News Detail Banner

قرضوں سے معیشت چلانے اور سودی نظام جاری رکھنے پر پی ڈی ایم، پیپلز پارٹی اور پی ٹی آئی ایک پیج پر ہیں۔سراج الحق

11مہا پہلے

لاہور09 جولائی 2023ء

امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہا ہے کہ قرضوں سے معیشت چلانے اور سودی نظام جاری رکھنے پر پی ڈی ایم، پیپلز پارٹی اور پی ٹی آئی ایک پیج پر ہیں۔ موجودہ حکومت میں شامل مذہبی جماعتیں بھی سودی نظام پر خاموش ہیں، ملک میں شرح سود دنیا میں سب سے زیادہ ہے، حکومت پندرہ مہینوں میں ایک وعدہ پر بھی عمل نہیں کرسکی۔ کرپشن، مہنگائی، بے روزگاری کا طوفان جاری ہے۔ حکمرانوں نے آئندہ نسلوں پر بھی قرضوں کا کوہ ہمالیہ لاد دیا۔ پرویز مشرف نے پیسے لے کر ڈاکٹر عافیہ کو امریکہ کے حوالے کیا، نام نہادجمہوری حکمرانوں کے دور میں ایمل کانسی اور یوسف رمزی کو فروخت کیاگیا۔ غلام اور بزدل حکمران ایک دفعہ بھی امریکہ سے ڈاکٹر عافیہ کی رہائی کی بات نہیں کرسکے۔ کشمیر پر پسپائی اختیار کرنے والے ملک کے خیرخواہ نہیں ہوسکتے، حکمرانوں نے ملک کے نظریے اور جغرافیے کو نقصان پہنچایا۔ ہم جنس پرستی کا ٹرانس جنیڈر قانون بنانے میں تمام حکمران جماعتوں کی مرضی شامل تھی۔ کئی اسلامی ممالک نے سویڈن سے سفارتی تعلقات ختم کیے، پاکستان کی حکومت نے احتجاجی جلسہ کردیا، حکومتی اقدامات سے مطمعئن نہیں، قرآن کریم کی بے توقیری برداشت نہیں کریں گے، اسلام کی عظمت کے تحفظ کے لیے کوئی قربانی دینے سے گریز نہیں کریں گے، سویڈن کے سفیر کو ملک بدر کیا جائے، سٹاک ہوم سے پاکستانی سفیر واپس بلایا جائے، او آئی سی سویڈن کا معاشی بائیکاٹ کرے، اقوام متحدہ تکریم مذاہب کا قانون پاس کرے۔ جماعت اسلامی اسلام اور پاکستان پر کسی کمپرومائز کے لیے تیار نہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ڈیرہ اسمعیل خان میں ورکرز کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی خیبر پختو نخواہ عبد الواسع، امیر ضلع ڈیرہ اسمعیل خان محمد منتظر،نائب امیر جماعت اسلامی کے پی کے محبوب جانان،اور اعجاز اعوان رہنما جماعت اسلامی ڈیرہ اسمعیل خان بھی موجود تھے۔

سراج الحق نے کہا کہ پی ٹی آئی کے خلاف عدم اعتماد کے موقع پر پی ڈی ایم اور پیپلز پارٹی کی جانب سے اتحاد کی پیشکش کے جواب میں واضح کیا تھا کہ جماعت اسلامی کسی ایسی حکومت یا تحریک کا حصہ نہیں بن سکتی جو ملک میں اسلامی نظام کے لیے نہ ہو۔ موجودہ اور سابقہ حکمران جماعتیں سٹیٹس کو کا تسلسل ہیں۔ ہمارا مقصد ملک کو قرآن کا نظام دینا ہے، ہم عدالتوں میں اللہ کی کتاب کے مطابق فیصلے چاہتے ہیں۔ ملک پر مسلط ظالم جاگیرداراور کرپٹ سرمایہ دار عام فرد کی ترقی نہیں چاہتے، ان کی وجہ سے آدھی آبادی غربت کی لکیر سے نیچے ہیں، تین کروڑ بچے سکولوں سے باہر ہیں، حکمرانوں کی جائیدادوں میں اضافہ ہورہا ہے، عوام کو صاف پانی دستیاب نہیں۔ فرسودہ نظام اور اس کے پہرے دار برقرار رہے تو ملک میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی، پی ڈی ایم، پیپلز پارٹی اور پی ٹی آئی کی آنیاں جانیاں لگی رہیں تو عوام خوشحال نہیں ہوں گے، قوم ووٹ کی طاقت سے اپنی تقدیر بدلے، اہل اور ایماندار لوگوں پر اعتماد کیا جائے۔ جماعت اسلامی اقتدار میں آکر تعلیم، صحت، تھانہ کچہری کے موجودہ فرسودہ نظام میں انقلابی تبدیلیاں لائے گی، وسائل کو عوام پر خرچ کریں گے، جن کے نام پانامہ لیکس اورپنڈورا پیپرز میں آئے وہ کرپشن ختم نہیں کرسکتے، کرپشن فری جماعت صرف جماعت اسلامی ہے۔

امیر جماعت نے کہا کہ حکمران خاندان سات دہائیوں سے قوم کو دھوکہ دیتے آئے ہیں، ان پر مزید اعتماد کرنا آنے والی نسلوں کو بھی استعمار کی غلامی میں دینے کے مترادف ہے۔ استحصالی نظام کا خاتمہ نہ ہوا تو ملک کو ناقابل تلافی نقصان پہنچے گا۔ قوم کی تقدیر اس کے اپنے ہاتھ میں ہے، سانپوں کو دودھ پلانا بند کرنا ہوگا، یہ اژدھے بن کر ملک کو ہی کھا جائیں گے۔ حقیقی جمہوریت کے لیے حقیقی جمہوری جماعت کوموقع دیا جائے۔ آنے والا الیکشن فیصلہ کن ہوگا، عوام ظالموں اور لٹیروں کے کڑے احتساب کے لیے جماعت اسلامی سے تعاون کریں۔