کے سرکاری ملازمین کے ساتھ ناروا سلوک کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملازمین کی لیو انکیشمنٹ (leave encashment) پنشن اور دیگر مراعات ختم کی جا رہی ہیں جو سراسر ناانصافی ہے۔
حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی جماعتوں کے بجائے خاندانوں کے نام ہیں، جبکہ عوام کے مسائل سے ان کا کوئی تعلق نہیں۔ انہوں نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز سے سوال کیا کہ صوبے میں ایک کروڑ سے زائد بچے اسکولوں سے باہر کیوں ہیں اور کم عمر بچے مزدوری پر مجبور کیوں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اپنی ذمہ داریوں سے جان چھڑا کر اداروں کو نجی شعبے کے حوالے کر رہی ہے، جبکہ بنیادی صحت مراکز چلانا حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہے۔
انہوں نے کہا کہ تعلیم کا نظام تباہ کر دیا گیا ہے اور غریب و امیر کے لیے الگ الگ معیار کی تعلیم قائم ہو چکی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ فارم 47 کے ذریعے اقتدار میں آنے والی حکومت نے گڈ گورننس کے دعوئوں کے باوجود عوام اور ملازمین کو مایوس کیا ہے۔ سول سیکرٹریٹ کے سامنے ماؤں اور بہنوں کا دھرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ پنجاب حکومت مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے۔
امیر جماعت اسلامی نے واضح کیا کہ سرکاری ملازمین کی پنشن میں کسی قسم کی کٹوتی قابل قبول نہیں اور ان کے تمام جائز مطالبات کی بھرپور حمایت کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ یہ صرف سرکاری ملازمین کا نہیں بلکہ ہر محنت کش کا مسئلہ ہے، اس لیے جماعت اسلامی احتجاج کے تسلسل میں مظاہرین کے ساتھ کھڑی رہے گی۔ انہوں نے کسانوں کے مسائل پر بھی بات کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب حکومت کسانوں کے ساتھ ظلم کر رہی ہے، گندم کی قیمت مقرر کرنے کے بعد خریداری روک دی جاتی ہے اور کسان سے 2100 روپے من گندم خرید کر 6000 روپے من فروخت کی جاتی ہے، جو کھلی لوٹ مار ہے۔
حافظ نعیم الرحمن نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ احتجاجی مظاہرین سے فوری مذاکرات کر کے مسئلہ حل کیا جائے، بصورت دیگر اگر کسی قسم کی کارروائی کی گئی تو جماعت اسلامی سرکاری ملازمین کے شانہ بشانہ کھڑی ہو گی اور احتجاج کا دائرہ پورے صوبے میں پھیلایا جائے گا۔