قرآنِ مجید محض عبادات کی کتاب نہیں بلکہ ایک مکمل ضابطہ حیات ہے،حافظ نعیم الرحمن
2گھنٹے پہلے
قرآنِ مجید محض عبادات کی کتاب نہیں بلکہ ایک مکمل ضابطہ حیات ہے،حافظ نعیم الرحمن
قرآن کے نظام کو گھروں، تعلیمی اداروں، معاشرے اور ریاستی سطح پر نافذ کرنے کی جدوجہد ہی اصل کامیابی کی ضمانت ہے،امیر پاکستان
قرآنِ مجید سے دوری کے باعث امت مسلمہ زوال کا شکارہے،ہم قرآن کو اپنی انفرادی و اجتماعی زندگی کا مرکز بنائیں،ناظمہ کراچی جاوداں فہیم
امیر جماعتِ اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے قرآن انسٹیٹیوٹ کی نئی عمارت کے افتتاح کے موقع پر اس کے قیام کو ایک اہم فکری و تربیتی سنگِ میل قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ قرآنِ مجید محض عبادات کی کتاب نہیں بلکہ ایک مکمل ضابطہ حیات ہے، جس پر عمل کیے بغیر معاشرتی و اخلاقی اصلاح ممکن نہیں۔ انہوں نے کہا کہ قرآن کے نظام کو گھروں، تعلیمی اداروں، معاشرے اور ریاستی سطح پر نافذ کرنے کی جدوجہد ہی اصل کامیابی کی ضمانت ہے۔حافظ نعیم الرحمن نے مزید کہا کہ قرآن انسٹیٹیوٹ برائے خواتین، قرآن کو ترجمہ و تفسیر کے ساتھ سمجھنے، اس پر عمل کرنے اور اسے معاشرے تک پہنچانے کے لیے ایک مضبوط پلیٹ فارم فراہم کرے گا۔ انہوں نے انسٹیٹیوٹ کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ خواتین قرآن کی تعلیمات کو معاشرے میں عام کرنے میں کلیدی کردار ادا کر سکتی ہیں اور یہ ادارہ اس حوالے سے ایک مؤثر ذریعہ ثابت ہوگا۔ ناظمہ حلقہ خواتین جماعتِ اسلامی کراچی جاوداں فہیم نے کہا کہ قرآن انسٹیٹیوٹ کا قیام خواتین میں دینی شعور، فکری تربیت اور اخلاقی اصلاح کے فروغ کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ انہوں نے کہا کہ قرآنِ مجید سے دوری کے باعث امت مسلمہ زوال کا شکار ہوئی ہے اور اب وقت آ گیا ہے کہ ہم قرآن کو اپنی انفرادی و اجتماعی زندگی کا مرکز بنائیں۔جاوداں فہیم نے مزید کہا کہ حلقہ خواتین قرآن کی تعلیم و تربیت کو عام کرنے کے لیے شہر بھر میں دورہ قرآن، تربیتی نشستوں اور فکری پروگراموں کا انعقاد کر رہا ہے، تاکہ خواتین قرآن کی روشنی میں اپنے گھروں، معاشرے اور آنے والی نسلوں کی تربیت کر سکیں۔ انہوں نے دعا کی کہ یہ ادارہ دین کی خدمت اور معاشرے کی اصلاح میں مؤثر کردار ادا کرے۔تقریب میں خواتین کی بڑی تعداد شریک تھی، جنہوں نے قرآن انسٹیٹیوٹ کے قیام کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے اسے فکری و روحانی تربیت کا ایک اہم مرکز قرار دیا۔ افتتاحی تقریب میں ناظمہ صوبہ سندھ رخشندہ منیب، ناظمہ ضلع قائدین نزہت ذاکر، پرنسپل قران انسٹیٹیوٹ کیمپس1 روبینہ سلیم و دیگر بھی موجود تھیں۔


