News Detail Banner

انصاف کے اداروں پر حیرانی ہے کہ جیسے ہی کوئی اقتدار میں آتا ہے اس کے سارے گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔سراج الحق

11مہا پہلے

لاہور11 جولائی 2023ئ

امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہا ہے کہ اقتدار کی بندربانٹ، ایک دوسرے کو راضی کرنے کی بجائے غریبوں کے مسائل حل کیے جائیں۔ مہنگائی کے خلاف دھرنے دینے والے آج خاموش ہیں، 13سیاسی جماعتیں 15مہینوں میں ایک شعبے میں بھی بہتری نہ لاسکیں۔ سیاست چند خاندانوںکے گرد گھومتی ہے، فیصلے ملک سے باہر ہوتے ہیں، اسمبلیاں ربڑ سٹمپ ،کوئی آئین کی حکمرانی کے لیے تیار نہیں،حالات اسی طرح رہے تو جمہوریت مستحکم ہو گی نہ ملک آگے بڑھ سکے گا۔انتخابات صاف اور شفاف نہ ہوئے تو نتائج کوئی تسلیم نہیں کرے گا۔

منصورہ میں وفود سے گفتگو کرتے ہوئے سراج الحق نے کہا کہ انصاف کے اداروں پر حیرانی ہے کہ جیسے ہی کوئی اقتدار میں آتا ہے اس کے سارے گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔ انصاف اور احتساب نہیں چل چلاﺅ اور جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا نظام ہے۔ 24کروڑ عوام کا ملک ایڈہاک ازم کی بنیاد پر چل رہا ہے۔ حکمران سیاسی جماعتوں نے جمہوریت کا لبادہ اوڑھ رکھا ہے۔ پی ڈی ایم ، پیپلز پارٹی اور پی ٹی آئی ناکام ہوگئیں، قوم نے سب کو آز ما لیا، 75برسوں میں تمام تجربات ہوئے، عوام کی حالت نہیں بدلی، ملک قرضوں کے پہاڑ کے نیچے ہے ، آنے والی نسلیں بھی مقروض ہوگئیں۔ وسائل پر دو فیصد اشرافیہ قابض ہے، حکمرانوں نے مال بنایا، آف شور کمپنیوں کے ذریعے بیرون ملک جائیدادیں خریدی گئیں، پاناما لیکس اور پنڈوراپیپرز میں سبھی حکمران جماعتوں میں شامل افراد کے نام آئے، بنکوں سے قرضے لے کر معاف کروائے گئے، نیب کی فائلوں میں حکمرانوں کی کرپشن کی داستانیں ہیں، کسی کو کوئی نہیںپوچھتا، غریب فاقوں مر رہے ہیں، اسی فیصد آبادی مضر صحت پانی پینے پر مجبور ہے ، لاکھوں نوجوان ملک چھوڑ گئے ، لاکھوں بے روزگار ہیں، اب ملک کو اسلامی نظام ہی بچا سکتا ہے، جماعت اسلامی قرآن کے نظام کے لیے جدوجہد کررہی ہے، اسی مقصد کے لیے پاکستان آزاد ہوا۔

امیر جماعت نے کہا کہ قوم نے اپنی تقدیر کا فیصلہ خودکرنا ہے، آزمائے ہوئے چہروں کو مزید نہ آزمایا جائے، لوگ ووٹ کی طاقت سے ظالموں اور لٹیروں کا احتساب کریں، یہ ملک شہزادے اور شہزادیوں کی حکمرانی کے لیے نہیں بنا، عام پڑھے لکھے شخص کو اسمبلیوں میں ہونا چاہیے، نام نہاد جمہوری حکومتوں اور فوجی مارشل لاز کی وجہ سے وسائل سے مالا مال ملک کا ہرشعبہ تباہ ہوگیا، ریاستی وسائل کو بے دردی سے لوٹا گیا، کرپشن نے ملک کی جڑیں کھوکھلی کیں، سود نے معیشت تباہ کردی، حکمران جماعتوں کی مفادات کی لڑائی میں عوام رل گئے، اقتدار پر مسلط لوگ ایک ہی طرح کے ہیں، ظالم جاگیرداروں اور کرپٹ سرمایہ داروں کو عوام کی پروا نہیں۔ کرپٹ نظام اور اس کے پہرے داروں سے جان چھڑانا ہوگی، جمہوری ،پرامن جدوجہد اورووٹ کی طاقت سے ہی حقیقی تبدیلی آئے گی، نوجوان اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کرےں، خوف صرف اللہ تعالیٰ کا ہونا چاہیے، حق کے لیے کھڑا ہونا اصل جہاد اور سالوں کی عبادت سے بہتر ہے۔ حضور کی سب سے بڑی سنت اللہ کے دین کی سربلندی کے لیے جدوجہد کرنا ہے۔ دین آئے گا تو خوشحالی آئے گی، اسلام انسانیت کی بھلائی کی ضمانت ہے۔ انھوں نے کہا کہ قوم جماعت اسلامی کے ساتھ تعاون کرے، بہتری کا واحد آپشن جماعت اسلامی ہے جو اقتدار میں آ کر پاکستان کو کرپشن فری اسلامی فلاحی ریاست بنائے گی۔