مختلف دفعات کی تعبیرات و توضیحات از مجلس ِ شوریٰ

ضمیمہ نمبر۴

مختلف دفعات کی تعبیرات و توضیحات از مجلس ِ شوریٰ


۱۔ تعبیر دفعہ نمبر۱۷(۷)

منصب امارت کے عارضی خلا کو عارضی تقرر سے پُر کیا جاسکتا ہے۔ اور عارضی تقرر کی میعاد اس خلا کی میعاد تک ہی ہوگی۔ جونہی خلا کی علت دُور ہوگی عارضی خلا اسی وقت از خود پُر ہو جائے گا۔ (ستمبر ۱۹۷۳ء)

۲۔تعبیر دفعہ نمبر۷۲

ضلعی مجلس ِ شوریٰ کے انتخاب کے موقع پر کل نشستوں کو تحصیل وار تقسیم کرکے‘ تحصیلوں پر مشتمل انتخابی حلقے قائم کرکے انتخاب کرایا جاسکتا ہے۔ (نومبر ۱۹۷۴ء)

۳۔ تعبیر دفعہ نمبر۸۸

خواتین ارکان کا نظام مردوں کے نظم سے الگ ہونے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ مجلس ِ شوریٰ کے سابقہ فیصلوں کی روشنی میں کسی مقام کی خواتین ارکان کو مردوں کی مقامی جماعت کے انتخاب میں رائے دہی کا جو حق حاصل ہے وہ حق انھیں حاصل نہ رہے۔ بلکہ مجلس ِ شوریٰ کے نزدیک خواتین ارکان کو مقامی امارت کے انتخاب کے سلسلے میں رائے دہی کا حق درست طور پر حاصل ہے البتہ اگر وہ یہ حق استعمال نہ کریں تو ان سے باز پُرس نہ ہوگی۔ (جنوری ۱۹۷۸ء)

۴۔ توضیح دفعہ نمبر۹۰

کسی رکن کی رکنیت کو معطل کرنے کے احکام جاری کرنے کے بعد متعلقہ امیر بلا تاخیر معاملے کو ضروری تفصیلات کے ساتھ منظوری کے لیے امیر جماعت کے پاس بھیج دے گا۔ امیرجماعت اگر محسوس کرے کہ تعطل کے لیے کافی وجہ موجود نہیں ہے یا تحقیقات کے بعد

رکن مذکور کے خلاف عائد کردہ الزام غلط ثابت ہو تو امیر جماعت اس کی رکنیت بحال کردے گا۔ (جون۱۹۵۴ء)

رکنیت سے اخراج یا تادیبی معطلی کا ضابطہ یہ ہے کہ اس کی رپور ٹ کرنے سے قبل ضلعی امیر اس رکن کو اظہار وجوہ کانوٹس دے گا اور اگر مذکورہ رکن کی وضاحت قابل قبول نہ ہو تو اخراج یا تادیبی معطلی کی سفارش نظم بالا کو بھیجی جاسکے گی۔ امیرضلع کو یہ اختیار بھی حاصل ہے کہ اخراج یا تادیبی معطلی کی سفارش کے ساتھ اگر ضروری سمجھے تو اس شخص کی رکنیت کو عارضی طور پر معطل کرسکتاہے۔ اس معطلی سے پہلے بھی عام حالات میں اظہار وجوہ کانوٹس دینا ،جواب یا وضاحت حاصل کرنا، قرین انصاف ہے۔ رکنیت کی معطلی کم سے کم عرصے کے لیے ہونی چاہیے اور اس عرصے کو معقول حد سے زیادہ طویل نہیں ہونا چاہیے۔ (دسمبر۲۰۱۹ء)

رکنیت سے استعفیٰ کی منظوری کا ضابطہ

مقامی جماعت سے متعلق کوئی رکن اگر رکنیت سے استعفیٰ دینا چاہے تو اسے اپنا استعفیٰ مقامی امیر جماعت کو پیش کرنا چاہیے جو اپنی رائے کے ساتھ امیر ضلع کو بھیجے گا اور امیر ضلع اپنی سفارش کے ساتھ امیر صوبہ کو بھیج دے گا۔ امیر صوبہ استعفیٰ منظور یا نامنظور کرنے کا مجاز ہے۔ اس فیصلے کے خلاف امیر جماعت کے پاس اپیل کی جاسکتی ہے۔ منفرد رکن اپنا استعفیٰ امیر ضلع کو بھیج دے گا جواپنی سفارش کے ساتھ امیر صوبہ کو منظوری کے لیے بھیج دے گا۔ (جنوری ۱۹۸۶ء)

اخراج یامستعفی شدہ رکن کی دوبارہ رکنیت کی منظوری کا ضابطہ

اخراج یا مستعفی شدہ رکن کی دوبارہ درخواست رکنیت کی منظوری امیر جماعت دیں گے۔ امیرصوبہ بھی امیر ضلع کی طرح سفارش امیر جماعت کو بھیجے گا۔ (جنوری ۲۰۰۳)

۵۔ توضیح دفعات نمبر۴۰‘۵۴‘۶۸‘اور ۸۲

’’تحریکی مصالح کے پیش نظر صوبہ ، حلقہ،ضلعاورمقام کی سطح پر اہتمام کیا جائےکہ ایک رکن جماعت کا بحیثیت امیر/ناظمہ تقرر، تسلسل کے ساتھ زیادہ سے زیادہ تین بار ہو البتہ ایک مدت کے فصل کے بعد جو امیر/ناظمہ پہلے ہی ذمہ دار کی تین میقات پوری کرچکا/ چکی ہو، اسے ایک بار پھرمقرر کیا جاسکتا ہے۔ یہ پالیسی کے عام خطوط کار ہوں گے۔ البتہ اگر کسی جگہ متبادل انتظام ممکن نہ ہوسکے تو امیر جماعت کی اجازت سے ایک ہی رکن جماعت کو بار بار ذمہ داری سونپنے کی گنجائش ہوگی۔‘‘  (اگست۲۰۱۹ء)

۶۔ توضیح دفعہ۲۱(۲ ب)

ہر سطح کے نظم کے نائب امیر/ نائب امراء بر بنائے عہدہ اسی سطح کی مجلس ِ شوریٰ کے رکن قرار پائیں گے اور شوریٰ کے رکن کا حلف بھی لیں گے۔ (دسمبر۱۹۶۹ء)

 ۷۔ توضیح د فعات ۶۲(ب) و ۷۷(ب)

حلقے اور ضلع کی مجالس شوریٰ کے اجلاس طلب کرنے کے لیے بالترتیب ۳ اور ۲ ارکان کے تحریری مطالبے کے بجائے ایک چوتھائی ارکان کا تحریری مطالبہ ضروری ہوگا۔ (دسمبر۱۹۹۴ء)

٭…٭…٭