صنعت و مزدور

  • حقیقی صنعتی ترقی کے لیے مؤثر منصوبہ بندی، کاٹیج اور ایگرو بیسڈ انڈسٹری کا فروغ ۔
  • قومی اداروں کی نج کاری سے گریز اور انھیں نفع بخش بنانے کے اقدامات۔
  • درآمدات اور برآمدات میں توازن قائم کرنا بالخصوص برآمدی صنعت پر سے غیر ضروری ٹیکسوں اور ڈیوٹیوں کا خاتمہ۔اشیائے تعیش کی درآمدات پر پابندی ۔
  • سی پیک کے تحت قائم ہونے والے 129 انڈسٹریل زونز کے ذریعہ بے روزگار نوجوانوں کے روز گار کا بندوبست۔
  • زرعی صنعت اور ڈیری فارمنگ کا فروغ۔
  • ہنر مند پاکستان اسکیم کے تحت نچلی سطح تک سکل ڈیویلپمنٹ سنٹرز کا قیام۔
  • مزدوروں کے کارخانوں میں حصہ کو یقینی بنانا، ان کے روزگار کا تحفظ، یونین سازی کا حق، تالہ بندی اور چھانٹیوں سے نجات۔
  • مزدوروں کی تنخواہوں اورمراعات میں مہنگائی کی شرح کے مطابق اضافہ، صنعتی اداروں میں ٹھیکیداری نظام کا خاتمہ۔
  • سوشل سیکورٹی اسکیم کے دائرہ کار میں وسعت۔


آئی ایل او اور دیگر مزدور دوست عالمی معاہدات کی پاسداری۔


اولڈ ایج پنشن میں مہنگائی کے تناسب سے اضافہ۔